سانحہ اوجڑی کیمپ کی کہانی
دس اپریل 1988، جب راولپنڈی اور شہر خموشاں اسلام آباد پر قیامت ٹوٹ پڑی، نہتے بھاگتے شہری تھے اور ان کا نشانہ بناتے جدید میزائل اور بمبز،
کسی غیر ملکی فوج نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ اپنے ہی محافظوں کی نااہلیت قہر بن کر ٹوٹ رہی تھی،
جنرل اختر عبدالرحمن کو فاتح روس کے نام سے جانا جاتا ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اوجڑی کیمپ دھماکے کا ذمہ دار صرف اور صرف یہی شخص تھا جس نے شہر کے بیچوں بیچ بارود خانہ بنوایا اور شہر کے باسیوں کو موت کے منہ پر بٹھا دیا،
صبح ساڑھے دس بجے دن دہاڑے اوجڑی کیمپ میں موجود دس ہزار ٹن بارود دھماکے سے پھٹ گیا،
بارود خانے میں موجود میزائل راکٹ اور طرح طرح کے جنگی ہتھیار اڑ اڑ کر شہر میں چلتے پھرتے شہریوں کو نشانہ بنانے لگے، ایک محتاط اندازے کیمطابق سو کے قریب لوگ جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی اپاہج ہوگئے،
حسب روایت مٹی پاو پالیسی کے تحت اس قتل و غارت گری کے ذمہ داروں تعین آج تک نہیں ہوسکا، بلکہ انہی تانہ شاہوں نے اپنی نااہلیت پر پردہ ڈالنے کے لیے من گھڑت سازشی تھیوریز پھیلا دیں جن میں سے مشہور ترین تھیوری یہ تھی کہ امریکہ سے حاصل کیا گیا اسلحہ میں سے کافی اسلحہ ہم نے بچا کر فالتو بارود سے یہ دھماکے کرکے امریکہ کو بیوقوف بنایا، اور اس تھیوری کو مقدس سچ مان کر ہم انہی نااہلوں کی عظمت کے قصیدے پڑھتے رہے،
دوسری تھیوری تھوڑی دوسری طرح کی ہے جس کیمطابق امریکہ سے حاص کیے گئے کچھ اسٹنگر میزائل دانستہ یا چوری چھپے ایران کو بیچ دیے گئے پھر جن کی گنتی کو چھپانے کے لیے یہ دھماکہ کیا گیا،
اسٹنگر میزائل کو روس کی شکست میں بہت اہمیت حاصل ہے اسٹنگر میزائل کی آمد سے قبل روسی افواج کو افغان جنگجوؤں پر واضح برتری حاصل تھی روسی فوج کا جب دل کرتا اپنے ہیلی کاپٹر بھیج کر جنگجوؤں کے ٹھکانے تباہ کردیتا مگر اسٹنگر میزائل کی بدولت روسی فوج ہیلی کاپٹر تو کیا جنگی جہاز استعمال کرنے سے بھی جاتی رہی، اسٹنگر میزائل اتنے کارگر ثابت ہوئے کہ ان کی کامیابی کا تناسب 80 فیصد تھا،
پاکستانی استاد افغان جنگجوؤں ان کو چلانے کی تربیت اسی اوجڑی کیمپ میں دیا کرتے تھے جس کے چرچے امریکہ اور ماسکو تک تھے، اور روس کسی بھی طرح اسٹنگر میزائل حاصل کرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ کو شک تھا کہ یہ میزائل بذریعہ ایران روس کے ہاتھ نہ لگیں،
معاملہ جو بھی تھا بہرکیف شہر کے بیچوں بیچ بارود خانہ بنانا احمقانہ ترین فیصلہ تھا جس کے ذمہ داروں کو تختہ دار پے لٹکایا جانا چاہیے تھا
مگر اپنے دیس کا قانون ہی نرالا ہے
جو جتنا بڑا لٹیرا ہے وہ اتنا بڑا وڈیرا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں