متحدہ ہندوستان سے تقسیم ہند تک!
کہیں ایسا تو نہیں دو قومی نظریہ ہر دو طرف موجود اکثریت کی الگ الگ ہو کر اقلیتوں کو دبانے کی شعوری کوشش ہو؟
سنہ 1947 میں پاکستان ہندوستان سے نکل گیا۔ لیکن بھارت پاکستان سے نہیں نکلا۔:
محمد وسیم (لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے استاد اور مصنف پاکستان میں سیاسی تنازع)
تو کیا تقسیم ایک ’ترک تعلق‘، ایک رشتے کا ٹوٹنا تھی، کہ جواہر لال نہرو نے سوچا کہ ’’تقسیم کے منصوبے نے ایک راستہ پیش کیا اور ہم نےاسےاختیارکر لیا‘‘۔
رنبیر سمدر (تعارف- ریاستوں اور ذہنوں کی تشکیل نوکرتی تقسیم )
’’کیا مذہبی تقسیم یا پارٹیشن تنازع کا حل ہے یا خود تنازع کی (مستقل) افزائش کی بنیاد (برقرار رکھتی ہے) ‘‘۔
سنجے چترویدی (جیو پولیٹکس کی زیادتی: برٹش انڈیا کی تقسیم)
’’کیا مذہبی تقسیم یا پارٹیشن تنازع کا حل ہے یا خود تنازع کی (مستقل) افزائش کی بنیاد (برقرار رکھتی ہے) ‘‘۔ بھارت میں، تقسیم کو ہندوستانی تہذیب کی ’’عظیم تقسیم‘‘ کے طور پر دیکھا گیا جس نے ایک واحد قوم یا آریائی ’نسل‘ یا تہذیب (’ابتدائی ہندوستان‘) کے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔ رومیلا تھاپر
انگریزوں نے ایک طرف ہندووں کو باور کروایا کہ ان کی آمد سے پہلے مسلمان لٹیرے ان پر قابض تھے اور انگریزوں نے ہندووں کی ان سے جان چھڑوائی، جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کو باور کروایا کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کو دبا لینا چاہتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ انگریزوں کے وفادار بنے رہو.

تقسیم کی لکیر
چرچل بالآخر ہندوستان کی آزادی پر کیونکر راضی ہوا؟
تقسیم کا موضوع بہت ہی پیچیدہ رہا ہے، میرٹ پر دونوں اطراف کے دلائل دیکھیں تو معاملہ 50 - 50 لگتا ہے، ویسے بھی "تقسیم" مسائل کا فوری اور اول حل تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقوق کی منصفانہ تقسیم بہتر اور پائیدار حل ہوسکتا ہے، اور پھر ایسے ملک میں جہاں آبادی کا تیسرا حصہ ناقابل تقسیم طرح ملک میں پھیلا ہوا ہو. اور دو قومی نظریے کے پاس سب کچھ تھا مگر اس تیسرے حصے کے لیے کوئی حل نہ تھا.
سوچا جاسکتا ہے کہ لگ بھگ 55 کروڑ مسلمان متحدہ ہندوستان میں اپنے حقوق کی مضبوط جنگ لڑسکتے اور ہندوستان کو ایک عملی سیکولر ملک بننے پر مجبور کرسکتے. لیکن سوال یہ ہے اس طرح مسلمانوں کی آبادی ہندوستان میں لگ بھگ 30 فیصد بنتی، تو آج مسلمان بھارت کے جن علاقوں میں 30 سے 35 فیصد ہیں وہاں ان کے مذہبی حالات کیسے ہیں؟
حوالہ جات:
Reference

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں