انویسٹمنٹ پلان 2026!
تعارف: 2026 کے لیے سٹاک انویسٹمنٹ کی پلاننگ کے لیے اچھی
کمپنیوں کی تلاش، جن کی شئیر پرائس 2026 میں اچھی بڑھنے کی توقع ہو۔ بالخصوص سٹاک
مارکیٹ کی گروتھ سے بہتر گروتھ ہو۔ اس کے لیے مختلف ڈیٹا کا تجزیہ:
1.
پاکستان
اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کے لیے منافع کی مشین
2.
ڈاکٹر
امجد وحید (سی ای او، این بی پی فنڈز) کا انٹرویو
3.
سٹاک
واچ: 2026 کے پہلے ہفتے کی سٹاک رپورٹ
4.
عمار
کی طرف سے ٹاپ 30 کمپنیوں میں سرمایہ کاری
5.
عارف
حبیب بروکرج فرم کی رپورٹ
6.
اے
کے ڈی بروکرج فرم کی رپورٹ
7.
ٹاپ
لائن سیکیورٹیز بروکرج فرم کی رپورٹ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کے لیے منافع کی مشین
پاکستان اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاروں کے لیے ویلتھ کریشن جیک
پاٹ یا منافع بنانے کی مشین بن چکی ہے۔ گزشتہ 3 سالوں میں اسٹاک مارکیٹ 360% یا
3.5 گنا بڑھ چکی ہے۔ بلومبرگ نے 2025 میں ڈالرائزڈ ریٹرن کے اعتبار سے پی ایس ایکس
(PSX) کو جنوبی کوریا کے بعد دنیا کی دوسری بہترین پرفارمنگ مارکیٹ
قرار دیا ہے۔ ریسرچ رپورٹ کے مطابق 2026 میں مارکیٹ کا مثبت تسلسل برقرار رہے گا
اور انڈیکس 53% تک مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے ہزاروں لک پتی، کروڑ پتی اور سینکڑوں
کروڑ پتی، ارب پتی بن سکتے ہیں۔ یہ تمام تیزی مقامی سرمایہ کاری
(Domestic Liquidity) کی وجہ سے ہوئی ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ
کاروں نے تقریباً 300 ملین ڈالر کی فروخت کی ہے۔
سیکٹرز اور گروتھ کے عوامل میوچل فنڈز نے پہلے 22% سے 23%
منافع دیا تھا جو اب 14% تک واپس آیا ہے، لیکن مزید اضافہ متوقع ہے۔ پاکستان کا ای
اینڈ پی (E&P) سیکٹر
سب سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائے گا، کیونکہ انڈیکس میں اس کا وزن بہت زیادہ ہے۔
دیگر اہم سیکٹرز میں بینک (25-28%)، سیمنٹ اور پی ایس او
(PSO) شامل ہیں۔ صنعتی صلاحیت کا استعمال
(Capacity Utilization) 60% سے بڑھ کر 70% ہو گیا ہے، اور پالیسی ریٹ
کے سنگل ڈیجٹ میں آنے کی امید نے صنعت کاروں کو مضبوط سگنل دیا ہے۔
تاریخی سنگ میل اور موازنہ 9 جنوری 2023 کو انڈیکس 40,504
پوائنٹس پر تھا، جو اب ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں مارکیٹ
نے اوسطاً 120% سالانہ منافع دیا ہے۔ اگر کسی نے 3 سال پہلے 30 لاکھ روپے لگائے
تھے، تو وہ اب 1 کروڑ روپے بن چکے ہیں۔ اسی طرح 2 سال پہلے کی 10,000 ڈالر کی
سرمایہ کاری اب 28,000 ڈالر ہو چکی ہے۔ جنوری 2023 میں صرف 3 کمپنیاں 1 بلین ڈالر
سے زیادہ مالیت کی تھیں، جبکہ جنوری 2026 تک ان کی تعداد 19 ہو چکی ہے۔ یو بی ایل
(UBL) 4.5 بلین ڈالر کے ساتھ پاکستان کی سب سے قیمتی
لسٹڈ کمپنی بن چکی ہے، جس کے بعد او جی ڈی سی
(OGDC) کا نمبر آتا ہے۔
معاشی استحکام اور ریٹنگ آئی ایم ایف
(IMF) کے تمام ریویوز کی کامیابی اور عالمی ایجنسیوں
(S&P, Moody's, Fitch) کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں
بہتری نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی (20% سے 10.5%
تک) کی وجہ سے لوگ فکسڈ انکم کے بجائے اسٹاک مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ اے ڈی
سیکیورٹیز کے سی ای او فرید عالم کا کہنا ہے کہ انڈیکس 2026 کے آخر تک 263,800
پوائنٹس تک پہنچ سکتا ہے۔
خطرہ اور چیلنجز جہاں مارکیٹ میں تیزی ہے، وہاں کچھ خطرات
بھی موجود ہیں جیسے کہ بین الاقوامی اشیاء
(Commodity) کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یا سیاسی بے
یقینی۔ سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کا ٹیکسیشن سسٹم اور سپر ٹیکس ہے، جو کمپنیوں کو
ڈسپلن ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عام عوام اور نوجوان اب بھی اسٹاک مارکیٹ کے
بجائے کرپٹو اور بٹ کوائن کی طرف مائل ہیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی
تعداد اب بھی بہت کم ہے۔
نجکاری کا اثر پی آئی اے (PIA) کی نجکاری کے شفاف
عمل نے کارپوریٹ دنیا میں اعتماد بحال کیا ہے، جسے ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا
جا رہا ہے۔
ڈاکٹر امجد وحید (سی ای او، این بی پی فنڈز) کے انٹرویو کی
روشنی میں سال 2026 کے لیے سرمایہ کاری کے منظرنامے کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی اور توقعات سال 2025 پاکستان اسٹاک ایکسچینج
(PSX) کے لیے بہترین رہا جس میں 51
فیصد ریٹرن دیکھا گیا۔ ڈاکٹر
امجد وحید کے مطابق، سال 2026 میں اسٹاک مارکیٹ سے تقریباً 20 فیصد ریٹرن
کی توقع کی جا سکتی ہے،۔ یہ ریٹرن 10 فیصد کارپوریٹ آمدنی میں اضافے، 5 فیصد
ڈیویڈنڈ ییلڈ، اور تقریباً 5 فیصد مارکیٹ کی ری ریٹنگ
(Re-rating) پر مشتمل ہے،۔
مارکیٹ کی موجودہ قدر
(Valuation)
- انڈیکس کا مہنگا یا سستا ہونا اس کی
سطح (مثلاً 2 لاکھ) سے نہیں بلکہ پرائس ٹو ارننگ
(P/E) ریشو سے معلوم ہوتا ہے۔
- پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ P/E ریشو 8.6 ہے، جو کہ گزشتہ 18 سالوں کی اوسط کے برابر ہے،۔ اس کا مطلب ہے کہ
مارکیٹ اس وقت اپنی منصفانہ قیمت
(Fair Price) پر ہے۔
- تاریخی طور پر جب یہ ریشو 10.5 یا 11
تک پہنچتی ہے تو مارکیٹ میں بڑی کریکشن آتی ہے، لہٰذا موجودہ سطح پر خطرہ کم
ہے۔
معیشت کے مثبت محرکات
(Triggers)
- گردشی قرضوں کا حل: بجلی کے شعبے کے بعد اب حکومت گیس کے 2 ٹریلین روپے کے گردشی قرضے
کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے، جس سے انرجی سیکٹر کے شیئرز میں بہتری آئے گی۔
- نجکاری
(Privatization): پی آئی اے (PIA) کی نجکاری ایک کامیابی ہے، اور اب حکومت تین ڈسکوز (Discos) کی نجکاری یا لیزنگ پر توجہ دے رہی ہے۔
- ٹیکس ریٹس میں کمی: اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ جون کے بجٹ میں کارپوریٹ اور انفرادی
ٹیکس ریٹس میں کمی کی جائے گی، بشرطیکہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کا
منصوبہ آئی ایم ایف کو پیش کرے۔
- شرح سود میں کمی: افراطِ زر (Inflation)
2026 میں 7 سے 8 فیصد رہنے کی توقع ہے، جس
کی وجہ سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 سے 1 فیصد کمی کی گنجائش موجود ہے۔
ممکنہ خطرات (Risks)
- برآمدات
(Exports) میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
- پاکستانی روپیہ اس وقت تقریباً 5 فیصد اوور ویلیوڈ (Overvalued) ہے، جس کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کچھ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی
ہے۔
- ٹیکس وصولی کے اہداف میں 500 ارب روپے تک کی کمی کا خدشہ ہے،۔
- جغرافیائی و سیاسی صورتحال
(افغانستان، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ) بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی
(Portfolio Allocation) ایک عام سرمایہ کار
کے لیے ڈاکٹر صاحب نے درج ذیل بہترین پورٹ فولیو تجویز کیا ہے:
- 70 فیصد سرمایہ کاری محفوظ اثاثوں جیسے بینک ڈپازٹس یا منی مارکیٹ فنڈز میں ہونی چاہیے،۔
- 30 فیصد سرمایہ کاری اسٹاک مارکیٹ میں ہونی چاہیے،۔ یہ حکمتِ عملی ان لوگوں کے لیے ہے جن کا سرمایہ کاری
کا دورانیہ 5 سال یا اس سے زیادہ ہے۔
تشبیہ: پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ اس وقت ایک ایسی تیار
گاڑی کی مانند ہے جو اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے؛ اگرچہ سڑک پر کچھ کھڈے
(خطرات) موجود ہیں، لیکن انجن کی حالت (کمپنیوں کے منافع) اور ایندھن (شرح سود میں
کمی اور اصلاحات) اسے مزید آگے لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
سٹاک واچ: پاکستان سٹاک ایکسچینج
(PSX) کی ہفتہ وار کارکردگی اور تجزیہ
اس ہفتے کا آغاز مثبت رہا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج
میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جس کی بڑی وجہ میوچل فنڈز اور کمپنیوں کی جانب سے
جارحانہ خریداری تھی۔ مارکیٹ کے اختتام پر انڈیکس 188,410 کی سطح پر بند ہوا، جو کہ 5,375 پوائنٹس
یا 3 فیصد
اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس ہفتے کے دوران انڈیکس
نے 188,700 کی بلند ترین سطح کو بھی چھوا جہاں کچھ پرافٹ ٹیکنگ دیکھی گئی۔
تیزی کی وجوہات اور معاشی اشارے
مارکیٹ میں اس تیزی کی بڑی وجہ لیکویڈیٹی ہے؛ یکم جنوری سے اب تک میوچل
فنڈز کے ذریعے تقریباً 23 ارب روپے مارکیٹ میں آئے ہیں۔ اس کے علاوہ منی
مارکیٹ میں منافع کی شرح (Yields) کم ہو رہی ہے، جس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 26
جنوری کو ہونے والی مانیٹری پالیسی میں شرح
سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا سکتی ہے، جس سے شرح سود 10% تک آ جائے
گی۔ ملک میں افراطِ زر (Inflation) کی شرح 5.1% ریکارڈ کی گئی ہے، جو سٹیٹ بینک کو شرح سود مزید کم
کرنے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔
اہم کاروباری خبریں
- ماری انرجی
(Mari Energy): ماری فیلڈ سے تین فرٹیلائزر پلانٹس
(FFC, Agritech, Fatima Fertilizer) کو 170 MMCFD گیس کی ری-ایلوکیشن کی گئی ہے۔ اس سے فرٹیلائزر کی پیداوار
میں تسلسل آئے گا اور ماری انرجی کی آمدنی میں بھی اضافے کی توقع ہے۔ تاہم،
اس گیس کی فراہمی کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تقریباً 2 سے ڈھائی سال لگ
سکتے ہیں۔
- آئل مارکیٹنگ کمپنیز (OMCs): وفاقی کابینہ نے او ایم سیز کے مارجنز میں اضافے کے فیصلے کو روک دیا ہے
اور اسے سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط کر دیا ہے، جو کہ ان
کمپنیوں کے لیے ایک منفی خبر ہے۔
- ترسیلاتِ زر (Remittances): دسمبر میں ترسیلاتِ زر 3.6
ارب ڈالر رہیں، جو کہ ماہانہ بنیادوں پر 13% اور سالانہ بنیادوں پر 17% اضافہ
ہے۔
سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی
(Yusuf Farooq - Chase Securities) یوسف فاروق کے مطابق، سرمایہ کاروں کو ایک سال کے ٹارگٹس کے
بجائے طویل مدتی (Long-term) سرمایہ کاری پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ
مارکیٹ ہر 10 سال میں تقریباً 5 گنا بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے تین ممکنہ منظر نامے
(Scenarios) پیش کیے ہیں:
- بیس کیس
(Base Case): مارکیٹ آہستہ آہستہ ری-ریٹ (Re-rate) ہو گی اور گروتھ والے سیکٹرز میں بہتری آئے گی۔
- لیفٹ ٹیل
(Left Tail/Risk): سیاسی دباؤ یا کرنٹ اکاؤنٹ کے مسائل کی صورت میں خطرہ، جس کے لیے فکسڈ
انکم اثاثوں میں بیلنس رکھنا ضروری ہے۔
- رائٹ ٹیل
(Right Tail/Boom): اگر اصلاحات کامیاب رہیں اور نجکاری
(Privatization) کا عمل تیز ہوا تو مارکیٹ میں بہت
بڑی تیزی آ سکتی ہے۔
ٹاپ اسٹاک پکس
(Top Alpha Plays)
- ڈیجیٹلائزیشن: پی ٹی سی ایل (PTCL) اور ٹیلی کام سیکٹر میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے منافع کی
توقع ہے۔
- پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX): بطور کمپنی، پی ایس ایکس ایک بہترین طویل مدتی سرمایہ کاری ہے کیونکہ اس
کی اجارہ داری (Monopoly) ہے۔
- آٹو سیکٹر: انڈس موٹرز اور ہونڈا کے پارٹس
سپلائر (AGP Autos) میں بہتری کی گنجائش ہے۔
- دیگر: گنی کیمیکلز اور پاکستان ٹوبیکو۔
تکنیکی تجزیہ (Technical
Analysis)
- کے ایس ای 100 انڈیکس: انڈیکس کے لیے 187,000 اور 190,000 کی سطح مزاحمت
(Resistance) ہے، جبکہ 183,000 اور 180,000 مضبوط سپورٹ لیولز ہیں۔
- نیشنل بینک
(NBP): اس کا ہدف 285 روپے ہے، جبکہ 252 روپے پر خریداری کی جا سکتی ہے۔
- نشاط ملز
(NML): 174-175 روپے پر سپورٹ موجود ہے اور ہدف 194-204 روپے ہے۔
- دی آرگینک میٹ کمپنی (TOMCL): 50-52 روپے کی رینج میں خریداری کا اچھا موقع ہے۔
اختتامی مشورہ: اگلے ہفتے مارکیٹ میں کچھ کنسولیڈیشن
(Consolidation) یا گراوٹ دیکھی جا
سکتی ہے، جو کہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے خریداری کا ایک صحت مند موقع ہو گی۔
سرمایہ کاروں کو ڈیویڈنڈ (Dividend) دینے والے اسٹاکس، جیسے بینک اور
فرٹیلائزر، پر نظر رکھنی چاہیے۔
عمار کی طرف سے ان ٹاپ 30 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر کے آپ
2026 میں بہت اچھے پیسے بنا سکتے ہیں۔
1۔ فوجی فرٹیلائزر
کمپنی (FFC):
اس کمپنی کو ماری گیس سے براہ راست سستی گیس ملنے کا بڑا
فائدہ حاصل ہے۔ ایف ایف سی کے پاس یوریہ مارکیٹ کا 44 فیصد اور ڈی اے پی
(DAP) کا 68 فیصد مارکیٹ شیئر ہے۔ ایگری ٹیک لمیٹڈ
(AGL) کا حصول ایف ایف سی کے لیے ایک بڑا ٹرگر ثابت ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا ڈیویڈنڈ پے آؤٹ 70 فیصد سے زیادہ ہے۔
2۔ ایٹلس ہونڈا
(Atlas Honda):
یہ موٹر سائیکل مارکیٹ میں 85 فیصد حصے کے ساتھ لیڈر ہے۔
زراعت کی پیداوار میں بہتری اس کی فروخت میں اضافے کا باعث بنتی ہے کیونکہ کسان
اور مڈل انکم گروپ اسے زیادہ خریدتے ہیں۔ یہ کمپنی 95 فیصد تک لوکلائزیشن کر چکی
ہے اور اس کے پاس فی شیئر 571 روپے کیش موجود ہے۔
3۔ سازگار انجینئرنگ
(Sazgar):
اس کی ہیول (Haval) گاڑیوں کی مانگ بہت زیادہ ہے اور 2026 میں 15,000 یونٹس فروخت
ہونے کی توقع ہے۔ کمپنی ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے میں 43 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہے۔
اس کا گراس مارجن 29 فیصد ہے جو آٹو سیکٹر میں سب سے زیادہ ہے۔
4۔ انڈس موٹر
(Indus Motor):
ٹویوٹا برانڈ کی وجہ سے اس کی مارکیٹ میں مضبوط ساکھ ہے اور
اس کا ڈیلر نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کمپنی کے پاس 99 ارب روپے کا نیٹ
کیش موجود ہے جو کہ فی شیئر 1260 روپے بنتا ہے۔
5۔ نشاط پاور
(NPL):
یہ کمپنی پاکستان میں "جیکو"
(Jaecoo) گاڑیاں لا رہی ہے جس میں اس کا 33 فیصد
حصہ ہے۔ اس کے پاس 9.6 ارب روپے کا کیش موجود ہے جو نئی سرمایہ کاری میں کام آئے
گا۔
6۔ فارماسیوٹیکل
سیکٹر (Searle, Haleon, AGP):
سیل (Searle): اس کا 80 فیصد پورٹ فولیو نان ایشینشل ادویات پر مشتمل ہے جن کی
قیمتیں بڑھانے کی اجازت ہے۔ کمپنی کینیڈا اور یو اے ای میں بھی اپنی مصنوعات رجسٹر
کروا چکی ہے۔
ہیلیون (Haleon): پیناڈول (Panadol) کی برانڈنگ اس کی بڑی طاقت ہے۔ کمپنی اب "سینٹرم"
(Centrum) جیسے ویلنس پروڈکٹس پر توجہ دے رہی ہے۔
اے جی پی (AGP): اس کے گراس مارجنز بہترین ہیں اور اس کا برانڈ ایزومیکس
(Azomax) ڈاکٹروں کی پہلی پسند ہے۔
7۔ سیمنٹ سیکٹر
(Maple Leaf, Lucky Cement):
میپل لیف (Maple Leaf): یہ کمپنی بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے سولر اور ویسٹ ہیٹ پر کام
کر رہی ہے۔ وائٹ سیمنٹ میں اس کا مارکیٹ شیئر 90 فیصد ہے۔
لکی سیمنٹ (Lucky Cement): یہ پاکستان کا سب سے بڑا سیمنٹ پروڈیوسر ہے جس کا 16 فیصد مقامی
اور 36 فیصد ایکسپورٹ شیئر ہے۔ یہ کمپنی مائننگ اور آٹو سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری
کر رہی ہے۔
8۔ سسٹمز لمیٹڈ
(Systems Limited):
یہ آئی ٹی ایکسپورٹ کی لیڈر ہے اور مشرق وسطیٰ
(MEENA) کے خطے میں مضبوط موجودگی رکھتی ہے۔ یہ
کمپنی ای آئی (AI) اور
کلاؤڈ سروسز پر کام کر رہی ہے اور اس کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
9۔ اسٹیل سیکٹر
(ISL, Mughal):
آئی ایس ایل (ISL): یہ فلیٹ اسٹیل میں لیڈر ہے اور 30 سے زیادہ ممالک کو ایکسپورٹ
کرتی ہے۔
مغل اسٹیل (Mughal): یہ لانگ اسٹیل پر کام کر رہی ہے اور اپنے پاور پلانٹ کی وجہ سے
لاگت میں کمی لانے میں کامیاب ہو گی۔
10۔
بینکنگ سیکٹر (UBL, Meezan, NBP):
یو بی ایل (UBL): ڈیپازٹ گروتھ کے لحاظ سے یہ بہترین بینک ہے جس کی 1800 سے زیادہ
شاخیں ہیں۔
میزان بینک (Meezan): اسلامی بینکنگ میں سب سے بڑا نام ہے اور اس کی ڈیپازٹ گروتھ 24
فیصد رہی ہے۔
11۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX):
مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے والیمز اور نئے آئی پی اوز
(IPOs) کی وجہ سے پی ایس ایکس کی آمدنی میں اضافے کا امکان ہے۔ یہ
کمپنی ایک اجارہ داری (Monopoly) رکھتی ہے۔
12۔
دیگر اہم انتخاب:
پی پی ایل (PPL) کی ریکوڈک (Reko Diq) میں شراکت داری اور گردشی قرضوں کی وصولی اس کے لیے مثبت ہے۔
نیشنل فوڈز (National Foods) اپنی
ایکسپورٹ اور کیچپ کے شعبے میں جدت کی وجہ سے مضبوط ہے۔ جی سی آئی ایل
(GCIL) اور سروس انڈسٹری بھی 2026 کے لیے بہترین پکس ہو سکتی ہیں۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ
اپنے پورٹ فولیو کو مختلف سیکٹرز میں تقسیم کریں، مثلاً دو آٹو، دو سیمنٹ، دو بینک
اور ایک فٹیلائزر کمپنی کا انتخاب کریں۔ کوارٹرلی نتائج کو باقاعدگی سے دیکھنا
چاہیے تاکہ اگر کسی کمپنی کی کارکردگی گرے تو بروقت نکلا جا سکے۔
Based on the sources provided, here are the key facts and
figures regarding the top investment picks and market outlook for 2026:
Automotive Sector
- Atlas Honda (ATLH): Holds a dominant 85% market
share in the motorcycle industry. It sold 1.5 million units
recently with 35% year-on-year growth, and it is estimated to sell
between 1.8 to 2 million units in 2026. The company has achieved 95%
localization for its 70cc model and holds 531 to 571 PKR cash per
share.
- Sazgar Engineering: Projections suggest the sale of 15,000
Haval units in 2026, up from 10,800 this year. It holds a 43%
market share in the SUV and Hybrid segment and maintains a 29%
gross margin, the highest in the auto sector. The company is planning 11.5
billion PKR in capital expenditure.
- Indus Motor: Expects to reach 44,000 units
in sales by 2026. It possesses a strong balance sheet with 99 billion
PKR in net cash, amounting to 1,260 PKR per share.
- Nishat Power (NPL): Holds 9.6 billion PKR in cash
(27.2 PKR per share) and owns a 33% stake in the Jaecoo auto
venture.
Fertilizer and Chemicals
- Fouji Fertilizer Company (FFC): Controls 44%
of the Urea market and 68% of the DAP market. It has a 70%
dividend payout ratio and a forward dividend yield of 8% to 10%.
Its net cash position stands at 167 billion PKR.
- Ghani Chemical (GCIL): Maintains an industry-leading 49%
gross margin. It is trading at an attractive 8.6x P/E ratio
compared to its peers at 15x.
Pharmaceutical Sector
- Searle: Features an 80% non-essential
drug portfolio with a 56% gross margin. It aims for an export
target of 3 to 4 billion PKR by 2030.
- Haleon: Planning to increase Panadol
production capacity from 6 billion to 8 billion units. It targets
exports to reach 10% of total sales.
- AGP: Boasts gross margins of 50% to
62% and targets 3 billion PKR in exports for 2025.
Banking and Finance
- United Bank Limited (UBL): Recorded a spectacular 69%
deposit growth in Q3 2025 compared to the previous year. It holds a 13%
market share and a 24% Capital Adequacy Ratio (CAR).
- Meezan Bank: Islamic banking leader with 3.2
trillion PKR in deposits and a 23% CAR.
- Pakistan Stock Exchange (PSX): Daily traded
volumes increased 84% year-on-year. As of September 2025, there are
423,000 active users, and 16 IPOs are lined up for 2026.
Cement and Steel
- Maple Leaf Cement: Dominates the white cement market
with a 90% share. It maintains gross margins of 35% to 38%.
- Lucky Cement: Pakistan’s largest producer with a
16% domestic market share and a 36% export share (62% of
which goes to Africa).
- Mughal Steel: Implementing a 36.5 MW coal
captive power plant to reduce costs.
- ISL: Exports to over 30 countries
and utilizes 75% captive power.
Technology and Others
- Systems Limited: Analysts expect 25% annual
revenue growth and 37% EPS growth. It holds 10.2 billion PKR
in cash.
- National Foods: Exports to over 40 countries,
with 50% of its revenue generated from international markets.
- Service Industry (SRVI/SGF): Reported 30% year-on-year
growth, driven largely by tires and tubes.
Investing in these companies is likened to planting a
diverse orchard; while some trees provide immediate fruit (dividends),
others are chosen for their long-term growth and resilience against the
changing seasons of the economy.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں