Translate

ہفتہ، 2 نومبر، 2024

رمیض راجہ چلا ہنس کی چال

 

 ہوم گراونڈ اور ہار کا سواد!

بالآخر 3.5 سال بعد پاکستان اپنے ہوم گراونڈ پر ٹیسٹ سیریز جیت ہی گیا۔ یہ خوشگوار حیرت سے کم نہیں تھا اور وہ بھی انگلینڈ سے، جس نے پہلے ٹیسٹ میں ملتان میں پاکستان کے چھکے چھڑا دیے تھے۔

پاکستان میں جب سے ٹیسٹ کرکٹ واپس آئی تھی، پاکستان ہوم گراونڈ پر جیتنا بھول ہی گیا تھا، اور پاکستان اپنے ایسے گراونڈز پر ہار رہا تھا جہاں وہ بالکل ناقابل تسخیر رہا تھا۔

اور اسی دوران مزے کی بات، بنگلہ دیش آئی اور پاکستان کو وائٹ واش کرکے چلی گئی۔ ہر کوئی لگاتار کپتان تبدیلی کو شک کی نظر سے ہی دیکھ رہا تھا اور قریب تھا کہ شان مسعود بھی تبدیلی کی نذر ہوجاتے۔

کسی دانشور کی نظر اصل مسئلے کی طرف نہیں بٹ رہی تھی۔

لیکن بالآخر 3.5 سال کی خواری کے بعد پاکستان کرکٹ مینجمنٹ نے 180 ڈگری ٹرن لیتے ہوئے کرکٹ کنڈیشنز کو اپنی بنیادوں پر واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ انگلینڈ ٹیم جو 800 رنز کی بلندی پر اڑ رہی تھی، وہ ٹرپل فگرز کو رینگتی نظر آنے لگی،

جس پر برینڈن میکولم اور مائیکل ایتھرٹن بھی بول اٹھے کہ "تعجب ہے پاکستان کو یہ کچھ سمجھنے میں 3.5 سال لگ گئے؟"

پاکستان میں حالیہ کرکٹ کی واپسی سے پہلے پاکستان نے آخری سیریز سری لنکا کیخلاف 2009 میں کھیلی تھی، جو 2 میچوں پر مشتمل تھی اور دونوں میچز ڈرا ہو گئے تھے۔

اس کے بعد 10 سال بعد پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی ہوئی جب سری لنکا 2019 میں کھیلنے پاکستان آئی۔ اس سیریز کا پہلا میچ ڈرا ہو گیا جبکہ دوسرا میچ جیت کر پاکستان نے سیریز اپنے نام کرلی۔

اس کے بعد پاکستان نے پنڈی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کو ہرا کر سیریز 1-0 سے جیت لی،

اس کے بعد 2021 کے شروع میں جنوبی افریقہ پاکستان آئی جس کیخلاف پاکستان نے پنڈی اور کراچی میں کھیلے گے دونوں ٹیسٹ میچز جیت لیے،

پھر اس کے بعد ستمبر 2021 سے پاکستان کا ہوم گراونڈ پر ٹیسٹ کرکٹ کا زوال شروع ہوتا ہے جب رمیض راجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین بنتے ہیں اور وہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا فیصلہ کرتے ہیں، رمیض راجہ پاکستان کی کنڈیشنز سے ہٹ کر گرین پچز کا تجربہ کرتے ہیں، بالکل ایسے جیسے ملتان میں انار کی کاشت کا تجربہ!



اور یہ تجربہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے گلے پڑ گیا۔

Pakistan Record at Home Ground Against:

Country               Year            Winner                Result

Sri Lanka              2019           Pakistan             1-0 (2)

Bangladesh         2020           Pakistan             1-0 (2)

Ramiz Raja Chairman PCB Tenure

Australia              2022           Australia             1-0 (3)

England                2022           England               3-0 (3)

New Zealand       2023          Drawn                  0-0 (2)

Bangladesh         2024           Bangladesh         2-0 (2)

England                2024           Pakistan               2-1 (3)



2022 کے شروعات میں آسٹریلیا ٹیم آئی اور 1-0 سے سیریز جیت کر چلی گئی

2022 کے اواخر میں ہی انگلینڈ ٹیم آئی اور پاکستان کی باقاعدہ 3-0 کی واٹ لگا کر گئی،

2023 میں پاکستان نے جیسے تیسے نیوزی لینڈ سے سیریز برابر کر لی

2024 میں بنگلی دیش آئی اور پاکستان کو تاریخی 2-0 وائٹ واش کرکے گئی

2024 میں ہی پاکستان انگلینڈ کیخلاف 500 رنز کرکے ہارنے والا پہلا ملک بن گیا، دوسری طرف انگلینڈ نے پہلی دفعہ پاکستان کیخلاف 800 کا ہندسہ عبور کیا،

یہاں تک پاکستان رمیض راجہ کے تجربے پے چل رہا تھا، اور اندھیرے میں تیر چلا رہا تھا، کبھی 4 فاسٹ باولرز اور 0 اسپنر کیساتھ میدان میں اتر رہا تھا (جو 28 برس میں خود ایک اچھوتا فیصلہ تھا) تو کبھی کپتان بدل رہا تھا، مگر کامیابی ندارد!

اس دوران پاکستان نے 10 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے ایک بھی میچ پاکستان نہیں جیت پایا،

تو پھر کیا؟ داد تو بنتی ہے رمیض راجہ کی۔

ساری دنیا اپنی ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور جیت اپنے نام کرتی ہیں، آسٹریلیا ایشیا سے آئی ٹیموں سے بطور خاص پہلا ٹیسٹ پرتھ میں کھیلتا ہے، جہاں کا باونس ایشیائی بیٹسمینوں کا استقبال کرتا ہے جو دھیمے باونس کے عادی ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے پاکستان آج تک آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا ہے، پاکستان نے آسٹریلیا میں کل 39 میچز کھیلے ہیں جن میں پاکستان فقط 4 میچز جیت پایا ہے،

1976-77: Won 1 Test match

1978-79: Won 2 Test matches

1995: Won 1 Test match

پاکستان کی آسٹریلیا میں بہترین کارکردگی 1976 میں رہی جب پاکستان ٹیسٹ سیریز ڈرا کروا پایا،

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کا آسٹریلیا میں ریکارڈ:

Total Tours: 12

Series Wins: 0

Series Draws: 1 (1976-77)

Test Matches Played: 39

Test Matches Won: 4

Test Matches Lost: 28

Test Matches Drawn: 7

 اپنی ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے میں پڑوسی ملک بھارت سے سیکھا جا سکتا ہے، جو فروری 2013 سے اکتوبر 2024 تک لگاتار 18 سیریز اپنے ہوم گروانڈ پر جیت چکی ہے،

ایسے میں پاکستان کی ہوم گراونڈ پر گرین پچز کے تجربے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ

کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھلا بیٹھا

بہرحال دیر آید چلو عقل تو آید!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں