اقبال اکیسویں صدی کے کٹہرے میں!
سب سے پہلے تو یہ جذباتیت اور تعصب سے ہٹ کر فکر اقبال کا ناقدانہ جائزہ لینے کی کوشش ہے، یہ سمجھنے کی کوشش ہے کہ اقبال کیا تھا، اور آج کیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر اقبال نے پاکستان کے مسلمانوں کو کیا دیا؟
زندہ سماج اپنی سوچ، اعتقادات اور نظریات کی وقتا فوقتا پڑتال کرتے رہتے ہیں، تطہیر کا عمل دراصل بہتر سے بہترین کا ارتقاء ہے،
اقبال کو بلاشبہ پاکستان کے لیے عظیم ہی ہونا چائیے کیونکہ ہر قوم کا کوئی نقطہ ارتکاز ہوتا ہے، لیکن بے ثمر بوڑھے شجر سے اچھے وہ پودے جو آتی بہار میں بہار لا سکیں، بہت خزاں دیکھ لی، آزمائش اپنی توجیہ پاچکی، اب شکوہ اور بس شکوہ! ہی ہمیں آئینہ دیکھا سکتا ہے.
علامہ اقبال پر اٹھائے جانے والے چند اعتراضات.
سانحہ جلیانوالہ باغ پر خاموشی کیوں؟
قابض انگریز سرکار سے "SIR" کے خطاب کا حصول کیوں؟
قابض انگریز سرکار سے وظیفہ خوری کیوں؟
بھگت سنگھ کا طریقہ کار غلط تھا لیکن اس کے کاز پر خاموشی کیوں؟
پنجاب کے اردگرد کے علاقوں پر مشتمل الگ ریاست مگر وائسرائے کے ماتحت کیوں؟
خطاب الہ آباد 1930 میں بنگال کا ذکر کیوں نہیں؟
ہندوستانی شاہین کو کس سے لڑنا ہے؟
امت مسلمہ کا واحد خلیفہ کیوں اور کیسے؟
ایک قابل غور نقطہ!
کہیں اقبال بھی ارسطو کی طرح مقبوض تو نہیں ہو گیا؟ کہ کس طرح پادریوں نے اپنے دینی عقائد کو سچ ثابت کرنے کے لیے ارسطو پر قبضہ کرلیا.
ارسطو نہ تو عیسائی تھا اور نہ ہی اس کے نظریات عیسائیت برمبنی تھے، مگر عیسائیت نے عرصہ دراز اپنے مذہبی اعتقادات کو ارسطو سے جوڑا رکھا، وجہ صاف ظاہر تھی ارسطو اپنے وقت کا ذہین ترین شخص گردانا جاتا تھا اس کا کہا مستند مانا جاتا تھا، چرچ اپنے عقائد کو ارسطو کے نظریات سے منطبق کرکے انھیں درست قرار دینا چاہتا تھا، مگر گلیلیو نے ایک دوربین کی مدد سے ارسطو اور چرچ دونوں کو غلط ثابت کردیا، چرچ نے بجائے شکست تسلیم کرنے الٹا گلیلیو کو کھڈے لائن لگا ڈالا، مگر گلیلیو ارسطو نہیں تھا، وقت نے گلیلیو کو صحیح ثابت کردیا اور پانچ سو سال بعد بالآخر چرچ نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اور 1992 میں گلیلیو کی روح (نظریات) سے معافی مانگ لی.
اقبال کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے پاکستان میں دائیں بازو کی بنیاد پرست کی قسم کی سوچ رکھنے والوں نے بھی قبضہ کرلیا ہو، اور ان کی سنجیدہ گفتگو سے پس نظر کرتے ہوئے ان کے شاہین کو اپنا مرد مجاہد بنا لیا ہو،
لیکن یورپ کو تو گلیلیو مل گیا جس نے اہل کلیسا کو ارسطو سے نجات دلا دی مگر پاکستان ہنوز کسی گلیلیو کا متلاشی ہے، پرویز ہود بھائی اقبال کے اچھے ناقد ہیں لیکن ان کے ساتھ باوصف گلیلیو کہ ایک مسئلہ درپیش ہے کہ گلیلیو کے پاس ارسطو کو غلط ثابت کرنے کے لیے ٹھوس سائنسی دلیل موجود تھی جبکہ پرویز بھائی کی تحریک نظریاتی تحریک ہے، اقبال کے حامی پھر پرویز ہود بھائی پر ایک بڑا اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے شعبہ ہائے روزگار میں کونسا کارہائے نمایاں سرانجام دے رکھا ہے کہ وہ اقبال کے بلند کردار پر بات کرسکتے ہیں، ان کا قد ان کے اپنے شعبے میں کچھ بھی نہیں جبکہ اقبال کا قد اپنے شعبے شاعری وغیرہ میں مستند ہے، پرویز ہود بھائی کا دوسرا مسئلہ پھر ان کا ادبی کیریئر نہیں ہے اور انداز گفتگو اور انداز تحریر عام قاری کو کم ہی متاثر کرتا ہے، ان کا حددرجہ سائنس کی طرف ظاہر جھکاؤ قاری کو فوراً ہوشیار باش کردیتا ہے، جس سے قاری قدرے بدک جاتا ہے، اور قبولیت کی بجائے رد کی رویہ اپنا لیتا ہے، جب تک آپ قاری کے دماغ میں گھسیں گے نہیں تب تک اس کے دماغ میں لگی گرہیں کھولیں گے کیسے؟ جبکہ دوسری طرف اقبال اس میدان کے شہسوار ہیں. وہ چڑی کو خود کو شاہین سمجھنے کے ماہر ہیں.
اقبال کی دوئی!
جب ہم اقبال کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو اقبال کے ہاں دوئی ملتی ہے، شکوہ بھی ملتا ہے اور جواب شکوہ بھی، اب اگر کوئی شکوہ کو بھول کر محض جواب شکوہ پر ہی کمربستہ ہو جائے تو اس میں پھر قصور اقبال کا نہیں، بلکہ وقت کے جبر اور حالات کی نزاکت کا ہے،
تصوفی ادیب اشفاق احمد نے ایک دفعہ روزنامہ جنگ کیلیے دیئے گے انٹرویو میں کہا تھا کہ اقبال کے ہاں دوئی ہے۔ شاعری کا اقبال اور ہے جبکہ نثری فلسفے کا اقبال اور ہے۔ یعنی دن کا اقبال اور ہے اور رات کا اقبال اور ہے۔ شاعری میں اقبال کے ہاں عشق جنون، شاہین اور جذبہ ملتا ہے جبکہ نثر (خطابات) میں جذبہ عنقا ہے منطق کو ہتھیار بنانے کی تگ و دو نظر آتی ہے۔
لیکن یہاں اقبال وہی آفاقی غلطی کا شکار ہوتے ہیں اور زمان و مکان کی قید و بند میں فکر سے جا بھڑتے ہیں، فکر آگے نکل جاتی ہے اور اقبال پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اقبال کا جائزہ!
اس مضمون کو بہت زیادہ پھیلانے کی بجائے ہم اپنی آسانی اور دستور زمانہ کیمطابق اقبال کے چند مشہور معترضین کے اعتراضات اور پھر مختلف ذرائع سے اقبال کا کی گئے دفاع کا جائزہ لیں گے، اور اعتراض اور دفاع کے بیچ محض اپنے خیالات کی تصحیح کرنے کی کوشش کریں گے،
اقبال کے ناقد!
ہم شروعات کرتے ہیں ایاز میر کے جنگ اخبار کے کالم
جس کا دفاعی کالم لکھا حامد میر نے جنگ اخبار میں
علامہ اقبالؒ پر الزامات کا جواب 31 مارچ 2014
حامد میر نے جو پہلی دفاعی دلیل دی ہے وہ دلیل کم ہمدردی کی اپیل زیادہ لگتی ہے، اگلی ہی لائن میں حامد میر نے 1930 سے قبل کو علامہ اقبال کی ابتدائی سیاست قرار دیا، پھر سانحہ جلیانوالہ کے جواب میں حامد میر انکے ذاتی معاملات، قوالی وجد، بانگ درا، اسرار خودی اور پھر رموز بے خودی کی اشاعتی مصروفیت کو بطور ڈھال پیش کرتے ہیں، چلیں سانحہ جلیانوالہ تو نپٹ گیا،
اب آتے ہیں انگریز سرکار کے دیے گئے خطاب "سر" کے دفاع کو، یہاں بھی میر جی معذرت خواہانہ قسم کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں، یعنی کل ملا کہ علامہ اقبال نے "سر" کا خطاب بڑی مشکل سے قبول کیا تھا، اب یہاں سوال بنتا ہے کہ کیا مرد مجاہد شاہین بھی کنفیوژن کا شکار ہو سکتا ہے یا مجبور بھی؟
اب ہندو مسلم الیکشن کے بعد پنجاب اسمبلی سے سیاست سیکھ کر سیدھے 1930 کے مشہور زمانہ خطبے پر آتے ہیں، یہاں حامد میر صاحب بال جواہر لال نہرو اور پتہ نہیں کس کس کی طرف اچھال کر خطبے میں بنگال کے عدم ذکر کو گول کر گئے ہیں.
آخر پے بھگت سنگھ کھڑا ہے بم دھماکہ لے کر، بالکل ایگری، بھگت سنگھ غلط، مگر پھر بحرظلمات کیا ہیں؟ بے تیغ کون اور کیسے لڑے گا؟ شاہین نے کس سے جنگ لڑنی ہے؟ جواب پھر وہی ہمدردانہ اپیل کا، خیر حامد میر کے دفاع سے تو کوئی مطالعہ پاکستان والا شاہین ہی مطمئمن ہو سکتا ہے فقط،
اقبال کے دوسرے ناقد ہیں پروفیسر پرویز ہود بھائی:
اقبال ، فلسفہ اور سائنس—- پرویز ہود بھائی
پرویز ہود بھائی کے اس لیکچر کا بطور خاص انتخاب اس لیے کیا گیا ہے، اول تو انکی نیت "بت شکن" جس کا ذکر وہ اپنے لیکچر کے شروع میں کرتے ہیں دوسرا پرویز ہود بھائی نے کوشش کی ہے کہ اپنے پیش کردہ اعتراضات کو علامہ اقبال کی ہی تصانیف خطبات وغیرہ سے لیا گیا ہے۔
اقبال کا شاہین بمقابلہ نطشے کا سپرمین!
کچھ لوگ اپنی کوتاہ نظری یا کم عقلی یا تعصبی حملے کی خاطر اقبال کے شاہین کو نطشے کے سپرمین کا چربہ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے، اگر آپ نطشے کے فلسفے کو پڑھیں گے تو شاہین کو بھول جائیں گے، اس بارے فقط اتنا جان لیں کہ فلسفے کے مشہور مبصر ول ڈیورانٹ نے نطشے کو ڈارون کا بیٹا کہا تھا. فرق بس اتنا ہے کہ ڈارون کا ارتقاء کا فلسفہ سائنسی بنیادوں پر تھا جبکہ نطشے کا اخلاقی بنیادوں پر.
شاہین کو اگر دیکھیں تو شاہین ایک موٹیویشنل کردار کی مانند ہے اس کے اندر کوئی فلسفیانہ یا پھر سائنسی حکمت مخفی نہیں ہے، اور اقبال نے نطشے اور سپرمین کیساتھ وہی سلوک کیا ہے جو انھوں نے فلسفے کیساتھ کیا ہے، نطشے کو مرد مومن جبکہ فلسفے کو وقت کا ضیاع قرار دیا ہے. اقبال کے ساتھ ایک اور زیادتی جو ہم لوگ کرجاتے ہیں وہ ہے کہ جب ہم علامہ اقبال کا موازنہ دیگر مشاہیر سے کرتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ اقبال ایک اقلیتی قوم کے ممبر تھے، اس قوم کے جس نے اکثریت کے علاقے میں جنم لیا تھا اور شروع دن سے اکثریت کے بالمقابل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی، اور اس جنگ میں اس نے اپنی تاریخی جغرافیائی ثقافتی شناخت تک کو ترک کرکے رکھ دیا تھا، اور اپنی تاریخ عرب و فارس و ترک سے جا جوڑی تھی. اقبال کے ہمعصر نوبل انعام یافتہ ٹیگور ایک اکثریتی قوم میں پیدا ہوئے تھے، جس کا مسئلہ اپنی بقا نہیں بلکہ ارتقاء تھا، ٹیگور جمالیات کے علمبردار بن گئے جبکہ اقبال آزادی کے سپاہی، ٹیگور نے کھل کر مہاتما گاندھی کے عدم تشدد فلسفے پر تنقید کی اور اس کی اصلیت واضح کی، سوچیں اگر اقبال اقلیتی قوم پر اس طرح تنقید کرتے تو اقلیتی قوم کی تحریک پر کیا گزرتی اور اقبال کا قومی درجہ کیا ہوتا.
اقبال نہیں تو پھر کون!
ہر قوم ہر ملک کو متحد رہنے کے لیے قدرے قوم پرست نظریات کی ضرورت ہوتی ہے،
اقبال مقابل ٹیگور
دونوں برصغیر کے عظیم شاعر تھے، مگر ٹیگور نے اقبال سے ایک سٹیپ آگے لیتے ہوئے اپنی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا جس کی بدولت وہ عالمی شاعر بنے اور ان کو 1913 میں نوبل پرائز بھی ملا، جبکہ اقبال وہی لکیر کے فقیر بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے رہے، گو کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے اقبال کے فارسی مجموعہ اسرار خودی کا انگریزی میں ترجمہ کیا،
اقبال اپنی شاعری کی نظر سے!
اقبال اور تلوار؛
فتوي ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے
دنيا ميں اب رہي نہيں تلوار کارگر
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے
تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
اقبال اور جدید تعلیم!
تعليم اس کو چاہيے ترک جہاد کي
دنيا کو جس کے پنجہ خونيں سے ہو خطر
عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
اقبال کے خیالات کا تضاد !
بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
نور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
اقبال اور جمہوریت !
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
لوگ کہتے ہیں مجھے، راگ کو چھوڑو اقبال
راگ ہے دین مرا، راگ ہے ایمان مرا
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے یورپ سے نہیں
(جاری ہے)
حوالہ جات:




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں