ہمارے پاوں تلے کیا ہے؟
ہم آج تک زمین کے اندر زیادہ سے زیادہ 12 کلومیٹر تک ہی جھانک سکے ہیں اور اس میں بھی ہم کو 20 سال لگے!
مگر سائنس تو تھکتی نہیں ، سائنسدان اب بھی ریسرچ کر رہے ہیں کہ زلزلے کی لہریں اس گولے سے کیسے گزرتی ہیں۔اور پھر جب یہ لہریں زمین کی مختلف کثافتوں سے گزرتی ہیں تو کیسے اپنی سپیڈ اور طرزعمل بدلتی ہیں
زمین کی سب سے اندرونی کور بالکل ٹھوس دھات کی گیند کا انتہائی گھنا دائرہ 1،220 کلومیٹر ہے؛ یہ زیادہ تر آئرن اور نکل سے بنا ہوا ہے اور اتنا ہی گرم ہے جتنی سورج کی سطح۔
اس کا بیرونی کور بھی آئرن اور نکل ، یورینیم اور تھوریم جیسی دھاتوں سے بنایا گیا ہے ، اسی کور میں زمین کا مقناطیسی فیلڈ ہوتا ہے۔
اس کے اوپر زمین کی تہہ (مینٹل mantle ) ہے جو سطح زمین سے نیچے 30 کلو میٹر کے فاصلے سے شروع ہوتی ہے۔
یہ پرت زیادہ تر آئرن ، میگنیشیم اور سلیکان سے بنی ہوی ہے ، اس پرت میں ہیرے اور چٹانیں پائی جاتی ہیں
دنیا کے مشہور ہیروں میں سے کچھ بہت بڑے اور خالص ہیرے جیسا کہ دنیا کے مشہور ہیرے "کلینن" ۔
یہ 360 سے 750 کلومیٹر نیچے کی تشکیل پاتے ہیں ،
پھر زمین کی پرت (crust) ہے جو ابلے انڈے کے سخت خول کی طرح ہوتی ہے۔اس کی موٹائی 5 سے 70 کلو میٹر تک مختلف ہوتی ہے۔ زمین کا یہ حصہ ٹھنڈا اور نازک ہوتا ہے جس کو آسانی سے کاٹا جا سکتا ہے زمین کی یہ پرت اندر سے مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوتی ہے جن کو ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے اور یہ پلٹیں سرکتی رہتی ہیں ہر سال تقریباً صرف 3 سے 5 سنٹی میٹر (1.2 سے 2 انچ)۔ اور یہ حرکتیں زمین پر زلزلوں اور آتش فشاوں کے پھٹنے کی سبب بھی بنتی ہیں۔
زمین کی ساخت:
آئرن - 32.1%
آکسیجن - 30.1%
سلیکون - 15.1%
میگنیشیم - 13.9%
سلفر - 2.9%
نکل - 1.8%
کیلشیم - 1.5%
ایلومینیم - 1.4%
دیگر عنصر - 1.2%
زمین کی گردش اور اس کے گول ہونے کا سب سے پہلے دعوی یونانی حکماء نے کیا جس کے بعد مسلم سائنس دان البیرونی نے عثمانیہ عہد خلافت میں زمین کی پیمائش کا پیمانہ دریافت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ زمین چپٹی یا فلیٹ نہیں بلکہ گول ہے اور سورج کے گرد گردش کرتی ہے، البیرونی نے محض ریاضی اور الجبرے کی مدد سے زمین کی اتنی درست پیمائش کی جو آج کی سائنسی پیمائش سے صرف 2 فیصد کے فرق پر ہے۔
حوالہ جات؛
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں