Translate

ہفتہ، 28 ستمبر، 2024

The Next Intelligence AI in urdu

میرے وفادار اور سمجھدار روبوٹ، کیا تم بتا سکتے ہو کہ مجھے کیسے محبوب کی تلاش ہے؟ 
مستقبل کی ذہانت مصنوعی ذہانت
کیا دنیا خواب کی حد تک بدلنے جانیوالی ہے؟
مصنوعی ذہانت اور پھر اس سے لیس انسان جیسا یا پھر انسانوں سے کہیں زیادہ باصلاحیت مشینی روبوٹ نئی ٹیکنالوجیکل دور کے انسان کا دیرینہ خواب رہا ہے، کہ جو آئیڈیل حد تک پاورفل ہو اور ساتھ ہی آپکے کنٹرول میں بھی ہو، جس سے پلک جھپکنے میں آپ من چاہے انہونے کام لے سکیں. 
یہ فکشن کی حدوں کو چھوتا بہت ہی دلچسپ مضمون ہے، اور اس میدان میں حالیہ پیش رفت نے اس کو چار چاند لگا دیے ہیں. 
انسان جانتا ہے کہ مستقبل کی ذہانت بلاشبہ مصنوعی ذہانت ہی ہے جو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک بڑا جمپ لگا سکتا ہے، مگر یہاں بھی سب اچھا نہیں ہے بلکہ انقلاب عذاب بھی بن سکتا ہے، کیونکہ کسی اور کو طاقتور بنانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آپ خود کو کمزور بنانے جارہے ہیں. اور سنجیدہ ماہرین اسی بارے اپنے شکوک کا اظہار بھی کررہے ہیں. 
کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ فی الوقت چیٹ بوٹ ماسوائے رٹو طوطے کہ اور کچھ نہیں، یہ آپ کو انٹرنیٹ پر موجود مواد سے ہی یکجا کر کے معلومات فراہم کرتا ہے اور ایسا کرنے پر لوگ محظوظ ہوجاتے ہیں کہ دیکھو یہ تو بالکل انسانوں کی طرح جواب دے رہا ہے. حالانکہ یہ معلومات کسی اور نے نہیں بلکہ انسانوں نے ہی پچھلے 20 برسوں میں انٹرنیٹ پر بہم پہنچائی ہیں، اس کو ہم فی الوقت انٹیلی جنس نہیں کہہ سکتے. اس کی بجائے بقول کاکو (جو کہ پارٹیکل اور سٹرنگ تھیوری کے معروف ایکسپرٹ ہیں) انٹیلیجنس انقلاب تو دراصل کوانٹم کمپیوٹنگ میں آنے جارہا ہے. کوانٹم کمپیوٹر دراصل انسانی دماغ سے قریب تر ہوں گے. بہرحال دوستو ہم تب تک چیٹ بوٹ کے چٹخارے سے محظوظ ہوتے ہیں. 
آٹو جی پی ٹی
چیٹ جی پی ٹی پیچیدہ اور سٹیپ در سٹیپ ٹاسک کو حل کرنے میں بہترین نہیں رہی ہے، تو اس مسئلے کا حل ہے آٹو جی پی ٹی.

 آٹو جی پی ٹی "آٹومیٹک جنریٹو پری ٹریننگ ٹرانسفارمر" کا مخفف ہے، جو کہ جنریٹو پری ٹرینڈ ٹرانسفارمر (GPT) کہلانے والے مقبول زبان ماڈل فن تعمیر کا ایک قسم ہے۔ آٹو جی پی ٹی ایک تخلیقی لینگویج ماڈل ہے جسے بغیر نگرانی کے سیکھنے کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکسٹ ڈیٹا کے ایک بڑے کارپس پر تربیت دی گئی ہے، جس سے اسے فراہم کردہ اشارے کی بنیاد پر مربوط اور سیاق و سباق سے متعلقہ متن تیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

آٹو جی پی ٹی کے تربیتی عمل میں پری ٹریننگ اور فائن ٹیوننگ کے مراحل شامل ہیں۔ پری ٹریننگ مرحلے کے دوران، ماڈل کو انٹرنیٹ کے کچھ حصوں پر مشتمل ایک بڑے ڈیٹاسیٹ پر تربیت دی جاتی ہے، جو اسے پیٹرن، تعلقات اور زبان کی نمائندگی سیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ایک جملے میں اگلے لفظ کی پیشین گوئی کرنا سیکھتا ہے، جس سے اسے متن کے گرامر، نحو اور سیمنٹکس کو حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فائن ٹیوننگ مرحلے کے دوران، ماڈل کو ایک چھوٹے ڈیٹاسیٹ پر مزید تربیت دی جاتی ہے جو احتیاط سے انسانوں کے تیار کردہ اشارے اور جوابات کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے، جو اسے مخصوص ڈومین یا انداز میں متن کی تخصیص اور تخلیق کرنے میں مدد کرتا ہے۔
گو یہ زیادہ تر سائنس فکشن ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی مقام پر پہنچ کر AI آزادانہ طور پر آگے بڑھ جائے۔ لیکن فی الوقت یہ ایک ایسا خدشہ ہی ہے کہ جس پر ابھی بہت سنجیدگی سے غور کرنا مناسب نہیں لگتا،
جب کوئی اشارہ دیا جاتا ہے، تو آٹو جی پی ٹی الفاظ پر سیکھے ہوئے امکانی تقسیم سے نمونے لے کر متن تیار کرتا ہے۔ یہ پرامپٹ کے سیاق و سباق اور مختلف الفاظ کے وقوع پذیر ہونے کے امکان کی بنیاد پر ترتیب میں اگلے لفظ کی پیشین گوئی کرتا ہے۔ اس عمل کو متعدد بار دہرایا جاتا ہے تاکہ ایک مربوط اور سیاق و سباق سے متعلقہ متن کا جواب پیدا کیا جا سکے۔ تیار کردہ متن کا معیار تربیتی ڈیٹا کے سائز اور معیار کے ساتھ ساتھ ماڈل کے فن تعمیر اور پیرامیٹرز پر منحصر ہے۔
آٹو جی پی ٹی کو قدرتی لینگویج پروسیسنگ (NLP) کاموں کی ایک وسیع رینج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے متن کی تکمیل، متن کا خلاصہ، سوالوں کے جوابات، زبان کا ترجمہ، اور متن کی تخلیق، بشمول مواد کی تخلیق، چیٹ بوٹس، اور ورچوئل اسسٹنٹس کے لیے۔ تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ AutoGPT ایک زبان کا نمونہ ہے اور اس کے پاس حقیقی دنیا کا علم یا سمجھ بوجھ نہیں ہے جو اس نے تربیتی ڈیٹا سے سیکھا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی بمقابلہ گوگل بارڈ
دونوں ہی پاور فل ٹولز سے لیس ہیں اور دونوں اپنے مختلف شعبوں میں بہترین ہیں، مثلاً جب بات آتی ہے، بہتر ایوزر فرینڈلی انٹرفیس، انسانوں جیسے رسپانس اور انٹرنیٹ تک رسائی کی تو گوگل بارڈ چیٹ جی پی ٹی کو پچھاڑ دیتا ہے. تاہم جب بات آتی ہے، ٹیکسٹ پروسیسنگ ٹاسک جیسا کہ آرٹیکل کا خلاصہ یا پیراگراف لکھنا تو چیٹ جی پی ٹی گوگل بارڈ پر برتری رکھتا ہے. 
چیٹ جی پی ٹی صارفین کو محدود اور پیڈ رسائی فراہم کرتا ہے جبکہ گوگل بارڈ فری فار آل ہے. 

حوالہ جات:


References: 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں