دل کرے دھک دھک،
یہ دھک دھک ہی زندگی ہے
تحقیق کیمطابق سوموار کے روز دل کا دورہ پڑنے کا امکان 13 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
یاد رہے سوموار 2 دن کی چھٹی کے بعد آفس جانا ہوتا ہے
روزانہ 50 قدم سیڑھی پر چڑھنے سے دل کی بیماری کا چانس 20٪ تک کم کردیتا ہے
سیڑھیوں کی ورزش کا جدول
غربت اور دل کا تعلق!
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ غریب علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو امیر علاقوں میں رہنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری ہونے کا دوگنا امکان ہوتا ہے۔ کیونکہ معاشی مسائل کیوجہ سے لوگ مسلسل دباو کا شکار رہتے ہیں جو دل پر بھاری پڑتا ہے، ملازمت کی غیر یقینی صورتحال بھی دل پر منفی اثر بنائے رکھتی ہے، یہ مسائل دل پر دباو اور تناو کی کیفیت بنائے رکھتے ہیں، تناو دماغ کو متحرک کیے رکھتا ہے جو پھر دماغ کو جانے والی شریانوں میں تناو اور سوزش کا سبب بنتا ہے، لوگوں کو چائیے تناو سے بچنے کے لیے ورزش کریں، لیکن ایک تک آگاہی کا نہ ہونا دوم اس طرح کہ لوگ ورزش وغیرہ کو سنجیدہ بھی نہیں لیتے،
دل کی چند عام ہونے والی بیماریاں!
- کورونری
آرٹری بیماری: یہ بیماری
دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں مواد کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے، جس
کے نتیجے میں سینے میں درد (انجائنا)، سانس میں دشواری، اور دل کا دورہ ہو
سکتا ہے۔
- دل کا
دورہ: یہ اس وقت
پیش آتا ہے جب دل کے پٹھے کو مطلوبہ مقدار میں خون فراہم نہیں ہوتا۔
- دل کی
ناکامی (ہارٹ فیلیئر): اس حالت
میں دل جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خون کو مؤثر طریقے سے پمپ کرنے سے
قاصر ہوتا ہے۔
- اریتھمیا: اس
حالت میں دل کی دھڑکن غیر معمولی ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دھڑکن کی تیزی،
چکر آنا، سانس میں دشواری، سینے میں درد، اور بعض اوقات بے ہوشی ہو سکتی ہے۔
- کارڈیو
مایوپیتھی: یہ حالت
دل کو جسم میں خون کی ترسیل میں مشکلات پیدا کرتی ہے اور دل کی ناکامی کا سبب
بن سکتی ہے۔
- دل کے
والوز کی بیماری: دل کے ایک
یا زیادہ والوز کے متاثر ہونے سے خون کے بہاؤ میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
- پیدائشی
دل کے نقائص: یہ دل کے
ساختی مسائل ہیں جن کے ساتھ انسان پیدا ہوتا ہے، اور ان کی شدت معمولی سے لے
کر جان لیوا تک ہو سکتی ہے۔
- شہ رگ کی
بیماریاں: یہ
بیماریاں بڑی شہ رگ کو متاثر کرتی ہیں، جو خون کو دل سے جسم کے دیگر حصوں تک
پہنچاتی ہے۔
- پیریفرل
آرٹری بیماری: اس میں
خون کی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، جس سے جسم کے مختلف اعضا تک خون کی فراہمی
کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں چلنے کے دوران ٹانگوں میں درد، سن ہونا، یا
ٹانگوں میں سردی محسوس ہو سکتی ہے۔
- رمیٹک
ہارٹ ڈیزیز: یہ دل کے
والوز اور پٹھوں کو گٹھیا بخار کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا نتیجہ ہوتی
ہے، جو ایک بیکٹیریا کے انفیکشن سے شروع ہوتی ہے۔
حوالہ جات
امراض قلب کے لیے ہنسی ایک اچھی دوا: اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق
Reference
The Best Potassium-Rich Foods to Support Your Heart and Muscles


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں