Translate

بدھ، 18 مئی، 2022

پاکستان پانچ فیصد گروتھ سے ترقی کیوں نہیں کر سکتا؟

 درحقیقت موجودہ صورتحال میں پاکستان 5٪ گروتھ ریٹ سے ترقی کر ہی نہیں سکتا؟

پاکستان کی موجودہ ڈالر ریزرو کی صورتحآل فقط 3٪ تک گروتھ کی متحمل ہی ہے، کیونکہ گروتھ کو5٪ کرنے کے لیے پھر اضافی درآمدات جیسے مشینری وغیرہ کرنا درآمد کرنا پڑتی ہے نتیجتاً جس کے لیے اضافی ڈالرز درکار ہوتے ہیں۔ جن کے لیے پھر مزید قرضہ لینا پڑتا ہے۔ اور ملک مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے. 

لیکن ترقی پذیر ممالک کے لیے 3٪ گروتھ کی شرح انتہائی کم ہے، جو کم از کم 5٪ سے تو اوپر ہی ہونی چائیے. تب کہیں جاکر ملک اپنے عوام کو غربت سے نکال کر ان کی حالت بہتر بنا سکتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک کی ترقی کی شرح، پاکستان اس میں کہاں کھڑا ہے


پاکستان پچھلے 30 سالوں سے لگاتار ڈالرز کی کمی کا شکار ہے، یعنی درآمدات زیادہ ہیں جبکہ ان کو خریدنے کے لیے درکار ڈالرز کم ہیں، 
Years Exports Imports Difference
1985-86 3,070 5,634 -2,564
1986-87 3,686 5,380 -1,694
1987-88 4,455 6,391 -1,936
1988-89 4,661 7,034 -2,373
1989-90 4,954 6,935 -1,981
1990-91 6,131 7,619 -1,488
1991-92 6,904 9,252 -2,348
1992-93 6,813 9,941 -3,128
1993-94 6,803 8,564 -1,761
1994-95 8,137 10,394 -2,257
1995-96 8,707 11,805 -3,098
1996-97 8,320 11,894 -3,574
1997-98 8,628 10,118 -1,490
1998-99 7,779 9,432 -1,653
1999-2000 8,569 10,309 -1,740
2000-2001 9,202 10,729 -1,527
2001-2002 9,135 10,340 -1,205
2002-2003 11,160 12,220 -1,060
2003-2004 12,313 15,592 -3,279
2004-2005 14,391 20,598 -6,207
2005-2006 16,451 28,581 -12,130
2006-2007 16,976 30,540 -13,564
2007-2008 19,052 39,966 -20,914
2008-2009 17,688 34,822 -17,134
2009-2010 19,290 34,710 -15,420
2010-2011 24,810 40,414 -15,604
2011-2012 23,624 44,912 -21,288
2012-2013 24,460 44,950 -20,490
2013-2014 25,110 45,073 -19,963
2014-2015 23,667 45,826 -22,159
2015-2016 20,787 44,685 -23,898
2016-2017 20,422 52,910 -32,488
2017-2018 23,212 60,795 -37,583
2018-2019 22,958 54,763 -31,805
2019-2020 21,394 44,553 -23,159
2020-2021 25,304 56,380 -31,076
Values are in Million US $


اس سال اندازہ ہے کہ 
ایکسپورٹ سے  30 ارب ڈالرز 
اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے گئے پیسوں سے حاصل ہوں گئے 30 ارب ڈالرز 
 یعنی ٹوٹل 60ارب ڈالرز 
جبکہ دوسری طرف اس سال درآمدات 75 ارب ڈالرز تک جا پہنچنے کا اندیشہ ہے، اس طرح پاکستان کو پھر 15 سے 20 ارب ڈالرز کا خسارہ ہو گا، جس کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو پھر مزید قرضے لینا پڑیں گے

پاکستان ٹریڈ ڈویلپمنٹ کے اعداد و شمار


گزشتہ 30 سالوں میں صرف 3 سال ایسے گزرے ہیں جب پاکستان کو ڈالرز کا خسارہ نہیں تھا، 2002 سے 2005 تک 9/11 کے بعد امریکی ڈالرز کی امداد کے عوض پاکستان کے پاس اضافی ڈالرز تھے،


جب ٹریڈ خسارہ بڑھتا ہے تو نتیجتا ڈالرز کی کمی کا خسارہ بڑھتا ہے تو نتیجتا پھر ڈالرز مہنگا ہونا شروع ہو جاتا ہے، جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تب ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو جاتا ہے، پھر حکومت ڈالر کو کنٹرول کرنے کے لیے مجبورا سود کی شرح بڑھا کر مارکیٹ کی سرگرمیوں کو سلو ڈاون کرتی ہے۔

اس طرح حکومت اپنے ہی بچھائے جال میں پھنسی رہتی ہے۔ قرضے لوٹانے کے لیے قرضے لینے والا سائیکل کبھی رکتا نہیں۔ اسی مدوجزر میں ڈالر بڑھتا چڑھتا رہتا ہے. 

اس وقت پاکستان کا مسئلہ قرضے اور پھر زیادہ سود والے قرضے ہیں۔ دراصل ماضی قریب میں قرضوں کی واپسی کے لیے عجلت میں زیادہ شرح سود پر قرضے لیے گئے، مزید براں یہ قرض سیاسی شوباز پروجیکٹز میں لگائے گئے جو ملکی پیداوار ، برآمدات یا کمائی میں اضافے کی بجائے ازخود ملک پر بوجھ بنتے چلے گئے۔ گزشتہ تین سالوں میں پاکستان کا سارا ریونیو سود کی مد میں چلا گیا۔ پیچھے بچا کچھ نہیں!

پاکستان کے قرضوں کی صورتحال

پاکستان کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے اپنے سیاسی فوائد کی بجائے ملکی مفاد کی معاشی پالیسی بنانا ہو گی، 

سبسڈی کلچر کا خاتمہ کرنا ہو گا 2021-22 کے بجٹ میں مختلف قسم کی 682 ارب کی سبسڈی مختص کی گئی تھی اور تو اور میٹرو بس کے کرائے میں ایک ارب کی سبسڈی دی جاتی ہے، ایک طرف سبسڈی کلچر معیشت پر بوجھ بنتا ہے تو دوسری طرف کم قیمت کیوجہ سے برآمدی سمگلنگ شروع ہو جاتی ہے۔ سبسڈی اگر کسی چیز پر ایک دفعہ دے دی جائے تو پھر اس کو ختم کرنا مشکل بن جاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی حکومت کو کسی بھی چیز پر سبسڈی سوچ سمجھ کر ہی دینی چائیے۔ سبسڈی دراصل مارکیٹ کو اپنے اصل لیول پر چلنے سے روکتا ہے جو مصنوعی صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ اور مصنوعی مارکیٹ جب گرتی ہے تو پھر اس کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا، کیونکہ وہ پہلے ہی بیساکھیوں پر چل رہی ہوتی ہے۔

لگثری درآمدات کم کرنا ہوں گی، کیونکہ پھرامیروں کے کھانے کی قیمت غریب ادا کرتے ہیں. 

لگثری اشیا پر عارضی پابندی (عالمی قوانین کیمطابق بیلنس آف پیمنٹ کی مشکلات کے شکار ممالک اس طرح کی عارضی پابندیاں لگا سکتے ہیں) سے لگ بھگ 5 سے 6 ارب ڈالرز بچائے جا سکتے ہیں، جو مصیبت کی اس گھڑی میں بہت بڑا ریلیف ہو سکتا ہے۔


صرف موبائل فون 2 ارب ڈالر کے قریب درآمد کیے جاتے ہیں 

اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء 3 ارب ڈالرز کے قریب درآمد کی جاتی ہیں ان چیزوں کو مقامی سطح پر تیار کیا جانا چاہے اور انکی درآمد پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، 

پٹرولیم مصنوعات کو سولر یا بیٹری پاور پر کنورٹ کرنا ہو گا پٹرولیم مصنوعات کی درآمد 17 ارب ڈالر سے اوپر ہے، 


پاکستان کو جلد از جلد گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر کنورٹ کرنا چایئے۔ اور بڑے شہروں میں تو کاربن وہیکل پر بالکل پابندی لگا دینی چائیے۔

تھرمل پاور رینٹل بجلی گھروں سے نجات حاصل کرکے سستی پن بجلی پر جانا ہو گا، 

پاکستان کی درآمدات ملکی معیشت کا 20٪ جبکہ برآمدات 10٪ ہیں. پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر برآمدات کو بڑھانا ہو گا تاکہ تجارتی خسارہ کم سے کم سطح پر آ سکے. 

ہر ملک سیاسی فوائد کی بجائے ملکی مفاد کے فیصلہ کررہا ہے، مگر پاکستان میں اگلے الیکشن کی سیاست کی جاتی ہے، ن لیگ فورا" نظر آنے والے پروجیکٹز پر فوکس کرتی ہے جبکہ پی ٹی آئی جاتے جاتے محض نئی آنیوالی حکومت کو پھنسانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر خودکش قسم کی سبسڈی دے کر سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہ رہی ہے، اور ن لیگ بھی سیاسی نقصان کے پیش نظر مشکل فیصلے کرنے سے کترا رہی ہے، لیکن سیاستدان بھول جاتے ہیں کہ ملک ہے تو سیاست بھی ہوتی رہے گی، کرسی بھی ملتی رہے گی،


 

ایسے سمجھیں پاکستانی معیشت وینٹیلیٹر پر ہے اور ہر کچھ دن بعد آئی ایم ایف کے ڈاکٹر کو اس کو آکسیجن دینی پڑتی ہے. اپنی آمدنی سے زائد لیے گے قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے، اس کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے حکومت کو بالخصوص وفاقی سرکاری اخراجات بمطابق آمدن کم کرکے بجٹ خسارہ تو فی الفور ختم کرنا ہو گا اندازہ ہے کہ اس سال بجٹ کا خسارہ 3500 ارب کے لگ بھگ ہو گا. اٹھارہویں ترمیم کے بعد اگر ایک طرف ریونیو کا 57٪ صوبوں کو چلا جاتا ہے تو پھر اسی تناسب سے دوسری طرف وفاق کو اپنے اخراجات بھی کم کرنے چاہیے تھے. یہاں تک کہ دفاعی بجٹ کو بھی صوبوں پر مساوی تقسیم کردینا چاہیے لیکن خاکم بدہن قبلہ اپنے اختیارات اور جاہ و جلال میں کسی قسم کی کمی نہیں کرنا چاہتے. تو پھر قبلہ کی شان و شوکت کو قائم رکھنے کے لیے قرضے تو لینے پڑیں گے. 

موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے، پاکستانی معیشت میں ترقی کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی ناقص پالیسیاں اس کی راہ کی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، پاکستان کو ایک لانگ ٹرم معاشی پالیسی بنانا ہو گی پھر جس پر سب سیاسی جماعتیں عمل پیرا ہوں تب جاکر پاکستان تیز رفتار گروتھ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکے گا، وگرنہ باقی سب اسحاق ڈار کا حسابی ہیر پھیر ہے. 

اور سب سے اہم سیاسی استحکام! پاکستان کو معاشی بحران کیساتھ سیاسی بحران کا بھی شدید سامنا ہے، اور سیاسی عدم استحکام کی صورت میں معاشی استحکام ختم نہیں کیا جا سکتا، ملک میں امن ہو گا تبھی سرمایہ کار مطمئمن ہو گا اور سرمایہ کاری ممکن ہو پائے گی لیکن اس وقت ملک کے سب سے بڑے صوبے میں کوئی حکومت ہی نہیں ہے، وزیراعلی نہیں ہے گورنر نہیں ہے، کسی ایک بھی سیاسی پارٹی کو پالیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہے، وفاق میں دو وزیراعظم ہیں دو وزیر خزانہ ہیں لکین کوئی فیصلہ کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، صدر اپنی رٹ اپنا قانون بنائے بیٹھا ہے، ملک میں سب اتھل پتھل کرکے اب تھرڈ امپائر نیوٹرل بن بیٹھا ہے، ایک طرف ان کے سیاسی تجربات بری طرح فیل ہوئے ہیں تو دوسری ان تجربات کی پیداوار سڑکوں پے دندناتے پھر رہے ہیں اور ملک کو اپنی شرائط اپنی خواہشات کے پورا ہونے تک سیاسی بحران کا شکار رکھنا چاہتے ہیں، کوئی لندن سے بیٹھ کر تار ہلا رہا ہے تو کوئی واشنگٹن کے تار پر ہل رہا ہے، ان موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے سیاسی استحکام ناممکن سا نظر آتا ہے اوپر سے مذہبی اور لسانی انتہاپسندی اور دہشتگردی، ہنوز دلی دور است۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں