Translate

جمعرات، 15 اگست، 2024

انسانی دماغ

 اگر کہا جائے کے اس کائنات کی سب سے عظیم شے دماغ ہے تو غلط نہ ہو گا،



اب تک کی سائنسی تحقیق کیمطابق ہمارا دماغ پیچیدہ ترین عضو ہے، اس میں تصوارات کیسے جنم لیتے ہیں، یہ تصوارات پھر کہاں ذخیرہ ہوتے ہیں، تاحال معمہ ہے۔



ایک متھ ہے کہ انسان اس وقت اپنے دماغ سے دس فیصد استفادہ کر پا رہا ہے
دماغ اپنی جگہ ہنڈرڈ فیصد موجود ہے بات صرف اس سے کام لینے کی اور اسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔ فرض کریں آج سے سو سال پہلے کا انسان خط بھیجتا تھا پھر کئی دن تک جواب کا انتظار کرتا تھا پھر انسان سے انٹرنیٹ بنا لیا معلومات کا تبادلہ دنوں کی بجاے سیکنڈوں میں ہونے لگا مستقبل کا انسان اس سے بھی تیز چیزیں بنائے گا۔ اس سےآپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ماضی والا انسان اپنی دماغی صلاحیتوں سے کتنا استفادہ کر رہا تھا آج کا انسان بہ نسب ماضی والے کے زیادہ کررہا ہے اور مستقبل والا حال والے سے بھی زیادہ کرے گا
ففٹی پرسنٹ استفادہ کرنے پر انسان دوسری گلیکسیز میں پہنچ چکا ہو گا
اور ہنڈرڈ پرسنٹ پر اپنی اس پرتھوی کو دوبارہ زندگی کے قابل بنا لے گا. مگر اس وقت کے انسان کی ہئیت آج سے بہت مختلف ہو گی. وہ آج کے کمزور انسان کے مقابلے میں ہر لحاظ بہت طاقتور ہو گا
مگر یہ نیوروپلاسٹیسیٹی کیا ہے؟


ہمارا دماغ ہمارے جسم کے ہر حصے کی خبر رکھتا ہے اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے مگر دماغ خود بے حس ہوتا ہے یعنی خود کو محسوس نہیں کر سکتا۔دماغ میں تقریباَ سو ارب خلیات ہوتے ہیں۔ ہر دماغی خلیے کی آگے باریک شاخیں  اوسطاً 50 ڈینڈرائٹس ہوتے ہیں۔ پھر  ہر ڈینڈرائٹ کے آگے سیکڑوں تار جیسے کنیکشنز ’’سائنیپسز‘‘  ہوتے ہیں ۔ ہرتار سے ایک خلیہ جڑا ہوتا ہے ہر خلیے سے ہزاروں  کنیکشن ایک دوسرے سے جڑے ہوتے جو پیغامات کی منتقلی کرتے ہیں۔دماغ میں تقریباَ سات سو کلو میٹر لمبی خون کی نالیوں کا جو جال ہوتا ہے۔دماغ  کو  تاحال  تین  حصوں  میں  تقسیم  کیا  گیا  ہے  پہلا  حصہ  سیریبیرم  زبان  بول چال  سوچ ، جذبات، حس، چکھنے ، سونگھنے، دیکھنے  کو کنٹرول کرتا ہے سیریبیلم  انسان  کے  اندر کمیونیکیشن  کو  کنٹرول  کرتا  ہے۔  برین سٹیم دل ، سانس  اور نظام انہظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ انسان جسمانی طور پراٹھارہ بیس سال تک مکمل ہو جاتا ہے مگر اس کا دماغ لگ بھگ تیس سال تک اپنی نشوونما مکمل کر پاتا ھے
ہماری خوارک سے حاصل کردہ توانئی کا 20فی صد دماغ صرف کر دیتا ہے۔ جبکہ وزن کے اعتبار سے یہ جسم کاصرف دو فیصدہوتا ہے۔ مردوں کا دماغ بہ نسبت عورتوں کے دس فیصد بھاری ہوتا ہے مگر بڑھاپے میں بہ نسبت مردوں کے تین سال زیادہ جوان ہوتا ہے۔ شروع میں دماغ اس سے کہیں زیادہ توانائی کنزیوم کر لیتا تھا جیسے کہ بندر آٹھ گھنٹے کھاتا رہتا ہے مگر پھر جوں جوں انسان نے دماغ زیادہ استعمال کرنا شروع کیا تو دماغ نتیجتا انرجی ایفیشنٹ بنتا چلا گیا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے دماغ جسم کو کھانا کھانے کا کہتا ہے پھر اس کھانے کو ہضم کر کے توانائی حاصل کرتا ہے اس توانائی کی کیلکولیشن کرتا ہے کہ کہاں کہاں کتنی استعمال کرنی ہے۔  جو لوگ روحانیت یا ذہنی مشقیں کرتے ہیں وہ بخوبی یہ چیزیں نوٹ کر سکتے ہیں وہ مراقبہ یا مشقوں والے دنوں میں اپنی خوراک کم کر دیتے ہیں تاکہ صرف اتنی توانائی حاصل کی جائے جو زندہ رہنے اور دماغ کے لیے کافی ہو( اگر دماغ کو بروقت خوراک نہ ملے تو وہ اپنے ہی خلیوں کو کھانا شروع کر دیتا ہے) کیونکہ زیادہ توانائی کی صورت میں دماغ اس توانائی کو ٹھکانے لگانے میں لگا رہے گا اور دماغ کی توجہ بٹ جائے گی۔ خوراک کم کرنے سے یہ لوگ دماغ کا جسم سے رابطہ کم ترین سطح پر لے آتے ہیں اور دماغ کو کلی طور پر اپنی مرضی کی سمت میں لگا لیتے ہیں۔ اس طرح کے مسلسل عمل سے دماغ عام کام چھوڑ کر یہ سپیشل کام شروع کر دیتا ہے اور اس کے نئے کام کے لیے درکار نئے خلیے پیدا یا متحرک کرتا ہے بالکل ایسےجیسے آپ ٹھنڈ والے علاقے میں جاتے ہیں تو نئے گرم کپڑے سلواتے ہیں۔ 
ہم جو روزمرہ کر رہے ہوتے ہیں یا کرنا چاہا رہے ہوتے ہیں یا پھر جو کچھ ہمارے لاشعور میں چھپا ہوتا ہے یا کچھ مسائل کے حل کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔ کبی کبھار ان کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے سوتے ہوے ہمارا دماغ ان مسائل کو اپنے طور پر بہتر طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جسکو خواب کہا جاتا ہے- خواب بھی دراصل تخیل کی ہی ایک کیفیت ہے۔
جب یہ لوگ اپنے دماغ میں یہ نئی صلاحتیں پیدا کر لیتے ہیں تو پھر ان کو تنہائی یا مراقبے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ پھر یہ کھاتے پیتے چلتے پھرتے سیکس کرتے اپنا دماغی تخیلاتی کام جاری رکھتے ہیں یہ بظاہر ہمارے سامنے موجود  ہوتے ہیں مگر دماغی طور پر یہ کہیں اور ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے کوئی چھوٹی موٹی بھول چوک ہو تو درگزر کیا کریں۔ اس کنڈیکٹر کی طرح نہ کریں جس نے سکے غلط گننے پر آئن سٹائن کی بے عزتی کر دی تھی۔
اس طرح کی مشقوں سے انسان ایک خاص چیز کے متعلق سوچنے اور غور کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جو کہ عام حالت میں شاید ممکن نہ ہو. پھر یہ خاص عمل جاری رہتا ہے تاآنکہ وہ پوری چیز کہ جس کے بارے سوچا جا رہا تھا کا ایک تخیلاتی حلیہ تیار ہو جاتا ہے. مورتیاں بنانے والے کمہار سے سقراط نے پوچھا کہ تم یہ اشکال کیسے بنا لیتے ہو. کمہار نے کہا میں پہلے مورتی کا تخیلاتی عکس بناتا اور پھر اپنے ہنر سے اس مٹی کو اس میں ڈھالتا جاتا ہوں. فلسفہ تو تھا ہی تخیل پھر سائنس نے جب اسکو پرکھنا شروع کیا تو اسکے اکثر مفروضے دم توڑتے چلے گے اور بالآخر فلسفیانہ طریقہ کار معدوم ہوتا چلا گیا. مگر آج بھی سائنس تخیل کی مرہون منت ہے. تخیل یعنی دماغ کی بڑھیا کارکردگی.
ایک عام سے عام انسان بھی ان ذہنی مشقوں سے اپنے کردار اور عادات وغیرہ میں بہتری لا سکتا ہے۔ ہرانسان کچھ بنیادی فطرتی عادتیں لے کر پیدا ہوتا ہے پھر کچھ چیزیں اس کو زمانہ دیتا ہے، جیسا کہ میں لڑکپن میں بہت کنجوس تھا میری کوئی چیز گم ہو جاتی تو پریشان ہو جاتا تھا. پھر جب میں نے زندگی کی حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو باور کروانا شروع کیا کہ اصل اہمیت میری ہے چیزوں کی نہیں. پیسہ آتا ہے میں اس کو خرچ کر کچھ خوشیاں حاصل کر لیتا ہوں. اسی طرح اگر کوئی چیز ہو جاتی ہے تو وہ گم نہیں ہوتی بلکہ کسی اور کے پاس چلی جاتی ہے. اگر میری کوئی قیمتی چیز ٹوٹ جاتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ وہ چیز ٹوٹی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں پہلےجیسا. اسی طرح آپ بھی اپنے دماغ کو الگ طرح سوچ پر لگا کر اپنے لاشعور میں کچھ نیا بھر سکتے ہیں. اپنی عادات چینج کر سکتے ہیں
ہاں، اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ دماغ کو بجلی کے جھٹکے 6 ماہ تک ریاضی کی مہارت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ 2013 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ جن طالب علموں نے ٹرانسکرینیئل رینڈم نوائس سٹریمولیشن (TRNS) کا پانچ روزہ کورس حاصل کیا وہ ان طلباء کے مقابلے میں ذہنی ریاضی کے کاموں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جنہوں نے علاج نہیں کروایا تھا۔ TRNS دماغی محرک کی ایک قسم ہے جو دماغ میں نیوران کی سرگرمی میں خلل ڈالنے کے لیے کمزور برقی رو کا استعمال کرتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ TRNS ریاضی کی پروسیسنگ میں شامل دماغی علاقوں کے درمیان رابطے کو بڑھا کر ریاضی کی مہارت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 مطالعہ چھوٹا تھا، ہر گروپ میں صرف 25 طلباء تھے، لیکن نتائج اہم تھے۔ TRNS حاصل کرنے والے طلباء نے کنٹرول گروپ سے 27% تیزی سے ریاضی کی پہیلیاں حل کیں۔ علاج کے چھ ماہ بعد بھی بہتری واضح تھی۔

 محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم، نتائج بتاتے ہیں کہ TRNS ریاضی سیکھنے کی معذوری والے لوگوں کے لیے ایک امید افزا نیا علاج ہو سکتا ہے۔

 یہاں کچھ دیگر مطالعات ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ دماغ کو بجلی کے جھٹکے ریاضی کی مہارت کو بہتر بنا سکتے ہیں:

 2010 میں، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے محققین نے پایا کہ ٹرانسکرینیئل ڈائریکٹ کرنٹ محرک (TDCS)، دماغی محرک کی ایک اور قسم، ایک نیا نمبر سسٹم سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 2011 میں، ٹورنٹو یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ TDCS ذہنی ریاضی کو انجام دینے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 2012 میں، زیورخ یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ TDCS وقت کے دباؤ میں ریاضی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 ان مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ دماغی محرک ریاضی سیکھنے کی معذوری والے لوگوں کے لیے ایک امید افزا نیا علاج ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان نتائج کی تصدیق کرنے اور ریاضی کی مہارت کو بہتر بنانے کے لیے دماغی محرک کی زیادہ سے زیادہ خوراک اور تعدد کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


نیوران

ہر کسی نے نیورونز کے بارے میں سنا ہوتا ہے لیکن دماغ کے دوسرے خلیات کے بارے میں زیادہ نہیں۔ گلیل خلیات نیورونز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔ بہت عرصے تک خیال رہا ہے کہ یہ زیادہ اہم نہیں۔ خیال کیا جاتا رہا کہ ان کا بنیادی فنکشن نیورون کو فزیکل سپورٹ دینا ہے۔ ایسا سٹرکچر دینا ہے جہاں پر نیورون اپنا کام کر سکیں۔ لیکن اب ہمیں معلوم ہے کہ یہ بہت اہم کیمسٹری میں حصہ لیتے ہیں۔ اس میں مائیلین کی پیداور سے لے کر فضلات کی صفائی تک کے کام ہیں۔  نیورون کے برعکس ان کا طریقہ برقی کے بجائے کیمیائی ہے۔ یہ ان کی سٹڈی کو کچھ دشوار بنا دیتا ہے، اس لئے اس میں تحقیق کی رفتار فی الحال کچھ سست رہے گی۔


Sleep Resets Neurons to Keep Learning Possible

اس بات پر اتفاق نہیں کہ آیا دماغ نئے نیورون بنا سکتا ہے یا نہیں۔ 2018 میں کولمبیا یونیورسٹی کی ایم ٹیم نے اعلان کیا کہ ہپوکیمس کا حصہ یقینی طور پر نئے نیورون بناتا ہے۔ جبکہ کیلے فورنیا یونیورسٹی کی ٹیم نے اسی سال اس سے برعکس اعلان کیا۔ مشکل یہ ہے کہ اس بات کو پہچاننے کا کوئی آسان طریقہ نہیں کہ ایک نیورون نیا ہے یا نہیں۔ 

لیکن ایک بات جس پر کوئی اختلاف نہیں، وہ یہ کہ اگر ہم نئے نیورون بنا بھی سکتے ہیں تو یہ عمر رسیدگی کے ساتھ ہونے والے نقصان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ 

تاہم، دماغ بہت سے نقصان کو برداشت کر سکتا ہے۔ برطانوی ڈاکٹر جیمز لی فانو ایک کیس کا لکھتے ہیں جس میں ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک شخص کی کھوپڑی میں ایک بہت بڑا ٹیومر دو تہائی جگہ لے چکا تھا اور یہ غالباً اس کے بچپن سے تھا۔ بہت کم جگہ دستیاب ہونے کی وجہ سے اس کے دماغ کے فرنٹل لوب نہیں تھے اور کئی دوسرے علاقے بھی نامکمل تھے۔ لیکن باقی ایک تہائی دماغ نے فرائض سنبھال لئے تھے اور اس قدر زبردست طریقے سے ایسا کیا تھا کہ نہ ہی اس شخص کو اور نہ ہی کسی دوسرے کو شک پڑا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہے۔


دماغ کی گروتھ

دماغ کو مکمل طور پر بننے میں بہت وقت لگتا ہے۔ ٹین ایجرز کا دماغ تقریباً اسی فیصد مکمل ہوا ہوتا ہے۔ ابتدائی دو برسوں میں یہ سب سے تیزی سے بڑھتا ہے اور دس سال کی عمر تک پچانوے فیصد مکمل ہو چکا ہوتا ہے لیکن اس کے جوڑ (synapse) کی وائرنگ کی تکمیل 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ اس سے پہلے ایک فرد میں ٹھہراو اور خود احتسابی کی کمی ہوتی ہے۔ منشیات اور الکوحل کے زیادہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ 

نیوکلئیس ایکمبین (nucleus accumbens) ۔۔ دماغ کے سامنے کا حصہ جس کا تعلق لذت سے ہے ۔۔۔ ٹین ایج میں بڑے سائز کا ہو چکا ہوتا ہے۔ جسم ڈوپامین کی زیادہ پیداوار کرتا ہے۔ اس نیوروٹرانسمٹر کا تعلق لذت سے ہے۔ اور اس وجہ سے ٹین ایج میں زندگی کے تجربات کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ ٹین ایجرز کی موت کی سب سے بڑی وجہ حادثات ہیں۔ اور خاص طور پر اگر ایک گاڑی میں ٹین ایجر اکٹھے بیٹھے ہوں تو حادثے کا امکان چار گنا ہو جاتا ہے۔


دماغ پر بڑھاپے کا اثر؟

 دماغ کا حجم ہر 10 سال میں تقریباً 5 فیصد کم ہوتا ہے۔

 سب سے زیادہ متاثر ہونے والا حصہ شعور اور ادراک ہے۔

 یہ 30 سے ​​شروع ہوتا ہے اور یہ 70 سے تیز ہوتا ہے۔

 سائنسی تحقیق کے مطابق دماغ کی پروسیسنگ کی رفتار 60 سال کی عمر سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

کیا آپ بائیں دماغ والے ہیں یا دائیں دماغ والے؟


انسان کے دماغ کے بارے میں ایک مشہور خیال یہ ہے کہ یہ بیچ سے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ بائیں طرف والا حصہ منطق اور سوچ سے جڑے کاموں کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ دائیں طرف والا حصہ تخلیقی صلاحیت اور فن سے جڑے کاموں کو کنٹرول کرتا ہے، 

اس نظر آنیوالی تقسیم کی وجہ سے ہی ماہر نفسیات نے نظریات پیش کیے کہ بائیں طرف کا دماغ اور دائیں طرف کا دماغ الگ الگ کام کرتے ہیں۔

انسان کے دماغ کے درمیانی حصوں، جیسے striatum, thalamus, hypothalamus، اور brainstem، جُڑے ہوئے بافتوں پر مشتمل ہوتے ہیں، لیکن وہ بائیں اور دائیں جانب بھی منظم ہوتے ہیں۔ دماغ کا دائیں اور بائیں جانب جسم کے مختلف کاموں کو کنٹرول کرتے ہیں، جیسے حرکت اور نظر۔ مثال کے طور پر، دماغ کا بائیں طرف دائیں بازو اور ٹانگ کو کنٹرول کرتا ہے، اور اِسی طرح دائیں طرف بائیں بازو اور ٹانگ کو کنٹرول کرتا ہے۔

1800 کی دہائی کے ماہرِ نفسیات

تاہم، اس خیال کو حد سے زیادہ بڑھا کر استعمال کرنا مسائل پیدا کرتا ہے۔ یہ غلط فہمی کہ دماغ کے تقریباً تمام کام یا تو بائیں طرف سے یا دائیں طرف سے کنٹرول ہوتے ہیں، اس کا تعلق 1800 کی دہائی کے ماہرِ نفسیات سے جا ملتا ہے۔

ان کا نتیجہ

انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب انہوں نے یہ دریافت کیا کہ جن مریضوں کو بات چیت کرنے میں مشکل ہوتی تھی ان کے بائیں Schläfenlappen (ٹیمپرل لوب) میں نقص تھا، تو بات چیت دماغ کے بائیں طرف سے کنٹرول ہوتی ہے۔

سکاٹش ناول نگار رابرٹ لوئس اسٹیونسن

یہ خیال سائنسی کمیونٹی کے علاوہ مصنف رابرٹ لوئس اسٹیونسن کے ذوقِ فن کو بھی بھایا، جنہوں نے منطقی بائیں دماغ اور جذباتی دائیں دماغ کے درمیان مقابلے کے بارے میں لکھا۔

ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ

دماغ کے بائیں اور دائیں جانب کرداروں، ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ (جن میں سے ایک اچھا ہے اور دوسرا بد) میں مجسم ہو گئے۔ یہ سلسلہ ترتیب اور انتشار کے تصورات تک بھی جاتا ہے۔

علیحدہ دماغ یا نقصان زدہ دماغ

بعد ازاں، ماہرِ نفسیات نے یہ پایا کہ اگر وہ ان مریضوں کے برتاؤ کا جائزہ لیں جن کے دماغ الگ کر دیئے گئے تھے یا جن کے پاس ایک دماغ نہیں تھا، تو پھر بھی وہ منطقی اور تخلیقی دونوں قسم کے رویے کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔

کچھ کام تو ایک جگہ پر مرکوز ہوتے ہیں، لیکن مکمل طور پر نہیں

تاہم، یہ دریافت ہوا ہے کہ دماغ کا ایک طرف کچھ کاموں کے لیے دوسرے طرف سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔ زبان زیادہ تر بائیں طرف اور توجہ دائیں طرف مرکوز ہوتی ہے۔

یہ نظام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، ہر شخص کے لحاظ سے نہیں

اس لیے، دماغ کا ایک طرف زیادہ کام کر سکتا ہے، لیکن یہ عام طور پر کام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، نہ کہ ہر شخص کے لحاظ سے۔

کسی کا بھی غالب رخ نہیں ہوتا ہے

ایسا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ بتاتا ہو کہ لوگوں کے دماغ کے غالب پہلو ہوتے ہیں۔

فنکار ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دائیں طرف غالب ہے

کچھ لوگ انتہائی منطقی ہو سکتے ہیں اور دوسرے مکمل طور پر تخلیقی اور فنکار لگ سکتے ہیں، لیکن اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ان کے دماغ کے کون سے حصے غالب ہیں۔

منطق کے لیے تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے

مثال کے طور پر، اگر ہمیں ایک پیچیدہ ریاضی کے مسئلے کو حل کرنا ہے، تو ہمیں ایسا کرنے کے لیے انتہائی تخلیقی ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تخلیقی صلاحیت کے لیے منطق کی ضرورت ہوتی ہے

کوئی کم کوئی زیادہ ذہین کیوں؟

یہ درست ہے دماغ کے اندر نیورانز کی ساخت تقریبا  ایک جیسی ہوتی ہے ۔دماغ کوئ کام کس قدر مہارت سے انجام دیتا ہے اس کا دارومدار دو باتوں پر ہوتا ہے ۔

۔1۔اس مہارت کے لئے مختض دماغ کے حصے کا سائز 

۔2۔ اس حصے میں موجود نیورانز کی تعداد اور ان کے باہمی کنکشنز کی تعداد 

مثال کے طور پر آپ کے ہاتھوں کے لئے دماغ کا  مختص حصہ آپ کے پاوں کے لئے مختص حصے سے بڑا ہوتا ہے اس  میں نیورانزکی تعداد اور باہمی کنکشنز زیادہ ہوتے ہیں اس لئے آپ ہاتھ کی حرکات کو  پاوں کی نسبت زیادہ  باریکی  سے کنٹرول کر سکتے ہیں  ایک پیانو پلیئر اور طبلہ نواز کے دماغ میں ہاتھوں کے لئے مختص حصہ ایک عام انسان سے زیادہ ہو گا اور ان میں نیورانز کے باہمی کنکشنزبھی  زیادہ ہوں  گے بلکہ اس حصے کے نیورانز کا اس کی میموری(  ماضی میں  کی گئ میوزک ٹریننگ )  کے ساتھ کنکشن بہت وسیع اور گہرے ہوں گے یہی وجہ ہے کہ وہ انگلیوں اور ہاتھوں کا استعمال ایک عام انسان کی نسبت زیادہ  مہارت سے کر سکتے ہیں۔

عمومی ذہانت کے لئے بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کے cerebral cortex میں نیوران کی تعداد اور باہمی کنکشنز  کم ذہین  انسانوں سے زیادہ ہوتے ہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ مشق اور ریاضت سے اپنے دماغ کے نیورانز اور ان کے باہمی کنکشن بڑھا سکتے ہیں دماغ کی اس حیرت انگیز  صلاحیت کو plasticity  کہا جاتا ہے ۔


دل یا دماغ؟

ہم سوچتے تو دماغ سے ہیں۔ مگر ایسا محسوس کیوں ہوتا ہے کہ دل دماغ سے ایسا کروا رہا ہے؟ 

دراصل، انسان دماغ سے سوچتا ہے لیکن ہر سوچ کا اثر دل پہ پڑتا ہے۔

جب آپ کسی دباؤ یا پریشانی کا شکار ہیں یا کسی سے پیار محسوس کرتے ہیں تو اس دباؤ، پریشانی یا پیار کے بعد کچھ ہارمونز جنہیں ہم سٹریس ہارمون کہتے ہیں وہ ریلیز ہوتے ہیں۔


ان ہارمونز میں کارٹی سول،  ایڈرنالین اور ایپی نیفرین وغیرہ شامل ہیں۔


جب یہ ریلیز ہوتے ہیں تو یہ ہمارے جسم کو کسی بھی قسم کے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہمارے جسم کو اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں جس کو دیکھ کر ہمارا دماغ الرٹ ہوا تھا۔

یہ تیاری،  سب سے پہلے، دل کے دھڑکنے کی رفتار بڑھا کر اور ہاضمے کی رفتار کم کر کے ہوتی ہے۔ ایمرجنسی کی حالت میں یہ ہارمون ہمارے دل کی رفتار بڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے فشار خون بڑھتا ہے اور ہم اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ بلڈ پریشر ہمارے مسلز کو کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ جبکہ ہاضمے کی کم رفتار دل کو دوسرے مسلز تک خون پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔


یہی وہ وجہ ہے کہ جب ہم کسی سے نفرت کرتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا دل ہمیں نفرت پہ مجبور کر رہا ہے۔ یا ہمارا دل غصہ دلا رہا ہے۔


جبکہ درحقیقت یہ سب دماغ کرواتا ہے۔ دل فقط دھڑکنے کی رفتار بدلتا ہے اور یہ دماغ کے احکامات کا نتیجہ ہے۔


یہ سب ہے دماغ کے اختیار میں ہے کہ ہم کیا ری ایکشن دیں گے مگر چونکہ دل تیز دھڑک کر ہمیں ایسا محسوس کراتا ہے تو اس لئے ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ سب دل کنٹرول کر رہا ہے جبکہ درحقیقت ایسا سب دماغ کرتا ہے دل تو بس اسکے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔


ایک خاموش عضو

اپنی تمام تر خاصیتوں کے باوجود، دماغ ایک عجیب خاموش سا عضو ہے۔ دل دھڑکتا ہے، پھیپھڑے ابھرتے اور پچکتے ہیں۔ آنتیں آوازیں نکلتی ہیں۔ جبکہ دماغ میں کچھ ایسا نہیں جس سے شک ہو کہ یہ ہماری سوچ کا مرکز ہے۔ 

اس لئے یہ تعجب کی بات نہیں کہ دماغ کے بارے میں ہماری سمجھ سست رہی ہے۔ یہاں تک کہ اسی وجہ سے کئی کلچرز میں اسی غلط فہمی کے سبب دوسرے اعضاء کو انسانی سوچ کا مرکز قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مثلاً، قدیم مصر میں ممیاں محفوظ کرتے وقت دماغ کو بے کار عضو سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا۔  کھوپڑی کی تاریک کوٹھڑی میں مقید یہ عضو اپنے تمام کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اردو میں ہونے والی “دل اور دماغ کی جنگ” ہو یا انگریزی کی gut feeling، یا پھر یادوں کے طوفان، یہ سب یہیں اس خاموشی میں ہوتا ہے۔

دماغ کی بھوک

دماغ ہمارے جسم کا سب سے اہم عضو ہے اور اس کو بھی  غذا کی ہوتی ضرورت ہے۔

ہمارا دماغ ایک ملٹی ٹیلینٹڈ عضو ہے.  یہ ایک وقت میں بہت سے کام سرانجام دے رہا ہوتا ہے. اور مزید بھی دے سکتا ہے ۔ سائنس اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ آپ دونوں ہاتھوں سے ایک وقت میں مختلف کام لے سکتے ہیں. اکثر ناقدین کہتے ہیں کےاسکول میں بچوں کو بہت زیادہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ ہمارے دماغ کی ضرورت ہے اس عمر میں ہمارا دماغ سیکھ لیتا ہے اسے کس علم میں زیادہ دلچسپی ہے وہ کیا  پڑھنا , کیا لکھنا یا کس سمت میں جانا پسند کرے گا آیا وہ اپنی توانائی تخلیقی علوم میں  یا کسی کھیل میں صرف کرنا چاہتا ہے.  

اور یہی مختلف علوم پڑھ کر یا سیکھ کر ہم پرسکون محسوس کرتے ہیں۔یہی  ہمارے ذہن  کی خوراک ہیں.۔اگر  ہم مناسب وقت پر ،مناسب مقدار کی خوراک دماغ کو مہیا نہں کریں گے تو بہت حد تک ممکن ہے کہ یہ متشدد  ہوجائے, بالکل ایسے ہی جیسے پیٹ کی بھوک انسان میں حلال اور حرام کا فرق ختم کر دیتی ہے۔ اور جنس کی بھوک انسان کو وحشی جانور سے ملا دیتی ہے جنس کی بھوک کی بات چل نکلی ہے تو میں آپ کو بتاتی چلوں کہ ہمارے جسم میں سب سے زیادہ جنسی  خواہشات کو کنٹرول یا بڑھاوا دینے والا  عضو  بھی دماغ ہی ہے ۔ اگر آپ کے دماغ میں جنسی خواہشات جنم نہ لیں تو آپ کسی صورت بھی جنسی تعلق نہیں قائم کر سکتے ۔ اس لئے جو لوگ ہر وقت جنسی معلومات سے بھرپور لٹریچر پڑھتے یا ایسی فلمیں دیکھتے ہیں. ان کے دماغ پر ہروقت جنس کی بھوک سوار رہتی ہے اور یہ لوگ اپنے دماغ کی صلاحیتوں کو انہی کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں.

آپ نے اپنے اردگرد بہت سے الجھے ہوئے لوگ دیکھے ہونگے. جو اپنی بے سروپا یا بے مقصد زندگی سے بہت تنگ ہوتے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں, جنہیں اپنے دماغ کی بھوک کا اندازہ نہیں ہوتا اور وہ اس کی مناسب خوراک کا بندوبست نہیں کر پاتے . ایسے لوگوں کے دماغ کو اگر مثبت رویے پر لگا کر کی دلچسپی پوری نہ کی جائے تو یہ فرد کو منفی رویے کی طرف لے جاتا ہے. یہ منفی رویے اس کی زندگی میں بے سکونی بھر دیتے ہیں کچھ لوگ اسی الجھن اور   بے چینی سے تنگ آکر خود کو ختم کر لیتے ہیں اس کے پیچھے بھی دماغ کی بھوک کا عنصر ہوتا ہے.

سائنسدان ریسرچ سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں ذہن کا مثبت استعمال انسان کے لئے بہت مفید ہے ۔ دماغ کی ایکٹیوٹی نرو سیلز کے درمیان نئے کنکشن پیدا کرتی ہے اور دماغ کو نےء سیل  بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔   ذہن  کو متحرک رکھنے والی کوئی بھی ایکٹیویٹی دماغ کو تروتازہ اور جوان رکھتی ہے. جیسے کہ نئے علوم حاصل کرنا. مختلف گورکھ دھندوں کو حل کرنا ریاضی کے مسلے حل کرنا،  کوئی نئی زبان سیکھنا، یا ایسے تجربات کرنا جس میں ذہنی مشقت  ہو اس میں مختلف اقسام کی ڈرائنگز ، پینٹنگز بھی شامل ہیں۔

روزمرہ کی ورزش جس میں انسان مختلف مسلز استعمال کرتا ہے. دماغ میں خون کی  شریانوں میں اضافہ کرتی ہے اورآکسیجن سے بھرپور خون دماغ کے اس حصے کو سپلائی کرتی ہیں  جو کہ ہماری سوچنے کے عمل  اور تخلیقی کاوش میں کام آتا ہے اس کے علاوہ روز  کی ورزش دماغ کے درمیان روابط کو بہتر بناتی ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ انہیں لچکدار اور مشکلات کو سمجھنے اورحل کرنے کے قابل بناتی ہے.

جو لوگ بہت زیادہ پریشان یا ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں یا جن کی نیند پوری نہ ہوتی ہو اور ہر وقت تھکاوٹ کا شکار رہتے ہو ان لوگوں میں ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے.

جن لوگوں کے معاشرتی تعلقات مضبوط اور مثبت ہوتے ہیں ان کو بڑھاپے میں بھولنے کی بیماری کم لگتی ہے کیونکہ وہ لوگ پریشانیاں بانٹ کے اپنے ذہن کو ہلکا پھلکا کر لیتے ہیں۔


اچھی ذہنی صحت کا مطلب صرف ذہنی بیماریوں سے نجات ہی نہیں بلکہ ہم کیا سوچتے ہیں ,کیسا محسوس کرتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کیسا رویہ اپناتے ہیں یہ سب چیزیں ہمارے ذہن کی صلاحیتوں مثلا ذہنی دباؤ کو ختم کرنا, چیلنجز کا مقابلہ کرنا, نئے رشتے بنانا اور روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے معاملات پر اثر انداز ہونا کے مرہون منت ہوتے ہیں. اگر ہم لوگ اپنے دماغ کی بھوک کو مد نظر رکھتے ہوئے ,اسکو پسندیدہ کاموں میں مصروف رکھیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنی تمام زندگی پور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں گے لیکن اگر ہم اپنی سہل پسندی کو مد نظر رکھتے ہوئے دماغ کی بھوک کو نظر انداز کردیں گے تو بڑھتی عمر کے ساتھ تباہ کن زندگی ہماری منتظر ہوگی ورنہ ہمارے دماغ کی صلاحیتیں ہمیں نوجوانی میں ہی بھٹکا کر ختم کر دیں گی۔

دماغ کی موت کیسے ہوتی ہے؟

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ نیورونز کو اگر چند منٹ کے لیے بھی خون کے ذریعے آکسیجن اور گلوکوز کی فراہمی منقطع ہو جائے تو وہ مستقل طور پر ناکارہ کیوں ہو جاتے ہیں- نیورونز میں مختلف ions چارج پیدا کرتے ہیں جس سے وہ کرنٹ  کی پلس بنتی ہے جس سے نیورونز ایک دوسرے سے انفارمیشن کا تبادلہ کرتے ہیں- عام طور پر نیورونز پر منفی 70 ملی وولٹ کا پوٹینشل ہوتا ہے- اس پوٹینشل کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نیورونز کی بیرونی ممبرین میں آئن پمپ ہوتے ہیں جو مثبت آئنز کو نیورون سے باہر دھکیلتے ہیں- اس طرح نیورونز میں منفی چارج پیدا ہوتا ہے- ان آئن پمپس کو انرجی درکار ہوتی ہے جو آکسیجن اور گلوکوز سے حاصل ہوتی ہے- دماغ اسی لیے جسم کی بیس فیصد توانائی استعمال کرتا ہے کہ یہ آئن پمپ ہر وقت کام کر رہے ہوتے ہیں- 


جب دماغ کو خون کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے تو نیورونز میں یہ آئن پمپ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں- اس لیے نیورونز میں کیلشیم، پوٹاشیم اور سوڈیم آئنز جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں- ان آئنز کی وجہ سے ایک تو نیورونز کا پوٹینشل مثبت ہو جاتا ہے جس وجہ سے وہ فائر کرنے کے قابل نہیں رہتے، دوسرے سوڈیم کے آئنز زیادہ ہو جانے سے نیورونز میں اوسموسس کے پراسیس سے پانی کی مقدار بڑھنے لگتی ہے- اس سے نیورونز پھولنے لگتے ہیں اور ان کی بیرونی ممبرین پھٹ جاتی ہے اور ان کا جینیاتی مواد ضائع ہو جاتا ہے- اس لیے دماغ کے نیورونز آکسیجن اور گلوکوز کی محرومی سے چند منٹ کے اندر اندر ہی مستقل طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں- اس کے بعد کسی کرنٹ، وولٹیج یا کسی اور طریقے سے ان نیورونز کو دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں ہوتا، بالکل اسی طرح جیسے اگر کوئی کار کسی حادثے میں مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو اسے دوبارہ ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہوتا


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دماغ کو دوبارہ ری اسٹارٹ کیا جا سکتا ہے؟

تو سادہ سا جواب تو ہے کہ فی الحال نہیں!

ہاں البتہ سائنس فکشن اس کے ممکنات کے اشارے دیتا ہے اور مزید اس بارے تحقیقات ہورہی ہیں کہ جسم کے باقی عضویات کی طرح دماغ کو بھی ریپیئر یا دوبارہ کام کے قابل بنایا جا سکے۔ 

فی الوقت اس میں کیا چیلنجز حائل ہیں؟

فی الوقت ہم نہیں جانتے کہ تباہ ہو جانیوالے نیورانز کو کیسے دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔

دماغ جانداروں کا پیچیدہ ترین عضو ہے، فی الوقت ہم اس کے پیچیدہ نیٹ ورک میں فنکشن کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاکہ پھر ریورس میتھڈ اپلائی کیا جاسکے۔

اور سب سے آخر اگر ہم ایسا دوبارہ کرلیتے ہیں تو پرانی یاداشت اور شعور کو دوبارہ حاصل کرنا نیکسٹ چیلنج ہو گا، کیونکہ اس کے بغیر تو جاندار انسان انسان نہیں ہو گا۔

ان چیلنجز کے باوجود تحقیق آگے بڑھ رہی ہے۔ اور کچھ امید افزا ممکنات بھی ہیں۔

کرائیونکس Cryonics

اس میں خیال ہے کہ جسم کو بشمول دماغ منفی 196 ڈگری پر کنٹرولڈ طریقے سے فریز کردیا جائے، خون اور رطوبتوں وغیرہ کو cryoprotectants سے تبدیل کردیا جائے تاکہ یہ برف نہ بن جائیں، اور پھر اس وٹریفائیڈ باڈی کو نائٹروجن میں محفوظ کر دیا جائے،  تاآنکہ مستقبل میں جب مرنے والی بیماری کا علاج ممکن ہو سکے تو جسم کو دوبارہ سٹارٹ کرکے علاج کر لیا جائے گا۔

اس طریقہ کار کی کامیابی کی بہت امیدیں ہیں، خاص طور اگر نینومیڈیسنز میں ہونیوالی پیش رفت کے انوسار۔ تاہم یہ ابھی سائنس فکشن ہے۔

دوسری تحقیق: نیوروجنریشن: 

سائنسدان نئے نیوران بنانے سے متعلق تحقیق کررہے ہیں تاکہ دماغ کے فوت شدہ نیورانز کو بدلا جاسکا.

دماغ-کمپیوٹر انٹرفیس: یہ تیسرا ممکن طریقہ ہے جس میں دماغ کو کمپیوٹر کیساتھ جوڑ کر اسے فعال رکھا جاسکے تاہم اس میں دماغ کو ری اسٹارٹ وغیرہ ممکن نہیں۔

آپٹوجینیٹکس Optogenetics








حوالہ جات؛ 

غذا میں وٹامنز کا استعمال: آپ کے دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے کون سا وٹامن بہترین ہے؟

’انسرٹین زون‘: پراسراریت میں لپٹا انسانی دماغ کا وہ حصہ جو سائنسدانوں کے لیے آج بھی ایک معمہ ہے

حیاتیاتی علوم میں پیشرفت

کیا ہمارا دماغ پلاسٹ جیسا ہے جو حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہے اور دوبارہ پیدا ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے

کیا شعور محض ایک فریب ہے؟

40 سال کی عمر کے بعد انسانی دماغ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور اسے صحت مند کیسے رکھا جا سکتا ہے؟

انسانی دماغ میں موجود وہ خصوصیات جو انسان کو جانوروں سے زیادہ ذہین بناتی ہیں

References:

Why Forgetting is Good for Your Memory | Columbia University Department of Psychiatry (columbiapsychiatry.org)

How Do Our Minds Work According to David Hume?

How Mindfulness and Focusing Attention Can Benefit Cognition

New Studies Prove the Brain Is Still a Mystery

Critical Strategies to Get Your Brain Ready to Learn

How the brain turns light waves into rich colors and experiences

The human brain has been shrinking – and no-one quite knows why


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں