حبیب جالب
ساٹھ کی دہائی کا منظر نامہ:
ملک میں مارشل لا لگ چکا ہے، دستور بدلا جا چکا ہے، اختلاف پابند سلاسل کو رواں دواں ہے، ایسے میں حق کہنے کو کلیجہ چاہئے،
ایسے میں مری میں ایک مزاحیہ مشاعرے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور جالب کو بھی مدعو کیا جاتا ہے،
جالب مائیک پر آتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ خلاف معمول نظم سنانے لگا ہے جس کا نام ہے "دستور"
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ جالب کیسی نظم سنانے والا ہے، اسٹیج سیکرٹری خطرے کو بھانپ کر فورا آگے بڑھتا ہے اور حبیب جالب سے مائیک واپس لینا چاہتا ہے، سیکرٹری حبیب جالب سے کہتا ہے "نہیں جناب یہ نظم نہ سنائیں"۔
جالب جو آمر کو للکارنے کو ٹھان چکا ہے گرجدار آواز میں کہتا ہے پیچھے ہٹ جاو مجھے یہ نظم سنانے دو، میرے ہاتھ میں مائیک نہیں تلوار ہے اور میں اس تلوار سے آمریت کو لہولہان کر دوں گا۔ سیکرٹری جالب کا دوٹوک انداز دیکھ کر پسپائی اختیار کرتے ہوئے پیچھے کو ہٹ جاتا ہے۔
پھر جالب اپنے مخصوص انداز میں نظم پڑھنا شروع کرتا ہے
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
پھول شاخوں پہ کھلنےلگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اِس کھلےجھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر درد مندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر ، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا
پرسوز لے اور آواز نے حاضرین کو کچھ لمحوں کے لیئے مسحور کر دیا، پھر جالب کی یہ سرکشی مزاحیہ مشاعرے سے نکل کر ملک کے گلی کوچوں اور اقتدار کے ایونوں تک پھیل گئی،
جالب مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔
جالب متحدہ ہندوستان کے گاوں میانی افغاناں ضلع ہوشیارپور میں 24 مارچ 1928 کو پیدا ہوئے۔ جالب کے باپ صوفی عنایت بھی شاعر تھے۔ اس طرح شاعری ان کے جینز میں رچی بسی تھی۔ جالب غریب گھرانے میں پیدا ہوئے اور طبقاتی اونچ نیچ کو سہتے ہوئے بڑھے ہوئے، اور یہ طبقاتی تقسیم بتدریج جالب کے اندر بغاوت کو بھرتی رہی،
بٹوارے کی ہاہاکار میں جالب بھی ارمان لیئے خوابوں کی سرزمین کو لپکے، مگر جو خواب دیکھا تھا یہ سرزمین ویسی تو نہ تھی، جالب کو یہاں بھی بغاوت درکار تھی، کیونکہ نوزائیدہ مملکت خداداد پے ایک بھیڑئیے نے قبضہ کرلیا تھا، اور حق گوئی پے قدغن لگا دی تھی۔
جالب آمر کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہ تھا، بغاوت جالب کی سرشت میں داخل ہو چکی تھی نتیجتا جالب ارادہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا،
دھونس کے ہتھکنڈے ناکام ہونے پر آمر نے جالب کو پیسوں کے عوض خریدنا چاہا مگر بکنا جالب کی خصلت نہ تھی،
نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر جالب نے الیکشن بھی لڑا مگر ہار گئے، آمریت چلی گئی ملک ٹوٹ گیا، ملک میں کہنے کو جمہوریت آگئی مگر بات پھر وہی کہ یہ وہ جمہوریت تو نہ تھی کہ جس کا خواب دیکھا تھا، بھٹو اور پھر ضیا دور میں بھی قید و بند صعبوتیں برداشت کرتے گزر گیا، بالآخر بغاوت کا یہ استعارہ 1993 میں لوٹ گیا مگر اپنے پیچھے بغاوت چھوڑ گیا،



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں