اسٹاک مارکیٹ میں ڈے ٹریڈنگ اور لانگ ٹرم انویسٹنگ کا مکمل موازنہ اور تفصیل اردو زبان میں درج ذیل ہے:
کیا اسٹاک مارکیٹ میں 5 سے 10 لاکھ روپے
کے ساتھ روزانہ ڈے ٹریڈ کر کے گزر بسر کرنا ممکن ہے؟
اس سوال کو سمجھنے کے لیے وارن بفٹ کے
پارٹنر چارلی منگر کا اصول ہے کہ جب کوئی چیز سمجھ نہ آئے تو اسے 'انورٹ'
(الٹ) کر کے
دیکھیں۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ ڈے ٹریڈنگ کے ذریعے ہفتے میں صرف 1% کماتا ہے، تو کمپاؤنڈنگ کے حساب سے اس کا
سالانہ منافع 60% ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق،
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کا طویل عرصے تک 60% منافع کمانے کا ریکارڈ
موجود ہو۔
قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور
سرمایہ کاروں کا ریکارڈ ماضی کی قیمتوں کو دیکھ کر یہ کہنا بہت آسان لگتا ہے کہ اگر شیئر 195 پر
خرید کر 205 پر بیچ دیا جاتا تو منافع ہوتا، لیکن جب آپ خود ٹریڈنگ کرتے ہیں تو
اکثر اس کے الٹ ہوتا ہے۔ دنیا کے امیر ترین افراد، جنہوں نے طویل عرصے میں دولت
جمع کی، ان میں سے کوئی بھی ڈے ٹریڈر نہیں ہے۔ جن چند لوگوں کے نام سامنے
آتے ہیں، انہوں نے بھی ویلیو انویسٹنگ
(Value Investing) کی اور طویل عرصے تک کاروبار کے شراکت دار
بنے رہے۔
کامیابی کا تناسب (Success Ratio)
- ڈے ٹریڈنگ: اس میں کامیابی کا تناسب محض 10% ہے
اور نقصان کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
- لانگ ٹرم انویسٹنگ: طویل
مدتی سرمایہ کاری میں کامیابی کا تناسب 75%
سے
80% تک
ہوتا ہے۔ زیادہ تر وہ لوگ نقصان اٹھاتے ہیں جو گھبرا کر غلط وقت پر شیئرز بیچ
دیتے ہیں، ورنہ اچھی کمپنیوں میں طویل عرصے تک پارٹنر بن کر بیٹھے رہنے والے
عموماً منافع ہی کماتے ہیں۔
شراکت داری کی مدت اور مارکیٹ
کی نوعیت ایک
سمجھدار سرمایہ کار کسی کامیاب بزنس مین (جیسے محمد علی ٹبا) کے ساتھ 10 سال کی پارٹنرشپ کے بارے میں سوچتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ وقت کے ساتھ بزنس بڑھے گا اور
اسے فائدہ ہوگا۔ اس کے برعکس، ایک ڈے ٹریڈر صرف دو دن کی شراکت داری چاہتا ہے،
جہاں کامیابی کا انحصار کاروبار کی ترقی کے بجائے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ (Volatility) پر ہوتا ہے۔ ڈے ٹریڈنگ میں کامیابی کی شرح
سی ایس ایس (CSS) کے امتحان
جیسی مشکل ہے، جہاں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور باقیوں کا نقصان ہی دوسروں کا
فائدہ بنتا ہے۔
نتیجہ اور مشورہ دنیا کے بہترین ریکارڈز رکھنے والے
سرمایہ کار صرف ویلیو انویسٹرز ہی ہیں۔ ڈے ٹریڈنگ میں نہ صرف خطرہ زیادہ ہے
بلکہ اس میں آپ کا وقت بھی بہت زیادہ صرف ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین ڈے ٹریڈنگ کی
سفارش نہیں کرتے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں