آزاد خارجہ پالیسی، خوش آئند، مگر کیا یہ حقیقت میں ممکن بھی ہے؟
ہم اس مضمون میں
عمران خان کی خیالی خارجہ پالیسی اور اس کے عملی ممکنات اور نتائج کا تقابلی جائزہ
لینے کی کوشش کریں گے!
پاکستان کا پہلا
امتحان! مغرب یا چین؟
یورپی یونین کے بعد امریکہ پاکستان کا سب سے اچھا تجارتی پارٹنر ہے جو پاکستان سے 6 ارب ڈالرز کی اشیا خریدتا ہے جو کسی بھی اکیلے ملک کی پاکستانی اشیا کی سب سے زیادہ امپورٹ ہے. مزید برآں امریکہ کا آئی ایم ایف میں سب سے زیادہ شئیر اور اثر و رسوخ ہے اور پاکستان ہر دور میں ہر وقت قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کے در پر موجود ہوتا ہے، اس لیے امریکہ بہادر کی ناراضگی کوئی معمولی چیز نہیں ہے،
امریکہ،
افغانستان اور پاکستان!
امریکہ کے حوالے سے اگر تاریخی طور بھی پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو دیکھیں تو پاکستان آزاد خارجہ پالیسی کی بجائے شروع سے ہی مغربی کیمپ میں چلا گیا تھا اور اونچ نیچ کے باوجود آج تک وہیں پر موجود ہے، اس سارے عرصے میں مغرب نے پاکستان کی معاشی عسکری مدد بھی کی، یہ الگ بات ہے کہ پاکستان اپنی نااہلیت کی بنا پر اس مدد سے فائدہ اٹھا کر ترقی نہ کرسکا. (جبکہ جاپان چین کوریا ترقی کر گئے) لیکن مغربی کیمپ سے نکل کر آزاد خارجہ پالیسی بنانا کوئی ایک دو دن یا اکیلے عمران خان کے بس کی بات نہیں یا محض روس کے ایک دورے سے پاکستان اپنی سمت تبدیل نہیں کرسکتا، اس بات کا اعتراف تو امریکہ نے بھی کیا ہے کہ حالیہ موومنٹ پاکستان کی پالیسی کی بجائے فرد واحد عمران خان کی آنیاں جانیاں ہیں، اس لیے پاکستان کو سزا دینے کی بجائے اگر عمران خان کو رستے سے ہٹادیا جائے تو پاکستان دوبارہ درست پٹری پر واپس آسکتا ہے.
عمران اور چین!
جہاں تک عمران خان کی آزاد کامیاب خارجہ پالیسی کی بات ہے تو یہ محض سیاسی بڑھکوں کے سوا کچھ نہیں ہے، عملی طور پر عمران خان کی خارجہ پالیسی انتہائی ناکام رہی ہے اور اس کے پاکستان کو مستقبل قریب میں برے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے.
عمران خان نے اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کا سب سے پہلا وار سی پیک پر کیا جب سی پیک کے خفیہ معاہدے آئی ایم ایف کے حوالے کردیے اور چین کو محتاط اور ناراض کرلیا.
چین نے پاکستان میں اس وقت سرمایہ کاری کی جب پاکستان مشکل معاشی دور سے گزر رہا تھا چین نے پاکستان کے حسب منشا شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کی یہ الگ بات ہے پاکستان کی اس وقت کی حکومت سی پیک کے ثمرات سمیٹنے میں ناکام رہی اور سی پیک کو سیاسی فوائد کے لیے استعمال کرتی رہی، سی پیک سے نہ تو عوام کو سستی بجلی مہیا کر سکی اور نہ ہی سی پیک کی سرمایہ کاری سے ایسے منصوبے لگا سکی جو کم از کم اپنا قرض ہی لاٹا سکتے، بالکل ایسی ہی صورتحال سے سری لنکا دوچار ہے جس نے بیرونی قرض غیر منافع بخش منصوبوں میں لگائے اور آج شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، اچنبھا نہیں پاکستان بھی مستقبل میں ایسی صورتحال کا شکار ہو جائے بلکہ ابھی سے پاکستان کو قرض لوٹانے کے لیے قرض لینے پڑتے ہیں،
ترک یا عرب؟
عمران خان نے دوسرا وار عربوں کیساتھ دیرینہ تعلقات کو بگاڑ کر کیا جب عمران نے ایران ترکی اور ملائیشیا کیساتھ مل کر سعودیہ کے برخلاف بلاک بنانے کی ناکام کوشش کی اور اس سے بھی بڑی غلطی طیب ایردوان کو محمد بن سلمان کی خفیہ باتیں بتا کر کی. یعنی ایک ہی تیر سے ملائیشیا ایران ترکی اور عربوں کو ناراض کردیا.
پاکستان کے معاشی مفادات عربوں کیساتھ پیوست ہیں ناکہ ترکی ملائیشیا کیساتھ. اور عمران نے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک بالکل ہی الٹ قسم کی ناقابل فہم اور ناقابل عمل حرکت کرنے کی کوشش کی، جہاں تک ترکی ایران اور ملائیشیا کی بات ہے تو وہ معاشی طور پر مستحکم ملک ہیں، وہ آزاد خارجہ پالیسی بنا سکتے ہیں، جبکہ پاکستان تو عرب ممالک سے اپنی افرادی قوت کے انخلا کو ہی برداشت نہیں کرسکتا جو سب سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ 14 ارب ڈالر صرف سعودیہ اور عرب امارات سے آتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پاکستان کی مالی امداد بھی کرتا رہتا ہے، مگر جب پاکستانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کو "ورنہ" اور "ودآوٹ" والی دھمکی دی تو سعودی عرب نے اسی وقت اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کردیا جو پاکستان نے پھر چین سے لے کر سعودیہ کو لوٹاے اور پھر بعدازاں سعودیہ سے منت سماجت بھی کی۔ حالانکہ عمران خان کی حکومت بنتے ہی سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا اور کئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے مگر عمران خان کی حکومت ان پر عمل درآمد نہ کروا سکی۔
عمران اور کشمیر!
لیکن عمران خان اس رونے دھونے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ آزاد خارجہ پالیسی کے لیے قرضوں سے آزاد معیشت پہلی چیز ہے جبکہ عمران خان صاحب نے اپنے دور حکومت میں قرضے لینے کی تاریخ رقم کردی ہے، ظاہر ہے پھر جو قرض دے گا وہ بھرم بھی دے گا۔
دورہ روس! غلط
وقت پر غلط جگہ:
عمران خان نے عین جنگ شروع ہونے سے قبل روس کا دورہ کرکے خود کو خارجہ پالیسی کی سوجھ بوجھ سے عاری لیڈر ثابت کردیا، جب سارا مغرب جن سے ہمارے معاشی مفادات وابستہ ہیں روس کیخلاف تھا عین اسی وقت عمران خان روس میں گندم اور گیس کے ناقابل عمل خیالی معاہدے کررہے تھے، پیوٹن نے عمران خان کو کمال عیاری سے استعمال کرلیا،
دو منٹ کے لیے ساری چیزیں چھوڑ کر ایک بار سوچیں کہ پاکستان کو روس کے دورے سے کیا فائدہ ہوا؟ گندم تو بقول عمران خان کے خود پاکستان میں ریکارڈ پیدا ہو رہی ہے جبکہ گیس کے معاہدے کبھی قطر کبھی ایران تو کبھی آذربائیجان سے کیے جارہے ہیں، ایسے میں کہاں روس کی گیس کہاں پاکستان؟
عمران خان کی
خارجہ پالیسی کا تجزیہ!
اور حقیقت بھی ایسے ہی ہے، عمران خان بیماری کی حد تک پہنچے ہوئے خوش فہم شخص ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ خالی جیب اور چندے سے شوکت خانم ہسپتال بنایا جا سکتا ہے اور کمزور ٹیم سے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا جا سکتا ہے تو خالی جیب سے امت کا پاسبان اور ملک کی آزاد پالیسی کیوں نہیں بنائی جاسکتی، لیکن عمران خان اپنی حددرجہ خوش فہمی میں مبتلا ہو کر زمینی حقائق کو بھول جاتے ہیں کہ ملک چندے سے نہیں چلتے اور آزاد پالیسیاں قرضدار ملک نہیں بنا سکتے، یہ کرکٹ کا ورلڈ کپ نہیں بلکہ حقائق کا سیاسی ورلڈ کپ ہے، جس میں معجزے نہیں محنت اور اہلیت سے پرفارم کرنا ہوتا ہے، اس میں نہ تو پرانی گیند سوئنگ ہوتی ہے اور نہ ہی کمزور ٹیم کے تکے لگتے ہیں، اس میں فقط ایک چیز چلتی ہے معاملہ فہمی، افسوس عمران خان جس سے یکسر فارغ ہے۔ اس کا اندازہ روس کے دورے کی ٹائمنگ سے لگایا جاسکتا ہے،
لیکن پھر بھی اگر ایک طرف عمران خان سیاست میں اور ملک چلانے میں مکمل ناکام رہا ہے تو دوسری طرف اس کے لیے ایک داد ضرور بنتی ہے کہ کس طرح وہ عدم اعتماد کو امریکی سازش سے جوڑ کر اپنی شکست کو سیاسی شہادت اور فتح میں بدل رہا ہے۔ امریکہ کو اپنا دشمن ثابت کرکے خود کو بھٹو ثانی ثابت کرنے کی سعی کررہا ہے، مگر وہ بھول رہا ہے کہ عمران خان ایک ملکی لیول کی چھوٹی سی کٹھ پتلی ہے جبکہ بھٹو عالمی سیاست کا کردار بن کر ابھرا تھا، اس طرح بھٹو کی سزا بھی بڑی تھی، عمران خان کے لیے تو فقط عدم اعتماد ہی کافی لگ رہی ہے، اور سفارت کاری میں جس طرح کی اوچھی حرکتیں عمران خان نے کی ہیں شاید وہ ملک کے لیے سیکورٹی رسک بن چکے ہیں، جس پر آئندہ نہ گھر والے اعتبار کرنے پر راضی ہوں اور نہ شاید عالمی سازشیں کرنے والے راضی ہوں،
عمران خان کا
ذہنی تجزیہ!
اگر عمران خان کی باتوں اور کارکردگی کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے عمران خان اپنی ذاتی زندگی کی کامیابیوں کے بل بوتے پر کوئی خیالی جنت بنا کر بیٹھے ہیں، جہاں پر امریکی صدر بائیڈن بھی ان کے تابع ہو گا، مودی کی حیثیت ان کے آگے ایک چائے والے کے جیسی ہو گی، پیوٹن جنگ کے لیے مشورے عمران خان سے مانگے گا کہ کب پرانی گیند ریورس سوئنگ ہونا شروع ہو گی اور امریکہ کی وکٹیں گرنا شروع ہوں گی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ صرف اس لیے ان کو وزیراعظم بنا کر رکھے گی کہ وہ عالمی برانڈ ہیں اور پوری دنیا پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر خود پسندی کی اس دلدل میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سب صلاحیتیں پیٹ کی بھوک کے آگے ماند پڑ جاتی ہیں، اگر ملک میں مہنگائی ہو گی عوام بھوک سے بلک رہی ہو گی تو اسٹیبلشمنٹ بھی بھوکے پیٹ کے لوگوں سے دیانت کے دیوتا کو سجدے نہیں کروا سکے گی۔









کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں