Translate

‏سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

صندل کی کاشت: اربوں روپے کا خواب یا سائنسی حقیقت؟ پاکستان میں اقتصادی امکانات اور ماحولیاتی چیلنجز کا جائزہ

 سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں صندل کے درختوں کی کاشت کے متعلق ایک گرما گرم بحث چل رہی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک ایکڑ زمین پر 400 صندل کے درخت لگا کر کوئی بھی شخص لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کما کر امیر بن سکتا ہے۔ چونکہ یہ ایک غیر معمولی دعویٰ ہے، لہٰذا اس کی سائنسی بنیادوں اور زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا واقعی پاکستان میں صندل کی کاشت اتنی منافع بخش اور ماحولیاتی طور پر موزوں ہے؟

صندل کے پودے (Santalum album) کی خصوصیات

صندل (انڈین صندل ووڈ) ایک ہمیشہ ہرا (evergreen) اور سست بڑھنے والا درخت ہے، جو ایک نیم پیراسائٹک (hemiparasitic) پودا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا، خاص طور پر بھارت اور آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے، اور پاکستان میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ بالغ درخت کی خصوصیات مختلف حالات پر منحصر ہوتی ہیں، لیکن عام طور پر درج ذیل ہیں۔ نوٹ: وزن کی بجائے لکڑی کی کثافت (density) زیادہ اہم ہے، کیونکہ درخت کا کل وزن تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

قد (Height)

بالغ درخت کی اونچائی عام طور پر 4 سے 9 میٹر (13 سے 30 فٹ) ہوتی ہے۔

بھارت جیسے علاقوں میں یہ 20 میٹر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ آسٹریلیا میں صرف 4 میٹر تک محدود رہتا ہے۔

تراش (girth): 2.4 میٹر تک، تنے کی قطر 10-15 سینٹی میٹر (4-6 انچ)۔

وزن (Weight)

درخت کا کل وزن براہ راست بیان نہیں کیا جاتا، کیونکہ یہ عمر، ماحول اور نشوونما پر منحصر ہے۔ تاہم، دل کی لکڑی (heartwood) کی کثافت 0.85 سے 0.95 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر ہوتی ہے، جو اسے مضبوط اور قیمتی بناتی ہے۔

ایک بالغ درخت سے 15-25 کلو دل کی لکڑی نکل سکتی ہے، جو کل وزن کا اہم حصہ ہے (قیمت کی وجہ سے)۔


صندل کے درخت میں قیمتی چیز

صندل کے درخت (Santalum album) میں اصل قیمتی چیز دل کی لکڑی (heartwood) ہے، جو درخت کے اندرونی مرکزی حصہ ہوتی ہے۔ یہ لکڑی اپنی مخصوص خوشبو اور تیل کی وجہ سے انتہائی قیمتی ہوتی ہے، جو عطر، ادویات، مذہبی رسومات اور کاسمیٹکس میں استعمال ہوتی ہے۔ دل کی لکڑی میں سنٹالول (santalol) نامی تیل پایا جاتا ہے، جو 90% تک اس تیل کا حصہ ہوتا ہے، اور یہ تیل کی مقدار 2-6.2% تک ہو سکتی ہے۔

مقدار (Quantity)

دل کی لکڑی کی مقدار درخت کی عمر، دیکھ بھال، ہوسٹ پودوں اور ماحول پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر:

15-20 سال کی عمر میں: ایک درخت سے 12-20 کلوگرام دل کی لکڑی مل سکتی ہے (کل وزن 120-180 کلوگرام ہوتا ہے، جس میں سے 10-15% heartwood)۔ اس سے تیل کی مقدار 0.24-1.24 کلوگرام (2-6%) ہو سکتی ہے۔

25-30 سال کی عمر میں: 20-50 کلوگرام تک، خاص طور پر اچھی حالت میں (کچھ ذرائع میں 300-500 کلوگرام کا دعویٰ ہے، لیکن یہ نایاب اور مبالغہ آمیز ہے)۔


غیر مقامی درخت اور ابتدائی کامیابی

ضلعی فارسٹ آفیسر (ڈی ایف او) جہلم کے مطابق، صندل بنیادی طور پر ہمارا مقامی پودا نہیں ہے۔ یہ درخت انڈیا، سری لنکا، اور ملائیشیا جیسے ملکوں کا ہے۔ تاہم، پاکستان میں اس کی کامیابی کے ابتدائی اشارے ملتے ہیں۔ 1985 میں کراچی میں کی گئی ایک ریسرچ نے یہ ثابت کیا تھا کہ صندل کا درخت پاکستان کی سر زمین پر 'بطور درخت کامیاب ہے'۔

اقتصادی امکانات اور 'اربوں' کا دعویٰ

اگرچہ کروڑوں یا اربوں روپے کمانے کے دعوے گردش کر رہے ہیں، سائنسی مطالعہ اس کی تائید نہیں کرتا۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار کے حساب سے، ایک صندل کا درخت 15 سے 20 سالوں کے عرصے میں پاکستانی کرنسی میں تقریباً 10 سے 15 لاکھ روپے کی پیداوار دے سکتا ہے۔

اگر یہ حساب درست بھی مانا جائے، تب بھی ایک ایکڑ پر 400 درخت لگانے سے کل آمدنی تقریباً 30 سے 40 کروڑ روپے ہو گی، جو ایک بہت بڑی رقم ہے مگر اربوں روپے میں نہیں جائے گی۔ تاہم، یہ آمدنی بھی شک و شبہ کا شکار ہے کیونکہ ہمارا موجودہ موسم صندل کے لیے آئیڈیل کنڈیشنز فراہم نہیں کرتا۔ صندل سے اصل آمدنی لکڑی سے تیل نکالنے سے ہوتی ہے، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق یہ تیل لکڑی کا 5 سے 7 فیصد ہونا چاہیے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہمارے ماحول میں یہ مطلوبہ 5 سے 7 فیصد تیل کی مقدار حاصل ہو سکے گی۔

قیمتی 'ہارڈ وُڈ' کی پیداوار پر سائنسی خلا

صندل کی لکڑی کے دو اہم حصے ہوتے ہیں: ایک ہلکے رنگ کی بیرونی تہہ جسے سیف وُڈ کہتے ہیں، اور دوسری گہرے رنگ کی اندرونی تہہ جسے ہارڈ وُڈ کہا جاتا ہے۔ یہ ہارڈ وُڈ (جو براؤن یا ریڈش رنگ کی ہوتی ہے) ہی قابل استعمال اور مفید مٹیریل ہوتا ہے۔ سب سے بڑا سائنسی خلا یہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک کوئی ریسرچ موجود نہیں ہے جو یہ تصدیق کرے کہ پاکستان کے موسمی حالات ہارڈ وُڈ کی پیداوار کو سپورٹ کریں گے۔ یہ ممکن ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی ہارڈ وُڈ دوسرے ملکوں کی نسبت کمزور ہو۔

صندل کی کاشت کے لیے ماحولیاتی تقاضے اور چیلنجز

صندل کی کامیابی بہت حد تک مخصوص موسمیاتی ضروریات پر منحصر ہے:

1.  درجہ حرارت کا انتظام: صندل کے لیے مثالی درجہ حرارت 25 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ چونکہ پاکستان کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، لہٰذا اس پودے کو ایک موزوں 'مائیکرو کلائمیٹ' فراہم کرنے کے لیے شیڈ (سایہ) دینا ضروری ہے۔

2.  پانی اور بارش: صندل کو 700 سے 1000 ملی میٹر تک بارش درکار ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان ایک سیمی ایریڈ زون میں آتا ہے، اس کمی کو آبپاشی (Irrigation) کے ذریعے پورا کرنا پڑے گا۔

3.  نیم طفیلی (Semi-Parasitic) فطرت: صندل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سیمی پیراسائٹل ہے، یعنی اسے اپنی خوراک کے لیے کسی نہ کسی ہوسٹ پلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی جڑیں ساتھ والے پودے کی جڑوں سے جڑ کر خوراک حاصل کرتی ہیں۔ لہٰذا، جب تک اس کا ہوسٹ پلانٹ اس کے ساتھ نہیں لگا ہوگا، یہ پودا کامیاب نہیں ہوگا (جیسے کراچی میں ریسرچ کے دوران نیم کو استعمال کیا گیا تھا)۔

4.  کہر سے احتراز: صندل ان علاقوں میں نہیں اگتا جہاں کہر (Fog) پڑتا ہے۔

5.  تولیدی نظام: صندل کا تولیدی نظام ایسا نہیں بن سکتا کہ یہ خود بخود جنگل کی طرح گرو کرے اور دوبارہ پیدا ہو؛ اسے خود ہی دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی۔

رسک اور حتمی سفارشات

ماہرین کے مطابق، جب تک اس پر مناسب ریسرچ نہیں ہو جاتی، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ یہ درخت ہمارے ماحول کے لیے وِید (جنگلی پودا) یا خطرناک پودا نہ بن جائے۔ مثال کے طور پر، 60 اور 70 کی دہائی میں اسلام آباد میں پیپر مَلبری لگائے گئے تھے جو بعد میں الرجی کا باعث بنے اور انہیں اب نکالا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ریسرچ پر مبنی نہیں تھے۔

چونکہ صندل کے پودے پاکستان کی مقامی نرسریوں میں عام طور پر دستیاب نہیں ہیں، لہٰذا کاشتکاروں کو پودے یا بیج باہر سے درآمد کرنے پڑ سکتے ہیں۔

اس تمام صورتحال کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ صندل کی کاشتکاری ابھی تک ایک تجرُباتی نوعیت کا پروجیکٹ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، دیکھنے والوں کے لیے یہ سفارش کی جاتی ہے کہ اگر وہ صندل کی طرف جانا چاہتے ہیں تو مکمل سرمایہ کاری کے بجائے آزمائشی بنیادوں پر ہی اس کی کاشت کریں۔ یہ منصوبہ 15 سے 20 سال کے بعد ہی نتیجہ دے گا، اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی بڑے منصوبے سے قبل متعلقہ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ سے مشورہ ضرور کریں۔


جمعرات، 24 اکتوبر، 2024

دل،

 دل کرے دھک دھک، 

یہ دھک دھک ہی زندگی ہے

تحقیق کیمطابق سوموار کے روز دل کا دورہ پڑنے کا امکان 13 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔



یاد رہے سوموار 2 دن کی چھٹی کے بعد آفس جانا ہوتا ہے


روزانہ 50 قدم سیڑھی پر چڑھنے سے دل کی بیماری کا چانس 20٪ تک کم کردیتا ہے

سیڑھیوں کی ورزش کا جدول

غربت اور دل کا تعلق!

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ غریب علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو امیر علاقوں میں رہنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری ہونے کا دوگنا امکان ہوتا ہے۔ کیونکہ معاشی مسائل کیوجہ سے لوگ مسلسل دباو کا شکار رہتے ہیں جو دل پر بھاری پڑتا ہے، ملازمت کی غیر یقینی صورتحال بھی دل پر منفی اثر بنائے رکھتی ہے، یہ مسائل دل پر دباو اور تناو کی کیفیت بنائے رکھتے ہیں، تناو دماغ کو متحرک کیے رکھتا ہے جو پھر دماغ کو جانے والی شریانوں میں تناو اور سوزش کا سبب بنتا ہے، لوگوں کو چائیے تناو سے بچنے کے لیے ورزش کریں، لیکن ایک تک آگاہی کا نہ ہونا دوم اس طرح کہ لوگ ورزش وغیرہ کو سنجیدہ بھی نہیں لیتے،


دل کی چند عام ہونے والی بیماریاں!


  • کورونری آرٹری بیماری: یہ بیماری دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں مواد کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں سینے میں درد (انجائنا)، سانس میں دشواری، اور دل کا دورہ ہو سکتا ہے۔
  • دل کا دورہ: یہ اس وقت پیش آتا ہے جب دل کے پٹھے کو مطلوبہ مقدار میں خون فراہم نہیں ہوتا۔
  • دل کی ناکامی (ہارٹ فیلیئر): اس حالت میں دل جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خون کو مؤثر طریقے سے پمپ کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔
  • اریتھمیا: اس حالت میں دل کی دھڑکن غیر معمولی ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دھڑکن کی تیزی، چکر آنا، سانس میں دشواری، سینے میں درد، اور بعض اوقات بے ہوشی ہو سکتی ہے۔
  • کارڈیو مایوپیتھی: یہ حالت دل کو جسم میں خون کی ترسیل میں مشکلات پیدا کرتی ہے اور دل کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔
  • دل کے والوز کی بیماری: دل کے ایک یا زیادہ والوز کے متاثر ہونے سے خون کے بہاؤ میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
  • پیدائشی دل کے نقائص: یہ دل کے ساختی مسائل ہیں جن کے ساتھ انسان پیدا ہوتا ہے، اور ان کی شدت معمولی سے لے کر جان لیوا تک ہو سکتی ہے۔
  • شہ رگ کی بیماریاں: یہ بیماریاں بڑی شہ رگ کو متاثر کرتی ہیں، جو خون کو دل سے جسم کے دیگر حصوں تک پہنچاتی ہے۔
  • پیریفرل آرٹری بیماری: اس میں خون کی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، جس سے جسم کے مختلف اعضا تک خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں چلنے کے دوران ٹانگوں میں درد، سن ہونا، یا ٹانگوں میں سردی محسوس ہو سکتی ہے۔
  • رمیٹک ہارٹ ڈیزیز: یہ دل کے والوز اور پٹھوں کو گٹھیا بخار کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا نتیجہ ہوتی ہے، جو ایک بیکٹیریا کے انفیکشن سے شروع ہوتی ہے۔



حوالہ جات

انسان پہ حاکم کون…دل یا دماغ؟

دل کیا کرتا ہے؟

امراض قلب کے لیے ہنسی ایک اچھی دوا: اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق


Reference 

The Best Potassium-Rich Foods to Support Your Heart and Muscles 

ہفتہ، 28 ستمبر، 2024

محبت

پیار، محبت اور عشق!
یہ احساس ہی پرمسرت ہے کہ کوئی آپ کو چاہتا ہے اور آپ بھی اسے اتنا ہی چاہتے ہیں
 
پیار، محبت اور عشق! یہ تینوں الفاظ ایک ہی جذبے کی مختلف شکلیں ہیں، لیکن ان میں کچھ باریکیاں بھی ہیں۔
پیار ایک عام لفظ ہے جو کسی بھی قسم کے لگاؤ یا تعلق کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، چاہے وہ خاندان، دوستوں، یا پالتو جانوروں کے لیے ہو۔ یہ ایک مثبت جذبہ ہے جو خوشی، سکون اور اطمینان کے احساسات سے وابستہ ہے۔
محبت ایک زیادہ گہرا اور شدید جذبہ ہے جو عام طور پر رومانوی تعلقات میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ جذبہ شوق، لگن اور وابستگی کے احساسات سے وابستہ ہے۔
عشق محبت کی سب سے اعلیٰ شکل ہے جو روحانی اور مثالی نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ جذبہ خود غرضی سے بالاتر ہوتا ہے اور مکمل انحصار اور تسلیم کے احساسات سے وابستہ ہے۔
 
کچھ محققین کا خیال ہے کہ محبت خوشی یا غصے کی طرح ایک بنیادی انسانی جذبہ ہے، جب کہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ ایک ثقافتی رجحان ہے جو جزوی طور پر سماجی دباؤ اور توقعات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رومانوی محبت تمام ثقافتوں میں موجود ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ محبت کا ایک مضبوط حیاتیاتی جزو ہے۔ محبت کو تلاش کرنا اور تلاش کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ تاہم، ثقافت نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے کہ لوگ کیسے سوچتے ہیں، تجربہ کرتے ہیں اور رومانوی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
جب دو لوگ آپس میں ایک دوسرے کے لیے کشش محسوس کریں تو اسے محبت کہا جاسکتا ہے

ماہر نفسیات، سماجیات اور محققین محبت کی خصوصیت پر کسی حد تک اختلاف کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک جذبہ نہیں ہے جس طرح سے ہم انہیں عام طور پر سمجھتے ہیں، بلکہ ایک ضروری جسمانی ڈرائیو ہے۔ ماہر نفسیات اور ماہر حیاتیات Enrique Burunat کہتے ہیں، "محبت ایک جسمانی محرک ہے جیسے کہ بھوک، پیاس، نیند اور جنسی خواہش۔" 
اس کے برعکس، امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن اسے "ایک پیچیدہ جذبے" کے طور پر بیان کرتی ہے۔
 آرتھر ایرون اور ڈونلڈ جی ڈٹن اپنی کتاب 'محبت میں مبتلا ہونے کے تجربات‘ میں لکھتے ہیں کہ عمومی طور پر باہمی کشش کی وجوہات میں 
ایک سا ہونا، 
عادت ہو جانا، 
رومانوی خیالات کا ملنا، 
ایک دوسرے کے لیے پسند کا جذبہ رکھنا 
یا کوئی بھی قدر مشترک وغیرہ ہو سکتی ہیں۔


جسمانی کشش محبت کی سادہ سادہ سی وجہ ہو سکتی ہے لیکن محبت کے دیرپا بانڈ کے لیے جسمانی کشش پیچھے رہ جاتی ہے۔
نیوروسائنس بھی ان خیالات کی تصدیق کرتی ہے۔ نیوروسائینٹسٹ ایس زیکی اپنی تحقیقی تصنیف "نیوروبائیولوجی آف لو‘ یا "محبت کی اعصابی حیاتیات" (شائع 2007) میں لکھتے ہیں کہ محبت میں گرفتار افراد کی نیورو کیمیکل پروفائل میں کیمیائی مادے سیروٹونین کی سطح کم دیکھی گئی ہے۔
محبت کے حیرت انگیز صحت کے فوائد
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خاص طور پر شادی شدہ افراد، بلکہ وہ لوگ جو صحت مند سماجی تعلقات میں شامل ہیں، عام طور پر طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ ان رشتوں کے فوائد آپ کے دل کا دورہ پڑنے، بعض قسم کے کینسر کے پیدا ہونے، اور نمونیا سے متاثر ہونے کے خطرے کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ صحت مند، خوشگوار ازدواجی زندگی میں شامل ہیں ان میں دل کی بیماری کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جو تناؤ والے تعلقات کا تجربہ کرتے ہیں یا اکثر تنہائی محسوس کرتے ہیں۔
محبت میں پڑنا، شادی کرنا، اور صحت مند رشتوں اور دوستی کو برقرار رکھنا مردوں اور عورتوں دونوں میں تنہائی اور افسردگی کے جذبات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تعلق اور خوشی کے احساس کو بڑھاتا ہے۔
پیار، دیکھ بھال، اور محفوظ محسوس کرنا مدافعتی نظام کو بڑھاتا ہے اور نزلہ زکام اور دیگر وائرل انفیکشنز کو پکڑنے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ جن کے پاس پیار کرنے والا سپورٹ سسٹم ہوتا ہے وہ بھی بیماری سے زیادہ تیزی سے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
خوشی سے شادی شدہ جوڑوں کو ان لوگوں کے مقابلے میں بہتر بلڈ پریشر کی قدر دکھائی گئی ہے جو ناخوش شادی شدہ یا سنگل ہیں۔ لہذا، جب آپ اپنے پیارے کے ساتھ ہوتے ہیں، تو وہ ہلکا پھلکا احساس جو آپ کے دل میں ہوتا ہے درحقیقت آپ کا بلڈ پریشر گرنا ہو سکتا ہے۔
ایم آر آئی اسکینوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ مستحکم، طویل مدتی تعلقات میں شامل ہیں ان کے دماغ کے اس حصے میں زیادہ سرگرمی اور ایکٹیویشن ہوتی ہے جو انعام/خوشی کے ردعمل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے اور دماغ کے اس حصے میں کم ایکٹیویشن ہوتا ہے جو اضطراب سے وابستہ ہوتا ہے۔
سلامتی اور سپورٹ کی وجہ سے صحت مند تعلقات پیش کرتے ہیں، جب آپ کے پاس کوئی ساتھی یا قریبی دوست مشکل حالات اور جذبات میں آپ کی مدد کرنے کے لیے ہوتا ہے تو آپ کو تناؤ محسوس کرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
اسی طرح محبت کس طرح اضطراب کو کم کرتی ہے، محبت درد کے کنٹرول سے وابستہ دماغ کے علاقے میں سرگرمی کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ خوشی سے شادی کرنے والے جوڑوں نے کمر درد اور سر درد کی کم شکایات کی اطلاع دی ہے۔
آپ کے مدافعتی نظام کا 80٪ (اور آپ کے جسم کے جرثوموں کی اکثریت) آپ کے آنتوں میں رہتی ہے۔ محبت کا احساس آپ کی زندگی کو بڑھانے والے گٹ مائکرو بایوم کی پرورش اور مدد کر سکتا ہے اور نقصان دہ بیکٹیریا سے لڑ سکتا ہے جو آپ کو موسم میں محسوس کر سکتا ہے۔


کیونکہ محبت بھرے تعلقات کم تناؤ کا باعث بنتے ہیں، اس لیے آپ کو اچھی نیند آنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے اور جب آپ صبح اٹھتے ہیں تو تازہ دم محسوس کرتے ہیں۔ جب آپ کو پیار اور حمایت محسوس ہوتی ہے تو تناؤ کم ہوجاتا ہے، اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ خوشی سے شادی شدہ جوڑوں میں زیادہ پر سکون نیند لینے کا امکان 10 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے، اگر آپ صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور وہ ذہنی، جذباتی اور جسمانی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو صحت مند تعلقات فراہم کر سکتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ان رشتوں کو فروغ دیں جو آپ کو محفوظ اور معاون محسوس کریں – چاہے وہ رومانوی ہوں یا نہیں



مقامات 27


لمرنس!
محبت کی ایک قسم لمرنس ڈروتھی ٹینو نے اپنی کتاب محبت اور لمرنس 1979 میں متعارف کروائی تھی، لمرنس یک طرفہ محبت احساسات اور جذبات یا پھر بولے تو کرش!
لمرنس کسی کو پانے چاہنے کی ایسی شدید خواہش ہے کہ جس کی نفی کے بارے مفعول سوچ بھی نہیں سکتا، نتیجتا" وہ یکطرفہ قائم کردہ محبت کے خیالات میں کھو جاتا ہے، 


 پہلی نظر کی محبت!
پہلی نظر میں کسی کے چہرے کو دیکھنے کے بعد رائے قائم کرنے میں دماغ کو ایک سیکنڈ کا دسواں حصہ لگتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم اکثر کسی کو ریجیکٹ یا ایکسیپٹ کرلیتے ہیں، انھی لمحات میں ہم کو کسی کی کوئی ادا اتنی پسند آسکتی ہے کہ جو پھر لو ڈرائیو کے طور پر کام کرتی رہتی ہے۔ آپ جب سے ناراض ہوتے ہو یا وغیرہ وغیرہ تو تنہائی میں آپ کو یہی ادا یاد آتی ہے اور آپ اپنی ناراضگی بھلا دیتے ہو، دوسرے لفظوں میں اس ادا کا احساس آپ کے دماغ میں خوش کن ہارمون خارج کرتا ہے جو آپ کی ناراضگی پر غالب آجاتا ہے اور اس طرح آپ دوبارہ اپنے محبوب کے قدموں میں پہنچ جاتے ہیں، 




حوالہ جات:

Reference 

جمعرات، 15 اگست، 2024

انسانی دماغ

 اگر کہا جائے کے اس کائنات کی سب سے عظیم شے دماغ ہے تو غلط نہ ہو گا،



اب تک کی سائنسی تحقیق کیمطابق ہمارا دماغ پیچیدہ ترین عضو ہے، اس میں تصوارات کیسے جنم لیتے ہیں، یہ تصوارات پھر کہاں ذخیرہ ہوتے ہیں، تاحال معمہ ہے۔



ایک متھ ہے کہ انسان اس وقت اپنے دماغ سے دس فیصد استفادہ کر پا رہا ہے
دماغ اپنی جگہ ہنڈرڈ فیصد موجود ہے بات صرف اس سے کام لینے کی اور اسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔ فرض کریں آج سے سو سال پہلے کا انسان خط بھیجتا تھا پھر کئی دن تک جواب کا انتظار کرتا تھا پھر انسان سے انٹرنیٹ بنا لیا معلومات کا تبادلہ دنوں کی بجاے سیکنڈوں میں ہونے لگا مستقبل کا انسان اس سے بھی تیز چیزیں بنائے گا۔ اس سےآپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ماضی والا انسان اپنی دماغی صلاحیتوں سے کتنا استفادہ کر رہا تھا آج کا انسان بہ نسب ماضی والے کے زیادہ کررہا ہے اور مستقبل والا حال والے سے بھی زیادہ کرے گا
ففٹی پرسنٹ استفادہ کرنے پر انسان دوسری گلیکسیز میں پہنچ چکا ہو گا
اور ہنڈرڈ پرسنٹ پر اپنی اس پرتھوی کو دوبارہ زندگی کے قابل بنا لے گا. مگر اس وقت کے انسان کی ہئیت آج سے بہت مختلف ہو گی. وہ آج کے کمزور انسان کے مقابلے میں ہر لحاظ بہت طاقتور ہو گا
مگر یہ نیوروپلاسٹیسیٹی کیا ہے؟


ہمارا دماغ ہمارے جسم کے ہر حصے کی خبر رکھتا ہے اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے مگر دماغ خود بے حس ہوتا ہے یعنی خود کو محسوس نہیں کر سکتا۔دماغ میں تقریباَ سو ارب خلیات ہوتے ہیں۔ ہر دماغی خلیے کی آگے باریک شاخیں  اوسطاً 50 ڈینڈرائٹس ہوتے ہیں۔ پھر  ہر ڈینڈرائٹ کے آگے سیکڑوں تار جیسے کنیکشنز ’’سائنیپسز‘‘  ہوتے ہیں ۔ ہرتار سے ایک خلیہ جڑا ہوتا ہے ہر خلیے سے ہزاروں  کنیکشن ایک دوسرے سے جڑے ہوتے جو پیغامات کی منتقلی کرتے ہیں۔دماغ میں تقریباَ سات سو کلو میٹر لمبی خون کی نالیوں کا جو جال ہوتا ہے۔دماغ  کو  تاحال  تین  حصوں  میں  تقسیم  کیا  گیا  ہے  پہلا  حصہ  سیریبیرم  زبان  بول چال  سوچ ، جذبات، حس، چکھنے ، سونگھنے، دیکھنے  کو کنٹرول کرتا ہے سیریبیلم  انسان  کے  اندر کمیونیکیشن  کو  کنٹرول  کرتا  ہے۔  برین سٹیم دل ، سانس  اور نظام انہظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ انسان جسمانی طور پراٹھارہ بیس سال تک مکمل ہو جاتا ہے مگر اس کا دماغ لگ بھگ تیس سال تک اپنی نشوونما مکمل کر پاتا ھے
ہماری خوارک سے حاصل کردہ توانئی کا 20فی صد دماغ صرف کر دیتا ہے۔ جبکہ وزن کے اعتبار سے یہ جسم کاصرف دو فیصدہوتا ہے۔ مردوں کا دماغ بہ نسبت عورتوں کے دس فیصد بھاری ہوتا ہے مگر بڑھاپے میں بہ نسبت مردوں کے تین سال زیادہ جوان ہوتا ہے۔ شروع میں دماغ اس سے کہیں زیادہ توانائی کنزیوم کر لیتا تھا جیسے کہ بندر آٹھ گھنٹے کھاتا رہتا ہے مگر پھر جوں جوں انسان نے دماغ زیادہ استعمال کرنا شروع کیا تو دماغ نتیجتا انرجی ایفیشنٹ بنتا چلا گیا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے دماغ جسم کو کھانا کھانے کا کہتا ہے پھر اس کھانے کو ہضم کر کے توانائی حاصل کرتا ہے اس توانائی کی کیلکولیشن کرتا ہے کہ کہاں کہاں کتنی استعمال کرنی ہے۔  جو لوگ روحانیت یا ذہنی مشقیں کرتے ہیں وہ بخوبی یہ چیزیں نوٹ کر سکتے ہیں وہ مراقبہ یا مشقوں والے دنوں میں اپنی خوراک کم کر دیتے ہیں تاکہ صرف اتنی توانائی حاصل کی جائے جو زندہ رہنے اور دماغ کے لیے کافی ہو( اگر دماغ کو بروقت خوراک نہ ملے تو وہ اپنے ہی خلیوں کو کھانا شروع کر دیتا ہے) کیونکہ زیادہ توانائی کی صورت میں دماغ اس توانائی کو ٹھکانے لگانے میں لگا رہے گا اور دماغ کی توجہ بٹ جائے گی۔ خوراک کم کرنے سے یہ لوگ دماغ کا جسم سے رابطہ کم ترین سطح پر لے آتے ہیں اور دماغ کو کلی طور پر اپنی مرضی کی سمت میں لگا لیتے ہیں۔ اس طرح کے مسلسل عمل سے دماغ عام کام چھوڑ کر یہ سپیشل کام شروع کر دیتا ہے اور اس کے نئے کام کے لیے درکار نئے خلیے پیدا یا متحرک کرتا ہے بالکل ایسےجیسے آپ ٹھنڈ والے علاقے میں جاتے ہیں تو نئے گرم کپڑے سلواتے ہیں۔ 
ہم جو روزمرہ کر رہے ہوتے ہیں یا کرنا چاہا رہے ہوتے ہیں یا پھر جو کچھ ہمارے لاشعور میں چھپا ہوتا ہے یا کچھ مسائل کے حل کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔ کبی کبھار ان کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے سوتے ہوے ہمارا دماغ ان مسائل کو اپنے طور پر بہتر طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جسکو خواب کہا جاتا ہے- خواب بھی دراصل تخیل کی ہی ایک کیفیت ہے۔
جب یہ لوگ اپنے دماغ میں یہ نئی صلاحتیں پیدا کر لیتے ہیں تو پھر ان کو تنہائی یا مراقبے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ پھر یہ کھاتے پیتے چلتے پھرتے سیکس کرتے اپنا دماغی تخیلاتی کام جاری رکھتے ہیں یہ بظاہر ہمارے سامنے موجود  ہوتے ہیں مگر دماغی طور پر یہ کہیں اور ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے کوئی چھوٹی موٹی بھول چوک ہو تو درگزر کیا کریں۔ اس کنڈیکٹر کی طرح نہ کریں جس نے سکے غلط گننے پر آئن سٹائن کی بے عزتی کر دی تھی۔
اس طرح کی مشقوں سے انسان ایک خاص چیز کے متعلق سوچنے اور غور کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جو کہ عام حالت میں شاید ممکن نہ ہو. پھر یہ خاص عمل جاری رہتا ہے تاآنکہ وہ پوری چیز کہ جس کے بارے سوچا جا رہا تھا کا ایک تخیلاتی حلیہ تیار ہو جاتا ہے. مورتیاں بنانے والے کمہار سے سقراط نے پوچھا کہ تم یہ اشکال کیسے بنا لیتے ہو. کمہار نے کہا میں پہلے مورتی کا تخیلاتی عکس بناتا اور پھر اپنے ہنر سے اس مٹی کو اس میں ڈھالتا جاتا ہوں. فلسفہ تو تھا ہی تخیل پھر سائنس نے جب اسکو پرکھنا شروع کیا تو اسکے اکثر مفروضے دم توڑتے چلے گے اور بالآخر فلسفیانہ طریقہ کار معدوم ہوتا چلا گیا. مگر آج بھی سائنس تخیل کی مرہون منت ہے. تخیل یعنی دماغ کی بڑھیا کارکردگی.
ایک عام سے عام انسان بھی ان ذہنی مشقوں سے اپنے کردار اور عادات وغیرہ میں بہتری لا سکتا ہے۔ ہرانسان کچھ بنیادی فطرتی عادتیں لے کر پیدا ہوتا ہے پھر کچھ چیزیں اس کو زمانہ دیتا ہے، جیسا کہ میں لڑکپن میں بہت کنجوس تھا میری کوئی چیز گم ہو جاتی تو پریشان ہو جاتا تھا. پھر جب میں نے زندگی کی حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو باور کروانا شروع کیا کہ اصل اہمیت میری ہے چیزوں کی نہیں. پیسہ آتا ہے میں اس کو خرچ کر کچھ خوشیاں حاصل کر لیتا ہوں. اسی طرح اگر کوئی چیز ہو جاتی ہے تو وہ گم نہیں ہوتی بلکہ کسی اور کے پاس چلی جاتی ہے. اگر میری کوئی قیمتی چیز ٹوٹ جاتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ وہ چیز ٹوٹی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں پہلےجیسا. اسی طرح آپ بھی اپنے دماغ کو الگ طرح سوچ پر لگا کر اپنے لاشعور میں کچھ نیا بھر سکتے ہیں. اپنی عادات چینج کر سکتے ہیں
ہاں، اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ دماغ کو بجلی کے جھٹکے 6 ماہ تک ریاضی کی مہارت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ 2013 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ جن طالب علموں نے ٹرانسکرینیئل رینڈم نوائس سٹریمولیشن (TRNS) کا پانچ روزہ کورس حاصل کیا وہ ان طلباء کے مقابلے میں ذہنی ریاضی کے کاموں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جنہوں نے علاج نہیں کروایا تھا۔ TRNS دماغی محرک کی ایک قسم ہے جو دماغ میں نیوران کی سرگرمی میں خلل ڈالنے کے لیے کمزور برقی رو کا استعمال کرتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ TRNS ریاضی کی پروسیسنگ میں شامل دماغی علاقوں کے درمیان رابطے کو بڑھا کر ریاضی کی مہارت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 مطالعہ چھوٹا تھا، ہر گروپ میں صرف 25 طلباء تھے، لیکن نتائج اہم تھے۔ TRNS حاصل کرنے والے طلباء نے کنٹرول گروپ سے 27% تیزی سے ریاضی کی پہیلیاں حل کیں۔ علاج کے چھ ماہ بعد بھی بہتری واضح تھی۔

 محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم، نتائج بتاتے ہیں کہ TRNS ریاضی سیکھنے کی معذوری والے لوگوں کے لیے ایک امید افزا نیا علاج ہو سکتا ہے۔

 یہاں کچھ دیگر مطالعات ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ دماغ کو بجلی کے جھٹکے ریاضی کی مہارت کو بہتر بنا سکتے ہیں:

 2010 میں، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے محققین نے پایا کہ ٹرانسکرینیئل ڈائریکٹ کرنٹ محرک (TDCS)، دماغی محرک کی ایک اور قسم، ایک نیا نمبر سسٹم سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 2011 میں، ٹورنٹو یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ TDCS ذہنی ریاضی کو انجام دینے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 2012 میں، زیورخ یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ TDCS وقت کے دباؤ میں ریاضی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 ان مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ دماغی محرک ریاضی سیکھنے کی معذوری والے لوگوں کے لیے ایک امید افزا نیا علاج ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان نتائج کی تصدیق کرنے اور ریاضی کی مہارت کو بہتر بنانے کے لیے دماغی محرک کی زیادہ سے زیادہ خوراک اور تعدد کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


نیوران

ہر کسی نے نیورونز کے بارے میں سنا ہوتا ہے لیکن دماغ کے دوسرے خلیات کے بارے میں زیادہ نہیں۔ گلیل خلیات نیورونز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔ بہت عرصے تک خیال رہا ہے کہ یہ زیادہ اہم نہیں۔ خیال کیا جاتا رہا کہ ان کا بنیادی فنکشن نیورون کو فزیکل سپورٹ دینا ہے۔ ایسا سٹرکچر دینا ہے جہاں پر نیورون اپنا کام کر سکیں۔ لیکن اب ہمیں معلوم ہے کہ یہ بہت اہم کیمسٹری میں حصہ لیتے ہیں۔ اس میں مائیلین کی پیداور سے لے کر فضلات کی صفائی تک کے کام ہیں۔  نیورون کے برعکس ان کا طریقہ برقی کے بجائے کیمیائی ہے۔ یہ ان کی سٹڈی کو کچھ دشوار بنا دیتا ہے، اس لئے اس میں تحقیق کی رفتار فی الحال کچھ سست رہے گی۔


Sleep Resets Neurons to Keep Learning Possible

اس بات پر اتفاق نہیں کہ آیا دماغ نئے نیورون بنا سکتا ہے یا نہیں۔ 2018 میں کولمبیا یونیورسٹی کی ایم ٹیم نے اعلان کیا کہ ہپوکیمس کا حصہ یقینی طور پر نئے نیورون بناتا ہے۔ جبکہ کیلے فورنیا یونیورسٹی کی ٹیم نے اسی سال اس سے برعکس اعلان کیا۔ مشکل یہ ہے کہ اس بات کو پہچاننے کا کوئی آسان طریقہ نہیں کہ ایک نیورون نیا ہے یا نہیں۔ 

لیکن ایک بات جس پر کوئی اختلاف نہیں، وہ یہ کہ اگر ہم نئے نیورون بنا بھی سکتے ہیں تو یہ عمر رسیدگی کے ساتھ ہونے والے نقصان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ 

تاہم، دماغ بہت سے نقصان کو برداشت کر سکتا ہے۔ برطانوی ڈاکٹر جیمز لی فانو ایک کیس کا لکھتے ہیں جس میں ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک شخص کی کھوپڑی میں ایک بہت بڑا ٹیومر دو تہائی جگہ لے چکا تھا اور یہ غالباً اس کے بچپن سے تھا۔ بہت کم جگہ دستیاب ہونے کی وجہ سے اس کے دماغ کے فرنٹل لوب نہیں تھے اور کئی دوسرے علاقے بھی نامکمل تھے۔ لیکن باقی ایک تہائی دماغ نے فرائض سنبھال لئے تھے اور اس قدر زبردست طریقے سے ایسا کیا تھا کہ نہ ہی اس شخص کو اور نہ ہی کسی دوسرے کو شک پڑا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہے۔


دماغ کی گروتھ

دماغ کو مکمل طور پر بننے میں بہت وقت لگتا ہے۔ ٹین ایجرز کا دماغ تقریباً اسی فیصد مکمل ہوا ہوتا ہے۔ ابتدائی دو برسوں میں یہ سب سے تیزی سے بڑھتا ہے اور دس سال کی عمر تک پچانوے فیصد مکمل ہو چکا ہوتا ہے لیکن اس کے جوڑ (synapse) کی وائرنگ کی تکمیل 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ اس سے پہلے ایک فرد میں ٹھہراو اور خود احتسابی کی کمی ہوتی ہے۔ منشیات اور الکوحل کے زیادہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ 

نیوکلئیس ایکمبین (nucleus accumbens) ۔۔ دماغ کے سامنے کا حصہ جس کا تعلق لذت سے ہے ۔۔۔ ٹین ایج میں بڑے سائز کا ہو چکا ہوتا ہے۔ جسم ڈوپامین کی زیادہ پیداوار کرتا ہے۔ اس نیوروٹرانسمٹر کا تعلق لذت سے ہے۔ اور اس وجہ سے ٹین ایج میں زندگی کے تجربات کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ ٹین ایجرز کی موت کی سب سے بڑی وجہ حادثات ہیں۔ اور خاص طور پر اگر ایک گاڑی میں ٹین ایجر اکٹھے بیٹھے ہوں تو حادثے کا امکان چار گنا ہو جاتا ہے۔


دماغ پر بڑھاپے کا اثر؟

 دماغ کا حجم ہر 10 سال میں تقریباً 5 فیصد کم ہوتا ہے۔

 سب سے زیادہ متاثر ہونے والا حصہ شعور اور ادراک ہے۔

 یہ 30 سے ​​شروع ہوتا ہے اور یہ 70 سے تیز ہوتا ہے۔

 سائنسی تحقیق کے مطابق دماغ کی پروسیسنگ کی رفتار 60 سال کی عمر سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

کیا آپ بائیں دماغ والے ہیں یا دائیں دماغ والے؟


انسان کے دماغ کے بارے میں ایک مشہور خیال یہ ہے کہ یہ بیچ سے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ بائیں طرف والا حصہ منطق اور سوچ سے جڑے کاموں کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ دائیں طرف والا حصہ تخلیقی صلاحیت اور فن سے جڑے کاموں کو کنٹرول کرتا ہے، 

اس نظر آنیوالی تقسیم کی وجہ سے ہی ماہر نفسیات نے نظریات پیش کیے کہ بائیں طرف کا دماغ اور دائیں طرف کا دماغ الگ الگ کام کرتے ہیں۔

انسان کے دماغ کے درمیانی حصوں، جیسے striatum, thalamus, hypothalamus، اور brainstem، جُڑے ہوئے بافتوں پر مشتمل ہوتے ہیں، لیکن وہ بائیں اور دائیں جانب بھی منظم ہوتے ہیں۔ دماغ کا دائیں اور بائیں جانب جسم کے مختلف کاموں کو کنٹرول کرتے ہیں، جیسے حرکت اور نظر۔ مثال کے طور پر، دماغ کا بائیں طرف دائیں بازو اور ٹانگ کو کنٹرول کرتا ہے، اور اِسی طرح دائیں طرف بائیں بازو اور ٹانگ کو کنٹرول کرتا ہے۔

1800 کی دہائی کے ماہرِ نفسیات

تاہم، اس خیال کو حد سے زیادہ بڑھا کر استعمال کرنا مسائل پیدا کرتا ہے۔ یہ غلط فہمی کہ دماغ کے تقریباً تمام کام یا تو بائیں طرف سے یا دائیں طرف سے کنٹرول ہوتے ہیں، اس کا تعلق 1800 کی دہائی کے ماہرِ نفسیات سے جا ملتا ہے۔

ان کا نتیجہ

انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب انہوں نے یہ دریافت کیا کہ جن مریضوں کو بات چیت کرنے میں مشکل ہوتی تھی ان کے بائیں Schläfenlappen (ٹیمپرل لوب) میں نقص تھا، تو بات چیت دماغ کے بائیں طرف سے کنٹرول ہوتی ہے۔

سکاٹش ناول نگار رابرٹ لوئس اسٹیونسن

یہ خیال سائنسی کمیونٹی کے علاوہ مصنف رابرٹ لوئس اسٹیونسن کے ذوقِ فن کو بھی بھایا، جنہوں نے منطقی بائیں دماغ اور جذباتی دائیں دماغ کے درمیان مقابلے کے بارے میں لکھا۔

ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ

دماغ کے بائیں اور دائیں جانب کرداروں، ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ (جن میں سے ایک اچھا ہے اور دوسرا بد) میں مجسم ہو گئے۔ یہ سلسلہ ترتیب اور انتشار کے تصورات تک بھی جاتا ہے۔

علیحدہ دماغ یا نقصان زدہ دماغ

بعد ازاں، ماہرِ نفسیات نے یہ پایا کہ اگر وہ ان مریضوں کے برتاؤ کا جائزہ لیں جن کے دماغ الگ کر دیئے گئے تھے یا جن کے پاس ایک دماغ نہیں تھا، تو پھر بھی وہ منطقی اور تخلیقی دونوں قسم کے رویے کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔

کچھ کام تو ایک جگہ پر مرکوز ہوتے ہیں، لیکن مکمل طور پر نہیں

تاہم، یہ دریافت ہوا ہے کہ دماغ کا ایک طرف کچھ کاموں کے لیے دوسرے طرف سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔ زبان زیادہ تر بائیں طرف اور توجہ دائیں طرف مرکوز ہوتی ہے۔

یہ نظام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، ہر شخص کے لحاظ سے نہیں

اس لیے، دماغ کا ایک طرف زیادہ کام کر سکتا ہے، لیکن یہ عام طور پر کام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، نہ کہ ہر شخص کے لحاظ سے۔

کسی کا بھی غالب رخ نہیں ہوتا ہے

ایسا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ بتاتا ہو کہ لوگوں کے دماغ کے غالب پہلو ہوتے ہیں۔

فنکار ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دائیں طرف غالب ہے

کچھ لوگ انتہائی منطقی ہو سکتے ہیں اور دوسرے مکمل طور پر تخلیقی اور فنکار لگ سکتے ہیں، لیکن اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ان کے دماغ کے کون سے حصے غالب ہیں۔

منطق کے لیے تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے

مثال کے طور پر، اگر ہمیں ایک پیچیدہ ریاضی کے مسئلے کو حل کرنا ہے، تو ہمیں ایسا کرنے کے لیے انتہائی تخلیقی ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تخلیقی صلاحیت کے لیے منطق کی ضرورت ہوتی ہے

کوئی کم کوئی زیادہ ذہین کیوں؟

یہ درست ہے دماغ کے اندر نیورانز کی ساخت تقریبا  ایک جیسی ہوتی ہے ۔دماغ کوئ کام کس قدر مہارت سے انجام دیتا ہے اس کا دارومدار دو باتوں پر ہوتا ہے ۔

۔1۔اس مہارت کے لئے مختض دماغ کے حصے کا سائز 

۔2۔ اس حصے میں موجود نیورانز کی تعداد اور ان کے باہمی کنکشنز کی تعداد 

مثال کے طور پر آپ کے ہاتھوں کے لئے دماغ کا  مختص حصہ آپ کے پاوں کے لئے مختص حصے سے بڑا ہوتا ہے اس  میں نیورانزکی تعداد اور باہمی کنکشنز زیادہ ہوتے ہیں اس لئے آپ ہاتھ کی حرکات کو  پاوں کی نسبت زیادہ  باریکی  سے کنٹرول کر سکتے ہیں  ایک پیانو پلیئر اور طبلہ نواز کے دماغ میں ہاتھوں کے لئے مختص حصہ ایک عام انسان سے زیادہ ہو گا اور ان میں نیورانز کے باہمی کنکشنزبھی  زیادہ ہوں  گے بلکہ اس حصے کے نیورانز کا اس کی میموری(  ماضی میں  کی گئ میوزک ٹریننگ )  کے ساتھ کنکشن بہت وسیع اور گہرے ہوں گے یہی وجہ ہے کہ وہ انگلیوں اور ہاتھوں کا استعمال ایک عام انسان کی نسبت زیادہ  مہارت سے کر سکتے ہیں۔

عمومی ذہانت کے لئے بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کے cerebral cortex میں نیوران کی تعداد اور باہمی کنکشنز  کم ذہین  انسانوں سے زیادہ ہوتے ہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ مشق اور ریاضت سے اپنے دماغ کے نیورانز اور ان کے باہمی کنکشن بڑھا سکتے ہیں دماغ کی اس حیرت انگیز  صلاحیت کو plasticity  کہا جاتا ہے ۔


دل یا دماغ؟

ہم سوچتے تو دماغ سے ہیں۔ مگر ایسا محسوس کیوں ہوتا ہے کہ دل دماغ سے ایسا کروا رہا ہے؟ 

دراصل، انسان دماغ سے سوچتا ہے لیکن ہر سوچ کا اثر دل پہ پڑتا ہے۔

جب آپ کسی دباؤ یا پریشانی کا شکار ہیں یا کسی سے پیار محسوس کرتے ہیں تو اس دباؤ، پریشانی یا پیار کے بعد کچھ ہارمونز جنہیں ہم سٹریس ہارمون کہتے ہیں وہ ریلیز ہوتے ہیں۔


ان ہارمونز میں کارٹی سول،  ایڈرنالین اور ایپی نیفرین وغیرہ شامل ہیں۔


جب یہ ریلیز ہوتے ہیں تو یہ ہمارے جسم کو کسی بھی قسم کے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہمارے جسم کو اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں جس کو دیکھ کر ہمارا دماغ الرٹ ہوا تھا۔

یہ تیاری،  سب سے پہلے، دل کے دھڑکنے کی رفتار بڑھا کر اور ہاضمے کی رفتار کم کر کے ہوتی ہے۔ ایمرجنسی کی حالت میں یہ ہارمون ہمارے دل کی رفتار بڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے فشار خون بڑھتا ہے اور ہم اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ بلڈ پریشر ہمارے مسلز کو کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ جبکہ ہاضمے کی کم رفتار دل کو دوسرے مسلز تک خون پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔


یہی وہ وجہ ہے کہ جب ہم کسی سے نفرت کرتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا دل ہمیں نفرت پہ مجبور کر رہا ہے۔ یا ہمارا دل غصہ دلا رہا ہے۔


جبکہ درحقیقت یہ سب دماغ کرواتا ہے۔ دل فقط دھڑکنے کی رفتار بدلتا ہے اور یہ دماغ کے احکامات کا نتیجہ ہے۔


یہ سب ہے دماغ کے اختیار میں ہے کہ ہم کیا ری ایکشن دیں گے مگر چونکہ دل تیز دھڑک کر ہمیں ایسا محسوس کراتا ہے تو اس لئے ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ سب دل کنٹرول کر رہا ہے جبکہ درحقیقت ایسا سب دماغ کرتا ہے دل تو بس اسکے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔


ایک خاموش عضو

اپنی تمام تر خاصیتوں کے باوجود، دماغ ایک عجیب خاموش سا عضو ہے۔ دل دھڑکتا ہے، پھیپھڑے ابھرتے اور پچکتے ہیں۔ آنتیں آوازیں نکلتی ہیں۔ جبکہ دماغ میں کچھ ایسا نہیں جس سے شک ہو کہ یہ ہماری سوچ کا مرکز ہے۔ 

اس لئے یہ تعجب کی بات نہیں کہ دماغ کے بارے میں ہماری سمجھ سست رہی ہے۔ یہاں تک کہ اسی وجہ سے کئی کلچرز میں اسی غلط فہمی کے سبب دوسرے اعضاء کو انسانی سوچ کا مرکز قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مثلاً، قدیم مصر میں ممیاں محفوظ کرتے وقت دماغ کو بے کار عضو سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا۔  کھوپڑی کی تاریک کوٹھڑی میں مقید یہ عضو اپنے تمام کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اردو میں ہونے والی “دل اور دماغ کی جنگ” ہو یا انگریزی کی gut feeling، یا پھر یادوں کے طوفان، یہ سب یہیں اس خاموشی میں ہوتا ہے۔

دماغ کی بھوک

دماغ ہمارے جسم کا سب سے اہم عضو ہے اور اس کو بھی  غذا کی ہوتی ضرورت ہے۔

ہمارا دماغ ایک ملٹی ٹیلینٹڈ عضو ہے.  یہ ایک وقت میں بہت سے کام سرانجام دے رہا ہوتا ہے. اور مزید بھی دے سکتا ہے ۔ سائنس اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ آپ دونوں ہاتھوں سے ایک وقت میں مختلف کام لے سکتے ہیں. اکثر ناقدین کہتے ہیں کےاسکول میں بچوں کو بہت زیادہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ ہمارے دماغ کی ضرورت ہے اس عمر میں ہمارا دماغ سیکھ لیتا ہے اسے کس علم میں زیادہ دلچسپی ہے وہ کیا  پڑھنا , کیا لکھنا یا کس سمت میں جانا پسند کرے گا آیا وہ اپنی توانائی تخلیقی علوم میں  یا کسی کھیل میں صرف کرنا چاہتا ہے.  

اور یہی مختلف علوم پڑھ کر یا سیکھ کر ہم پرسکون محسوس کرتے ہیں۔یہی  ہمارے ذہن  کی خوراک ہیں.۔اگر  ہم مناسب وقت پر ،مناسب مقدار کی خوراک دماغ کو مہیا نہں کریں گے تو بہت حد تک ممکن ہے کہ یہ متشدد  ہوجائے, بالکل ایسے ہی جیسے پیٹ کی بھوک انسان میں حلال اور حرام کا فرق ختم کر دیتی ہے۔ اور جنس کی بھوک انسان کو وحشی جانور سے ملا دیتی ہے جنس کی بھوک کی بات چل نکلی ہے تو میں آپ کو بتاتی چلوں کہ ہمارے جسم میں سب سے زیادہ جنسی  خواہشات کو کنٹرول یا بڑھاوا دینے والا  عضو  بھی دماغ ہی ہے ۔ اگر آپ کے دماغ میں جنسی خواہشات جنم نہ لیں تو آپ کسی صورت بھی جنسی تعلق نہیں قائم کر سکتے ۔ اس لئے جو لوگ ہر وقت جنسی معلومات سے بھرپور لٹریچر پڑھتے یا ایسی فلمیں دیکھتے ہیں. ان کے دماغ پر ہروقت جنس کی بھوک سوار رہتی ہے اور یہ لوگ اپنے دماغ کی صلاحیتوں کو انہی کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں.

آپ نے اپنے اردگرد بہت سے الجھے ہوئے لوگ دیکھے ہونگے. جو اپنی بے سروپا یا بے مقصد زندگی سے بہت تنگ ہوتے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں, جنہیں اپنے دماغ کی بھوک کا اندازہ نہیں ہوتا اور وہ اس کی مناسب خوراک کا بندوبست نہیں کر پاتے . ایسے لوگوں کے دماغ کو اگر مثبت رویے پر لگا کر کی دلچسپی پوری نہ کی جائے تو یہ فرد کو منفی رویے کی طرف لے جاتا ہے. یہ منفی رویے اس کی زندگی میں بے سکونی بھر دیتے ہیں کچھ لوگ اسی الجھن اور   بے چینی سے تنگ آکر خود کو ختم کر لیتے ہیں اس کے پیچھے بھی دماغ کی بھوک کا عنصر ہوتا ہے.

سائنسدان ریسرچ سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں ذہن کا مثبت استعمال انسان کے لئے بہت مفید ہے ۔ دماغ کی ایکٹیوٹی نرو سیلز کے درمیان نئے کنکشن پیدا کرتی ہے اور دماغ کو نےء سیل  بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔   ذہن  کو متحرک رکھنے والی کوئی بھی ایکٹیویٹی دماغ کو تروتازہ اور جوان رکھتی ہے. جیسے کہ نئے علوم حاصل کرنا. مختلف گورکھ دھندوں کو حل کرنا ریاضی کے مسلے حل کرنا،  کوئی نئی زبان سیکھنا، یا ایسے تجربات کرنا جس میں ذہنی مشقت  ہو اس میں مختلف اقسام کی ڈرائنگز ، پینٹنگز بھی شامل ہیں۔

روزمرہ کی ورزش جس میں انسان مختلف مسلز استعمال کرتا ہے. دماغ میں خون کی  شریانوں میں اضافہ کرتی ہے اورآکسیجن سے بھرپور خون دماغ کے اس حصے کو سپلائی کرتی ہیں  جو کہ ہماری سوچنے کے عمل  اور تخلیقی کاوش میں کام آتا ہے اس کے علاوہ روز  کی ورزش دماغ کے درمیان روابط کو بہتر بناتی ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ انہیں لچکدار اور مشکلات کو سمجھنے اورحل کرنے کے قابل بناتی ہے.

جو لوگ بہت زیادہ پریشان یا ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں یا جن کی نیند پوری نہ ہوتی ہو اور ہر وقت تھکاوٹ کا شکار رہتے ہو ان لوگوں میں ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے.

جن لوگوں کے معاشرتی تعلقات مضبوط اور مثبت ہوتے ہیں ان کو بڑھاپے میں بھولنے کی بیماری کم لگتی ہے کیونکہ وہ لوگ پریشانیاں بانٹ کے اپنے ذہن کو ہلکا پھلکا کر لیتے ہیں۔


اچھی ذہنی صحت کا مطلب صرف ذہنی بیماریوں سے نجات ہی نہیں بلکہ ہم کیا سوچتے ہیں ,کیسا محسوس کرتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کیسا رویہ اپناتے ہیں یہ سب چیزیں ہمارے ذہن کی صلاحیتوں مثلا ذہنی دباؤ کو ختم کرنا, چیلنجز کا مقابلہ کرنا, نئے رشتے بنانا اور روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے معاملات پر اثر انداز ہونا کے مرہون منت ہوتے ہیں. اگر ہم لوگ اپنے دماغ کی بھوک کو مد نظر رکھتے ہوئے ,اسکو پسندیدہ کاموں میں مصروف رکھیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنی تمام زندگی پور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں گے لیکن اگر ہم اپنی سہل پسندی کو مد نظر رکھتے ہوئے دماغ کی بھوک کو نظر انداز کردیں گے تو بڑھتی عمر کے ساتھ تباہ کن زندگی ہماری منتظر ہوگی ورنہ ہمارے دماغ کی صلاحیتیں ہمیں نوجوانی میں ہی بھٹکا کر ختم کر دیں گی۔

دماغ کی موت کیسے ہوتی ہے؟

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ نیورونز کو اگر چند منٹ کے لیے بھی خون کے ذریعے آکسیجن اور گلوکوز کی فراہمی منقطع ہو جائے تو وہ مستقل طور پر ناکارہ کیوں ہو جاتے ہیں- نیورونز میں مختلف ions چارج پیدا کرتے ہیں جس سے وہ کرنٹ  کی پلس بنتی ہے جس سے نیورونز ایک دوسرے سے انفارمیشن کا تبادلہ کرتے ہیں- عام طور پر نیورونز پر منفی 70 ملی وولٹ کا پوٹینشل ہوتا ہے- اس پوٹینشل کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نیورونز کی بیرونی ممبرین میں آئن پمپ ہوتے ہیں جو مثبت آئنز کو نیورون سے باہر دھکیلتے ہیں- اس طرح نیورونز میں منفی چارج پیدا ہوتا ہے- ان آئن پمپس کو انرجی درکار ہوتی ہے جو آکسیجن اور گلوکوز سے حاصل ہوتی ہے- دماغ اسی لیے جسم کی بیس فیصد توانائی استعمال کرتا ہے کہ یہ آئن پمپ ہر وقت کام کر رہے ہوتے ہیں- 


جب دماغ کو خون کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے تو نیورونز میں یہ آئن پمپ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں- اس لیے نیورونز میں کیلشیم، پوٹاشیم اور سوڈیم آئنز جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں- ان آئنز کی وجہ سے ایک تو نیورونز کا پوٹینشل مثبت ہو جاتا ہے جس وجہ سے وہ فائر کرنے کے قابل نہیں رہتے، دوسرے سوڈیم کے آئنز زیادہ ہو جانے سے نیورونز میں اوسموسس کے پراسیس سے پانی کی مقدار بڑھنے لگتی ہے- اس سے نیورونز پھولنے لگتے ہیں اور ان کی بیرونی ممبرین پھٹ جاتی ہے اور ان کا جینیاتی مواد ضائع ہو جاتا ہے- اس لیے دماغ کے نیورونز آکسیجن اور گلوکوز کی محرومی سے چند منٹ کے اندر اندر ہی مستقل طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں- اس کے بعد کسی کرنٹ، وولٹیج یا کسی اور طریقے سے ان نیورونز کو دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں ہوتا، بالکل اسی طرح جیسے اگر کوئی کار کسی حادثے میں مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو اسے دوبارہ ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہوتا


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دماغ کو دوبارہ ری اسٹارٹ کیا جا سکتا ہے؟

تو سادہ سا جواب تو ہے کہ فی الحال نہیں!

ہاں البتہ سائنس فکشن اس کے ممکنات کے اشارے دیتا ہے اور مزید اس بارے تحقیقات ہورہی ہیں کہ جسم کے باقی عضویات کی طرح دماغ کو بھی ریپیئر یا دوبارہ کام کے قابل بنایا جا سکے۔ 

فی الوقت اس میں کیا چیلنجز حائل ہیں؟

فی الوقت ہم نہیں جانتے کہ تباہ ہو جانیوالے نیورانز کو کیسے دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔

دماغ جانداروں کا پیچیدہ ترین عضو ہے، فی الوقت ہم اس کے پیچیدہ نیٹ ورک میں فنکشن کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاکہ پھر ریورس میتھڈ اپلائی کیا جاسکے۔

اور سب سے آخر اگر ہم ایسا دوبارہ کرلیتے ہیں تو پرانی یاداشت اور شعور کو دوبارہ حاصل کرنا نیکسٹ چیلنج ہو گا، کیونکہ اس کے بغیر تو جاندار انسان انسان نہیں ہو گا۔

ان چیلنجز کے باوجود تحقیق آگے بڑھ رہی ہے۔ اور کچھ امید افزا ممکنات بھی ہیں۔

کرائیونکس Cryonics

اس میں خیال ہے کہ جسم کو بشمول دماغ منفی 196 ڈگری پر کنٹرولڈ طریقے سے فریز کردیا جائے، خون اور رطوبتوں وغیرہ کو cryoprotectants سے تبدیل کردیا جائے تاکہ یہ برف نہ بن جائیں، اور پھر اس وٹریفائیڈ باڈی کو نائٹروجن میں محفوظ کر دیا جائے،  تاآنکہ مستقبل میں جب مرنے والی بیماری کا علاج ممکن ہو سکے تو جسم کو دوبارہ سٹارٹ کرکے علاج کر لیا جائے گا۔

اس طریقہ کار کی کامیابی کی بہت امیدیں ہیں، خاص طور اگر نینومیڈیسنز میں ہونیوالی پیش رفت کے انوسار۔ تاہم یہ ابھی سائنس فکشن ہے۔

دوسری تحقیق: نیوروجنریشن: 

سائنسدان نئے نیوران بنانے سے متعلق تحقیق کررہے ہیں تاکہ دماغ کے فوت شدہ نیورانز کو بدلا جاسکا.

دماغ-کمپیوٹر انٹرفیس: یہ تیسرا ممکن طریقہ ہے جس میں دماغ کو کمپیوٹر کیساتھ جوڑ کر اسے فعال رکھا جاسکے تاہم اس میں دماغ کو ری اسٹارٹ وغیرہ ممکن نہیں۔

آپٹوجینیٹکس Optogenetics








حوالہ جات؛ 

غذا میں وٹامنز کا استعمال: آپ کے دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے کون سا وٹامن بہترین ہے؟

’انسرٹین زون‘: پراسراریت میں لپٹا انسانی دماغ کا وہ حصہ جو سائنسدانوں کے لیے آج بھی ایک معمہ ہے

حیاتیاتی علوم میں پیشرفت

کیا ہمارا دماغ پلاسٹ جیسا ہے جو حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہے اور دوبارہ پیدا ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے

کیا شعور محض ایک فریب ہے؟

40 سال کی عمر کے بعد انسانی دماغ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور اسے صحت مند کیسے رکھا جا سکتا ہے؟

انسانی دماغ میں موجود وہ خصوصیات جو انسان کو جانوروں سے زیادہ ذہین بناتی ہیں

References:

Why Forgetting is Good for Your Memory | Columbia University Department of Psychiatry (columbiapsychiatry.org)

How Do Our Minds Work According to David Hume?

How Mindfulness and Focusing Attention Can Benefit Cognition

New Studies Prove the Brain Is Still a Mystery

Critical Strategies to Get Your Brain Ready to Learn

How the brain turns light waves into rich colors and experiences

The human brain has been shrinking – and no-one quite knows why


بدھ، 3 نومبر، 2021

Quantum Science in urdu

 عمومی سائنس سے خصوصی سائنس تک

عمومی سائنس سے مراد کلاسیک سائنس ہے جس کی دنیا یہ (بظاہر) کائنات ہے۔

جبکہ خصوصی سائنس سے مراد کوانٹم سائنس ہے جس کی دنیا ایٹم کے اندر بسی ہے۔

کلاسک سائنس اگر اصول یقین (Determination) پر مبنی ہے تو کوانٹم فزکس اصول غیریقینی (Probability) سے اپنی ابتدا کرتی ہے۔  

روویلی اپنی کتاب "حقیقت وہ نہیں ہے جو نظر آتی ہے" میں لکھتے ہیں کہ سائنس یقین کے بارے میں نہیں ہے اور نہ کبھی رہی ہے۔ ہم اگر صرف ایک اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں کہ ہمارے عقائد غلط ثابت بھی ہو سکتے ہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ پھر ہم اپنے آپ کو ان غلط عقائد یا خیالات سے آزاد کرا لیں؟



کلاسک سائنس اگر ہمیں حتمی حقائق اور طے شدہ نتائج سے بہرہ ور کرواتی ہے تو کوانٹم سائنس ہمیں مزید تجسس اور حیرانگی کی طرف دھکیل دیتی ہے ہم چیزوں کو جان کربھی ان کی حقیقت کے بارے شک میں مبتلا ہوتے جاتے ہیں۔انسان نے جب ایٹم کے اندر جھانکا تو وہاں ایک الگ دنیا س کی منتظر تھی۔ اسی سے متعلق نیل بوہر نے کہا تھا کہ اگر کوانٹم فزکس پڑھ کر آپ کو دھچکا نہیں لگا تو دراصل آپ کوانٹم فزکس کو سمجھے ہی نہیں۔



اس کی سادہ سی مثال ایٹم کے چھوٹے سے ذرے الیکٹران کی سپرپوزیشن ہے جس میں الیکٹران یا پروٹان بیک وقت ایک سے زائد جگہوں پر موجود ہوں، سائنسدانوں نے ہئیلیم ایٹم کی سپرپوزیشن کو کمپیوٹر پر ٹریک کیا تو یہ ایٹم بیک وقت دس راستوں پر اپنے نشانات چھوڑ گیا مگر جہاں بھی مشاہدے میں آیا وہاں سے ختم ہو گیا۔

 شروڈنگر Schrödinger کی بلی کا فرضی تجربہ جو کوانٹم سپرپوزیشن کے تضاد کی عکاسی کرتا ہے جس میں مشاہدی کی بنیاد پر بلی کو بیک وقت زندہ اور مردہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

جب کلاسک سائنس اس کائنات کے راز انسان پر منکشف کرتی جارہی تھی ایسے میں کوانٹم سائنس نے انسان کو حیرت کے نئے سمندروں میں غرق کردیا۔ انسان جان کر بھی انجان بننا شروع ہوگیا۔



کلاسک سائنس اگر اجسام فلکیات کی نوعیت معلوم کررہی ہے تو کوانٹم سائنس چھوٹے سے چھوٹے ذرات کی ماہیت جاننے کی کوشش کررہی ہے۔ سائنسدانوں نے سویٹزرلینڈ میں ایک 27 کلومیٹر لمبی سرنگ 10 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے بنائی۔ اس میں سائنسدانوں نے بگ بینگ دھماکہ کے جیسا ابتدائی ماحول پیدا کر کے ھگز بوسن ذرے کو پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس ذرے سے متعلق خیال ہے کہ یہ ذرہ کائنات کی تخلیق کا سبب بنا تھا۔ تجربے میں ھگز بوسن ذرے کا وجود ثابت ہوا لیکن اس کا ڈھونڈنا بہت مشکل ثابت ہوا کیونکہ یہ ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کے وقت جتنا ظاہر ہوتا ہے (اس پروجیکٹ پر ابھی بھی کام ہورہا ہے جوکہ 2027 میں مکمل ہونے کی امید ہے)

سائنسدانوں کا خیال ہے ہماری کائنات اسی طرح کے چھوٹے ذرات سے بنی ہے جن کا آپس میں رابطہ ہے جو کائنات کے افعال کو کنٹرول کرتے ہیں ان کیمطابق خلا نامی کوئی وجود نہیں بلکہ خلا بھی ایسے ذرات سے بنا اور جڑا ہے۔ ہائینز پیگل (فزسٹ) کیمطابق کوانٹم فزکس اس کائنات کا کوڈ ہے جو کائنات کی ہر چیز کا آپس میں رابطہ رکھتا ہے۔

شروع میں کلاسک سائنس (ڈیٹرمائنڈ سائنس) نے کوانٹم فزکس کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ برتی کیونکہ کلاسک سائنس کیمطابق ایٹم توانائی خارج نہیں کرتا تھا اسی بنا پر بوہر نے سوچا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ایٹم کلاسکی سائنس کے اصولوں کے تابع ہی نہ ہو، جس میں آئن سٹائن اور نیل بوہر کی بحث بہت مشہور ہے، آئن سٹائن (جنہوں نے اس پر کام کیا تھا مگر وہ اس کے متغیر نتائج سے غیر مطمئن ہوگئے حالانکہ انہیں طبیعیات کا 1921 کا نوبل انعام "نظریاتی طبیعیات کے لیے ان کی خدمات اور خاص طور پر فوٹو الیکٹرک اثر کے قانون کی دریافت کے لیے" ملا، جو کوانٹم تھیوری کی ترقی میں ایک اہم قدم ہے۔ دیگر متعدد سائنسدانوں نے تو کوانٹم سائنس کو سرے سے رد کردیا
اور اسے محض مفروضہ قرار دیا بلکہ سچ تو یہ تھا کہ کوانٹم فزکس نے کلاسک فزکس کا سر چکرا کر رکھ دیا تھا) کا خیال تھا کہ بنا ربط کوانٹم اینٹینگلمنٹ (دوجڑواں ذرات جو باہم چارجڈ ہوں جو خواہ کتنے بھی دور چلے جایں مگر آپس میں مطابقت قائم رکھتے ہیں یعنی ایک کی حرکت سے دوسرے کی حرکت بھی تبدیل ہوتی ہے ایسے لگتا ہے جیسے ان کو معلوم ہو کہ ہم ان کا مشاہدہ کرنے والے ہیں) ممکن نہیں مگر ہائز نبرگ نے بوہر کو صحیح ثابت کردیا۔ مگر اب سوال تھا کہ یہ سب کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہی سہی مگر کیسے صحیح تھا۔ 


جہاں کوانٹم سائنس سے کلاسک سائنس (scientism)کے یقین کو چیلنج کیا ہے وہیں پر کوانٹم سائنس نے مابعدالطبیعات کے لیے بھی امید کی کرن (بزعم ) پیدا کی ہے. پاکستان کے صوفیانہ سوچ رکھنے والے اشفاق احمد نے بھی اپنے مشہور زمانہ ڈرامہ من چلے کا سودا میں کوانٹم سائنس کو مابعدالطبیعات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ 
 
لیکن اپنی تمام تر گنجلکوں کے باوجود کوانٹم سائنس ہمارے لیے کچھ نیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے کہ مستقبل کی سائنس کوانٹم سائنس ہے تو کچھ مبالغہ نہ ہو گا۔

کمپیوٹرز، اسمارٹ فونز، جی پی ایس: کوانٹم فزکس نے بہت سی تکنیکی ترقی کو قابل عمل بنایا ہے۔ یہ اب انتہائی محفوظ ٹیلی کمیونیکیشن اور نیٹ ورکس کی ترقی کے مقاصد کے ساتھ پیغامات کی خفیہ کوڈنگ میں تحقیق کے نئے شعبے بھی کھول رہا ہے۔ اگر آپٹیکل فائبر کے ذریعے بھیجے گئے پیغام کو بیچ میں کوئی انٹرسیپٹ کرتا ہے تو سپر پوزیشن کے فینامینا کی بدولت فوٹان کی حرکت یا رکاوٹ سے میسج سینڈر کو فوراً پتہ لگ جائے گا. 


کوانٹم مکینکس کی بدولت سائنسدان ایسے مادے (میٹا میٹیریل) بنانے کے قابل ہوگے ہیں جو مختلف کیفیات کو محسوس کرکے خود آزادنہ فیصلہ کرسکتے ہیں، اس مادے کی مدد سے سائنسدان ایسی مشینیں بنا سکتے ہیں جو ایک روبوٹ سے کہیں بڑھ کر ہو سکتی ہیں جو سوچ سمجھ اور محسوس کرکے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں گی.


اگر ہم ایٹمی ذرات کی نقل وحرکت کو سمجھنے کے قابل ہوگئے تو پھر ہم بتا سکیں گے کہ یہ مستقبل میں کیا کرنے جارہے ہیں اس طرح ہم مستقبل کو جانچ سکیں گے

ان کے بیچ رابطے کا پتہ لگنے سے کائنات میں روشنی سے بھی تیز کمیونیکشن کی سہولت دستیاب آسکتی ہے۔

حوالہ جات:

غیر یقینی کائنات میں سب کچھ ممکن ہے

سمپسنز کی پیشن گوئیاں اور کائنات کے حادثات


Reference:

Fat Quantum Cats: Physicists’ Record Breaking  Cat Experiment

Quantum Physics Can Explain Earth’s Weather

Quantum entanglement visualised for the first time ever

Electric Cooling Could Shrink Quantum Computers Vacuum-tube effect might simplify cryogenic chambers

 The Uncertainty Principle | Genius

Pyramids, dark matter & the Big Bang theory - What’s holding our universe together? | DW Documentary