Translate

جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

صندل کی کاشت: اربوں روپے کا خواب یا سائنسی حقیقت؟ پاکستان میں اقتصادی امکانات اور ماحولیاتی چیلنجز کا جائزہ

 سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں صندل کے درختوں کی کاشت کے متعلق ایک گرما گرم بحث چل رہی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک ایکڑ زمین پر 400 صندل کے درخت لگا کر کوئی بھی شخص لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کما کر امیر بن سکتا ہے۔ چونکہ یہ ایک غیر معمولی دعویٰ ہے، لہٰذا اس کی سائنسی بنیادوں اور زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا واقعی پاکستان میں صندل کی کاشت اتنی منافع بخش اور ماحولیاتی طور پر موزوں ہے؟

صندل کے پودے (Santalum album) کی خصوصیات

صندل (انڈین صندل ووڈ) ایک ہمیشہ ہرا (evergreen) اور سست بڑھنے والا درخت ہے، جو ایک نیم پیراسائٹک (hemiparasitic) پودا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا، خاص طور پر بھارت اور آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے، اور پاکستان میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ بالغ درخت کی خصوصیات مختلف حالات پر منحصر ہوتی ہیں، لیکن عام طور پر درج ذیل ہیں۔ نوٹ: وزن کی بجائے لکڑی کی کثافت (density) زیادہ اہم ہے، کیونکہ درخت کا کل وزن تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

قد (Height)

بالغ درخت کی اونچائی عام طور پر 4 سے 9 میٹر (13 سے 30 فٹ) ہوتی ہے۔

بھارت جیسے علاقوں میں یہ 20 میٹر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ آسٹریلیا میں صرف 4 میٹر تک محدود رہتا ہے۔

تراش (girth): 2.4 میٹر تک، تنے کی قطر 10-15 سینٹی میٹر (4-6 انچ)۔

وزن (Weight)

درخت کا کل وزن براہ راست بیان نہیں کیا جاتا، کیونکہ یہ عمر، ماحول اور نشوونما پر منحصر ہے۔ تاہم، دل کی لکڑی (heartwood) کی کثافت 0.85 سے 0.95 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر ہوتی ہے، جو اسے مضبوط اور قیمتی بناتی ہے۔

ایک بالغ درخت سے 15-25 کلو دل کی لکڑی نکل سکتی ہے، جو کل وزن کا اہم حصہ ہے (قیمت کی وجہ سے)۔


صندل کے درخت میں قیمتی چیز

صندل کے درخت (Santalum album) میں اصل قیمتی چیز دل کی لکڑی (heartwood) ہے، جو درخت کے اندرونی مرکزی حصہ ہوتی ہے۔ یہ لکڑی اپنی مخصوص خوشبو اور تیل کی وجہ سے انتہائی قیمتی ہوتی ہے، جو عطر، ادویات، مذہبی رسومات اور کاسمیٹکس میں استعمال ہوتی ہے۔ دل کی لکڑی میں سنٹالول (santalol) نامی تیل پایا جاتا ہے، جو 90% تک اس تیل کا حصہ ہوتا ہے، اور یہ تیل کی مقدار 2-6.2% تک ہو سکتی ہے۔

مقدار (Quantity)

دل کی لکڑی کی مقدار درخت کی عمر، دیکھ بھال، ہوسٹ پودوں اور ماحول پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر:

15-20 سال کی عمر میں: ایک درخت سے 12-20 کلوگرام دل کی لکڑی مل سکتی ہے (کل وزن 120-180 کلوگرام ہوتا ہے، جس میں سے 10-15% heartwood)۔ اس سے تیل کی مقدار 0.24-1.24 کلوگرام (2-6%) ہو سکتی ہے۔

25-30 سال کی عمر میں: 20-50 کلوگرام تک، خاص طور پر اچھی حالت میں (کچھ ذرائع میں 300-500 کلوگرام کا دعویٰ ہے، لیکن یہ نایاب اور مبالغہ آمیز ہے)۔


غیر مقامی درخت اور ابتدائی کامیابی

ضلعی فارسٹ آفیسر (ڈی ایف او) جہلم کے مطابق، صندل بنیادی طور پر ہمارا مقامی پودا نہیں ہے۔ یہ درخت انڈیا، سری لنکا، اور ملائیشیا جیسے ملکوں کا ہے۔ تاہم، پاکستان میں اس کی کامیابی کے ابتدائی اشارے ملتے ہیں۔ 1985 میں کراچی میں کی گئی ایک ریسرچ نے یہ ثابت کیا تھا کہ صندل کا درخت پاکستان کی سر زمین پر 'بطور درخت کامیاب ہے'۔

اقتصادی امکانات اور 'اربوں' کا دعویٰ

اگرچہ کروڑوں یا اربوں روپے کمانے کے دعوے گردش کر رہے ہیں، سائنسی مطالعہ اس کی تائید نہیں کرتا۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار کے حساب سے، ایک صندل کا درخت 15 سے 20 سالوں کے عرصے میں پاکستانی کرنسی میں تقریباً 10 سے 15 لاکھ روپے کی پیداوار دے سکتا ہے۔

اگر یہ حساب درست بھی مانا جائے، تب بھی ایک ایکڑ پر 400 درخت لگانے سے کل آمدنی تقریباً 30 سے 40 کروڑ روپے ہو گی، جو ایک بہت بڑی رقم ہے مگر اربوں روپے میں نہیں جائے گی۔ تاہم، یہ آمدنی بھی شک و شبہ کا شکار ہے کیونکہ ہمارا موجودہ موسم صندل کے لیے آئیڈیل کنڈیشنز فراہم نہیں کرتا۔ صندل سے اصل آمدنی لکڑی سے تیل نکالنے سے ہوتی ہے، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق یہ تیل لکڑی کا 5 سے 7 فیصد ہونا چاہیے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہمارے ماحول میں یہ مطلوبہ 5 سے 7 فیصد تیل کی مقدار حاصل ہو سکے گی۔

قیمتی 'ہارڈ وُڈ' کی پیداوار پر سائنسی خلا

صندل کی لکڑی کے دو اہم حصے ہوتے ہیں: ایک ہلکے رنگ کی بیرونی تہہ جسے سیف وُڈ کہتے ہیں، اور دوسری گہرے رنگ کی اندرونی تہہ جسے ہارڈ وُڈ کہا جاتا ہے۔ یہ ہارڈ وُڈ (جو براؤن یا ریڈش رنگ کی ہوتی ہے) ہی قابل استعمال اور مفید مٹیریل ہوتا ہے۔ سب سے بڑا سائنسی خلا یہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک کوئی ریسرچ موجود نہیں ہے جو یہ تصدیق کرے کہ پاکستان کے موسمی حالات ہارڈ وُڈ کی پیداوار کو سپورٹ کریں گے۔ یہ ممکن ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی ہارڈ وُڈ دوسرے ملکوں کی نسبت کمزور ہو۔

صندل کی کاشت کے لیے ماحولیاتی تقاضے اور چیلنجز

صندل کی کامیابی بہت حد تک مخصوص موسمیاتی ضروریات پر منحصر ہے:

1.  درجہ حرارت کا انتظام: صندل کے لیے مثالی درجہ حرارت 25 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ چونکہ پاکستان کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، لہٰذا اس پودے کو ایک موزوں 'مائیکرو کلائمیٹ' فراہم کرنے کے لیے شیڈ (سایہ) دینا ضروری ہے۔

2.  پانی اور بارش: صندل کو 700 سے 1000 ملی میٹر تک بارش درکار ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان ایک سیمی ایریڈ زون میں آتا ہے، اس کمی کو آبپاشی (Irrigation) کے ذریعے پورا کرنا پڑے گا۔

3.  نیم طفیلی (Semi-Parasitic) فطرت: صندل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سیمی پیراسائٹل ہے، یعنی اسے اپنی خوراک کے لیے کسی نہ کسی ہوسٹ پلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی جڑیں ساتھ والے پودے کی جڑوں سے جڑ کر خوراک حاصل کرتی ہیں۔ لہٰذا، جب تک اس کا ہوسٹ پلانٹ اس کے ساتھ نہیں لگا ہوگا، یہ پودا کامیاب نہیں ہوگا (جیسے کراچی میں ریسرچ کے دوران نیم کو استعمال کیا گیا تھا)۔

4.  کہر سے احتراز: صندل ان علاقوں میں نہیں اگتا جہاں کہر (Fog) پڑتا ہے۔

5.  تولیدی نظام: صندل کا تولیدی نظام ایسا نہیں بن سکتا کہ یہ خود بخود جنگل کی طرح گرو کرے اور دوبارہ پیدا ہو؛ اسے خود ہی دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی۔

رسک اور حتمی سفارشات

ماہرین کے مطابق، جب تک اس پر مناسب ریسرچ نہیں ہو جاتی، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ یہ درخت ہمارے ماحول کے لیے وِید (جنگلی پودا) یا خطرناک پودا نہ بن جائے۔ مثال کے طور پر، 60 اور 70 کی دہائی میں اسلام آباد میں پیپر مَلبری لگائے گئے تھے جو بعد میں الرجی کا باعث بنے اور انہیں اب نکالا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ریسرچ پر مبنی نہیں تھے۔

چونکہ صندل کے پودے پاکستان کی مقامی نرسریوں میں عام طور پر دستیاب نہیں ہیں، لہٰذا کاشتکاروں کو پودے یا بیج باہر سے درآمد کرنے پڑ سکتے ہیں۔

اس تمام صورتحال کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ صندل کی کاشتکاری ابھی تک ایک تجرُباتی نوعیت کا پروجیکٹ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، دیکھنے والوں کے لیے یہ سفارش کی جاتی ہے کہ اگر وہ صندل کی طرف جانا چاہتے ہیں تو مکمل سرمایہ کاری کے بجائے آزمائشی بنیادوں پر ہی اس کی کاشت کریں۔ یہ منصوبہ 15 سے 20 سال کے بعد ہی نتیجہ دے گا، اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی بڑے منصوبے سے قبل متعلقہ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ سے مشورہ ضرور کریں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں