ملا یا ٹیچر
پاکستانی شاید دنیا کی مظلوم ترین قوم ہے جس کا نہ دین اپنی زبان میں ہے اور نہ تعلیم اپنی زبان میں ہے. ملا عربی کے زیر زبر سے ڈراتا رہتا ہے تو پروفیسر شیکپیئر کا رعب جھاڑتا رہتا ہے انگلش بولنا فخر سمجھا جاتا ہے جبکہ انگلش نہ آنا جہالت سمجھا جاتا ہے.
کلچر انڈین
مذہب عربی
تعلیم انگریزی
ہم پاکستانی دراصل تین تہذیبوں کا مکس اچار ہیں
کیا برٹش انڈیا نے مسلمانوں کو تعلیم سے دور کیا؟
برصغیر میں 1835 میں جب لارڈ میکالے انگریزی تعلیمی نظام لے کر آیا تو ملا نے اسے ریجیکٹ کردیا اور اینٹی مسلم قرار دے کر اس نئے تعلیمی نظام سے اپنی راہیں جدا کرلیں تب سے اب تک یہ جدائی چل رہی ہے مسلم سوچ کی سمت ماضی کی طرف موڑ دی اور اعتقاد کے اندھے کنویں میں قید کردیا اس نئی تعلیم کو محض ترقی کا حصول قرار دیا جبکہ مذہبی طریقہ تعلیم کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی قرار دیا
تعلیمی لحاظ سے مسلمانوں میں اس پر دو طرح کا رد عمل سامنے آیا۔ ایک گروہ نے یہ سوچا کہ اگر مسلمانوں نے انگریزی نہ سیکھی اور جدید مغربی علوم سے استفادہ نہ کیا تو وہ ترقی کی دوڑ میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
اور دوسرے گروہ نے سوچا کہ اگر مذہبی تعلیم باقی نہ رہی تو مساجد ومدارس ویران ہوجائیں گے اور مسلمانوں میں نکاح اور جنازے پڑھانے والے لوگ بھی بھی نہ ملیں گے اور یوں معاشرے سے اسلام کا نام ہی مٹ جائے گا۔
ان خدشات کے پیش نظر اوّل الذکر گروہ میں سے سر سید احمد خاں اور ان کے ساتھیوں نے۱۸۷۵ء میں علی گڑھ سکول وکالج قائم کیا جو ترقی کرکے یونیورسٹی بن گیا
اور مولانا قاسم نانوتوی اور دیگر علماء کرام نے ۱۸۶۶ء میں دیوبند قائم کیا۔ دیوبند ایسی محدود مذہبی تعلیم کا جس میں دنیوی علوم سے اعتناء نہ کیا جاتا تھا۔
پھر بتدریج ان دونوں کی طرز کے بہت سے تعلیمی ادارے ملک کے طول وعرض میں قائم ہوگئے۔ تاہم ان دونوں تعلیمی دھاروں کے منتظمین کو اپنی فراہم کردہ تعلیم کے یک رخے پن کا احساس تھا چنانچہ علی گڑھ اور دیوبند نے قریب آنے اور باہم استفادے کی کوشش کی لیکن حالات کے جبرنے اسے کامیاب نہ ہونے دیا۔
یہاں اس جبر کی کچھ تفصیل دینا بے محل نہ ہوگامثلاً مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نےدیوبند میں رائج درس نظامی کو مختصر کرنے کا فیصلہ کیا اور اور مدت تدریس دس کی بجائے چھ سال کردی تاکہ طلبہ درسگاہ سے جلد فارغ ہوکر جدید تعلیم بھی حاصل کریں۔ مولانا کے الفاظ یہ تھے :
’’اس کے بعد (یعنی مدرسہ میں دینی تعلیم کے بعد) اگر مدرسہ ہذا کے طلباء سرکاری مدارس میں جاکر علوم جدیدہ حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ موثر ثابت ہوگی ۔‘‘
اور مولانا گنگوہ نے اس موقع پر کہا تھا :
’’اس منطق وفلسفہ سے تو انگریزی بہتر ہے کہ اس سے دنیا کی بہتری کی اُمید تو ہے ۔‘‘
لیکن روایتی علماء کے احتجاج پر انہیں پرانا نظام بحال کرنا پڑا۔
مولانا عبیداللہ سندھی (م ۱۹۴۵ء) نے تو دہلی میں باقاعدہ ایک ادارہ ’نظارۃ المعارف‘ کی بنیاد رکھی تاکہ دیوبند اور علی گڑھ کے تعلیمی اوصاف کو یکجا کیا جاسکے۔
اسی طرح خود دارالعلوم نے ۱۹۲۸ء میں اعلان کیا کہ فلسفہ کی جدید کتابوں کو داخل درس کیا جائے گا لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا،
مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۳ء میں سلہٹ(مشرقی بنگال) میں قدیم وجدید کا ایک عمدہ نصاب ترتیب دیا تھا لیکن جب وہ دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس بن گئے تو دارالعلوم کے نصاب میں کوئی تبدیلی نہ لاسکے۔
اسی طرح آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد (وزیر تعلیم بھارت) نے درس نظامی کی اصلاح اور اس پر نظرثانی و اضافہ علوم جدیدہ کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جس میں مولاناحسین احمد مدنی، مولانا سید سلیمان ندویاور مولانا حفظ الرحمن سیوھاروی بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے جدید نصاب تیار بھی کرلیا لیکن بوجوہ اس کا نفاذ عمل میں نہ آیا۔
بعد میں مذہبی تعلیم کی اصلاح کے لیے ندوۃ العلماءلکھنؤ اور جدید تعلیم کی اصلاح کے لیے جامعہ ملیہ قائم ہوئی۔ لیکن عمومی اورمذہبی تعلیم کے ان الگ الگ دھاروں کا رنگ پھیکا نہ پڑا
الگ ریاست پاکستان میں تعلیمی خواب پورا کیون نہ ہو سکا؟
مسلمانوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندووں سے الگ ریاست پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنے عقیدے اور تہذیب کے مطابق اسے اسلامی طرز زندگی کا گہوارہ بنا سکیں۔ جس میں پاکستانی ریاست کو پورے معاشرے کی اور خصوصاً نظام تعلیم کی اسلامی تقاضوں کے مطابق تشکیل نو کرنی چاہیے تھی اور مذہبی تعلیم دینے والے مدارس کو بھی اپنا ڈھب بدلنا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ نتیجتا مدارس نے بھی اسی محدود مذہبی تعلیم کو جاری رکھا جو وہ قیام پاکستان سے قبل سے دیتے چلےآرہے تھے، جو وقت گزرنے کیساتھ کبھی حکومت کی عدم توجہ اور کبھی حکومتی سرپرستی میں مزید مستحکم ہوتا چلا گیا۔ ضیاالحق نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی خاطر مذہب اور مدارس کا خوب استعمال کیا،
پاکستان جب وجود میں آیا تو مغربی حصے میں،جو کہ آج کا پاکستان ہے، ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کے لیے کم و بیش 4 ہزار پرائمری سکول، ایک ہزار سیکنڈری سکول، تقریباً 30 کالج اور ایک یونیورسٹی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 250 دینی مدارس تھے۔ پچھلے پچھتر سالوں کے دوران ان اداروں کی تعدادبڑھتے بڑھتے بالترتیب تقریباً ڈیڑھ لاکھ، پچاس ہزار، ساڑھے چھ ہزار اور سوا دو سو ہو چکی ہے۔ جبکہ دینی مدارس کی موجودہ تعداد کا تخمینہ 35 ہزار لگایاجاتا ہے۔
مذہب اور ریاست!
آزادی کے وقت پاکستان میں دینی مدارس کے علاوہ تمام سکولوں کا نصاب انگریزوں کا متعین کردہ نو آبادیاتی دور کانصاب تھا، جوآزادی کے بعد دس پندرہ سال تک معمولی ردوبدل کے ساتھ نافذ رہا۔ اس نصاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا، جیسا کہ ابھی تک مغربی ممالک میں ہے، کہ کسی مذہب کی تعلیم سکولوں کے نصاب میں شامل نہیں تھی، کیونکہ اس سے دینی اختلافات کےنا پختہ ذہنوں میں داخل ہونے اور راسخ ہوجانے کا اور اس سے معاشرے میں مذہبی تنگ نظری اور انتہا پسند رویّوں کے پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کی وہ نسل جس نے ملک کے ابتدائی سالوں میں اپنی تعلیم شروع کی اس کے گواہ ہیں کہ دینیات ان کے نصاب میں نہیں ہوتی تھی اور وہ دین کی تعلیم علحٰدہ سے گھروں میں یا مسجدوں میں حاصل کرتے تھے۔سنہ 1979 کی تعلیمی پالیسی کے بعد، جب جنرل ضیاءالحق کی آمریت میں تعلیم کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے کام کا بیڑا اٹھایا گیا۔ جماعت اول سے لے کر یونیورسٹی کے اعلیٰ درجات تک کی درسی کتب ان کےزیرِمشق آئیں۔ اس سلسلے میں ہر مضمون کی الگ الگ کہانی ہے، جس پر متعدد افراد نے تحقیق کی ہے4۔ دینی اسباق کو بڑی تعداد میں اردو، انگریزی اور معاشرتی علوم کی درسی کتب میں شامل کیا گیا تاکہ طالب علم ہر بات کو دین کے تناظر میں دیکھنے اور سوچنے کا عادی ہو جائے۔ معاشرتی علوم میں جہاں جہاں ضرورت پڑی تاریخ کو مسخ کیا گیا۔ جنگوں اور افواج کو نمایاں کر کے پیش کیا گیا۔ خاص طور پر جہاد کی ترغیب دی گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ کام نہیں ہو سکتا تھا اگر مختلف افراد کی لکھی ہوئی متعدددرسی کتب کی اجازت ہوتی۔
مسلمان اور جدید تعلیم!
مسلم دنیا 57ممالک پر مشتمل ہے ایک ارب 60 کروڑ مسلم آبادی نے اب تک صرف تین نوبل پرائز جیتنے والی شخصیات پیدا کی ہیں
دنیا کے بہترین پچاس یونیورسٹیوں میں ایک بھی مسلم ملک کی یونیورسٹی نہیں ہے
پاکستان کی بہترین یونیورسٹی نسٹ اسلام آباد 355 نمبر پر ہے
سائنس و ٹیکنالوجی کے موقر جریدے “نیچر “(Nature)میں چھپنے والے 100تحقیقی مقالوں میں سے ایک بھی اسلامی دنیا سے نہیں ہے
پاکستان کا تعلیمی نظام!
پاکستان میں اس وقت چار طرح کا نظام تعلیم چل رہا ہے۔
اول سرکاری نظام تعلیم:
یہ غریب غربا کا تعلیمی نظام ہے۔ اور جن کے مستقبل کا تعلیم سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان کو اپنے والدین کی زندگیوں میں تعلیم کا کچھ خاص عمل دخل نظر نہیں آتا اسی لیے یہ بچے بھی تعلیم سے متنفر ہیں تعلیم ان کو لیے کوئی ثانوی سی غیر ضروری چیز ہے لگتی ہے جو حاصل کر لو تو اچھی بات نہ کرو تو بھی ان کی زندگیوں میں کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ان میں سے اکثریت کا واسطہ جب غیرملکی غیر فطری غیر مادری زبان سے پڑتا ہے تو ان کو سکول بوجھ لگنے لگتا ہے۔ ان کو باہر کی دنیا بھلی معلوم ہوتی ہے جہاں وہ اپنی زبان میں اظہار خیال کر سکتے ہیں ان میں سے اکثریت خود کو سکول سے کالج کے ماحول میں ایڈجسٹ کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔اور پھر یہ ہماری بے ترتیب معیشت اور بے ہنگم معاشرتی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور ان میں سے جو کچھ انگلش پاس کر پاتے ہیں وہ بھی بے ہنر کی ڈگریاں اٹھائے بے روزگار گھومتے رہتے ہیں اور تعلیم نہ حاصل کرنے والوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔
دوسرا متوسط طبقہ کا انگلش میڈیم تعلیمی نظام
یہ وہ طبقہ ہے جن کا کاروبار زندگی تعلیم سے جڑا ہوا ہے۔ان کی متوسط آمدنی کسی نہ کسی طور تعلیم پر منحصر ہے۔ ان کے بچے ایک آفیشل لائف کا مشاہدہ کرتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ اس نظام سے جڑنے کے لیے انھیں بھی مناسب تعلیم حاصل کرنی ہو گی۔ ان کے والدین بھی تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں یہ طبقہ ہمارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن اس کی ساری تگ و دو اس تک ہی محدود ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنے بل بوتے آگے بڑھتا ہے لیکن ریوارڈ میں ریاست اسے اپنے سسٹم میں ماسوائے پرزے کہ، کچھ حصہ نہیں دیتی، نتیجتا جس مڈل کلاس نے آگے بڑھ کر ملکی ترقی کو پہیہ لگانا تھا، اسے ایک خاص حد سے آگے نہیں جانے دیا جاتا، اسے اشرافیہ کے گھٹنوں تک پہنچتے ہی دوبارہ پاوں میں گرا دیا جاتا ہے، سسٹم کو ڈیویلپ ہی نہیں ہونے دیا جاتا کہ جس میں مڈل کلاس کھل کر پنپ سکے۔ اس طرح اشرافیہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنے میں لگاتار کامیاب رہی ہے۔
تیسرا اشرافیہ کا نظام
اگر آپ پاکستان کی بیوروکریسی یا پارلیمنٹ یا کابینہ کو دیکھ لیں تو اس میں اکثریت چند چنیدہ سکولوں (ایچی سن یا کراچی گرامر سکول وغیرہ) سے تعلیم یافتہ ہو گی، اور ان سکولوں میں صرف اشرافیہ کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے، اور یہ چند سکول ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ غریبوں کو کتنی تعلیم دینی ہے، اور کس قدر جاہل مزید جاہل رکھنا ہے۔
اور چوتھا مذہبی نظام
دین کہاں سے شروع ہوا اور کیسے ہم تک پہنچا اس میں ملا کا کیا اور کتنا کردار
رہا ہے۔
دین کی ابتدا قرآن سے ہوتی ہے قرآن کی ابتدا وحی سے ہوتی ہے اور پھر وحی کو لکھ کر محفوظ کرنے اور لوگوں تک پہنچا دینے سے اس کی تکمیل ہوتی ہے۔
سب سے پہلے ہم کو وحی کی اہمیت اور وحی کے نزول کے طریقہ کار سے متعلق سمجھنا چائیے۔ قرآن میں ذکر ہے "اس کے کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بربھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے 42:51
جب کوئی وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی موجودگی میں کاتبین وحی میں سے کسی کو لکھواتے اور دوبارہ سن کر تصدیق کرتے اور اس کے اس کو اپنے گھر میں محفوظ کروا دیتے. اس طریقہ کار میں بڑے راز کی بات یہ ہے کہ قرآن کا نزول تدوین اور حفاظت ﷲ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین تھی. اس معاملے میں کسی تیسرے سورس کی اہمیت کچھ زیادہ نظر نہیں آ رہی۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےقرآن محفوظ کرنے کے سلسلے میں کسی دوسرے ذریعے پربالکل بھی اعتماد نہیں کیا اور اس کو خود تکمیل تک پہچایا اور نتائج آپکے سامنے ہیں قرآن پر سب متفق ہیں جبکہ کاتبین وحی کی تعداد تک پر آج سب متفق نہیں ہیں۔ پس ثابت ہوا جہاں پر ملا کا کردار تھا وہاں غلطی ہوتی چلی گئی۔ اس کے متعلق ایک حدیث بھی ہے ”میری امت میں بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کازمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں پھر ان کا زمانہ جوان کے بعد ہیں ان کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی کوئی نہیں چاہے گا لیکن وہ خواہ مخواہ گواہی دیں گے ۔خیانت کریں گے، لوگ ان پر اعتماد نہیں کریں گے۔ نذر مانیں گے، لیکن پوری نہیں کریں گے ،اور خوب موٹیں ہوں گے۔ بخاری شریف
-------------------------
ایک نکتہ اعتراض کہ دنیاوی تعلیم سے کس نے روکا ہے؟
آزادی کے وقت 1947 میں پاکستان کی حدود میں دینی مدارس کی تعداد 150 سے زائد نہیں تھی۔مگر پھر مختلف مکتبہ فکر کے گروہوں میں زیادہ سے زیادہ مدارس بنانے کی دوڑ شروع ہوگئ.
پاکستان میں اس وقت وفاق المدارس العربیہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر کے 21 ہزار 565 مدارس تنظیم کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جہاں ساڑھے 28 لاکھ سے زائد طلبہ حفظ قرآن سے لے کر عربی ادب میں مہارت اور اسلامی فقہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جب کہ اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ 59 ہزار سے زائد ہے۔وفاق المدارس العربیہ 1959 میں تشکیل دیا گیا جو ایک تعلیمی بورڈ کی طرح کام کرتا ہے جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں مدارس کی رجسٹریشن، نصاب سازی اور تعلیمی نگرانی کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے امتحانات کا انعقاد اور اسناد جاری کرنا شامل ہے۔اس تنظیم نے دیو بند فکر کے تعلیمی اداروں اور علمائے کرام کو آپس کے سیاسی اختلافات کے باجود متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور مسلک سے تعلق رکھنے والے مذہبی، فرقہ وارانہ اور جہادی تنظیموں کے لیے ایک پاور بیس بھی مہیا کیا ہے.
تنظیم المدارس اہلسنت سے وابستہ 9616 مدارس میں 13 لاکھ طلبہ، وفاق المدارس السلفیہ سے وابستہ 1400 مدارس میں 40 ہزار طلبہ اور وفاق المداراس الشیعہ سے وابستہ 550 مدراس میں 19 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جب کہ 1300 مدراس تنظیم رابطہ المدارس سے وابستہ ہیں۔
وفاق المدارس (دیوبندی مکتبہ فکر) سے 19000 مدارس کا الحاق ہے
تنظیم المدارس (بریلوی مکتبہ فکر) کے 9000 کے قریب مدارس ہیں
رابطہ المدارس (جماعت اسلامی) کے 1000 قریب مدارس ہیں
المدارس السلافیہ اہل حدیث مکتبہ فکر کے تحت 1400 مدارس چلائے جا رہے ہیں
اہل تشیع مکتبہ فکر کے پاکستان میں کل 460 مدارس ہیں
لال مسجد سے تعلق رکھنے والی جامعہ حفصہ سے ملحق 16مدارس ہیں

بھٹو کی نیشنلائزیشن کے اثرات!
بھٹو دور میں جہاں ملک کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں کو قومی تحویل لے لیا گیا وہیں مذہبی مدارس کو اس سے استثناء دے دیا گیا، نیز ایچیسن اور گرائمر جیسے کئی شاہانہ سکولوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔
جنرل ضیا کے مذہبی کارڈ کے اثرات!
پھر ضیاء الحق کا دور تو مدارس کے لیے سنہرا دور ہی کہا جاسکتا ہے ان مدارس کو افغانستان جہاد اور ملک کے اندر اسلامائزیشن کے لیے بے دردی سے استعمال کیا گیا اور ان کے لیے بے پناہ غیر ملکی فنڈنگ بھی کی گئی ۔ مدارس نے بچوں کو مفت کھانا اور رہائش بھی دینی شروع کردی، جس سے غریب، جن کے چھ چھ بچے تھے انھوں نے دھڑا دھڑ بچے مدارس بھیجنے شروع کردیئے جہاں، دینی تعلیم بھی تھی اور ساتھ گھر کا خرچہ بھی بچ رہا تھا،
غربت اور جہالت کا چولی دامن کا ساتھ ہے!
عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تہا ئی سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ غذا انسان کی اہم ضرورت ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کا سب سے اہم مسئلہ روٹی ہے۔ تعلیم ان کے فوری مسئلے کا حل نہیں ہے، لہذا یہ طبقہ نہ تو تعلیم کو کوئی اہمیت دیتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے پر رضامند ہوتا ہے۔ اب اس طبقے کے سامنے دو ہی آپشن ہوتے ہیں، اول بچہ مدرسے بھیج دو جس سے روٹی پانی کی ضرورت سے بھی چھٹکارا مل جائے گا، یا پھر بچے کو کسی کام کو سیکھنے میں ڈال دو، جہاں کام بھی سیکھے گا اور شام کو کچھ روپے بھی لائے گا، یہی وجہ ہے پاکستان میں سکول سے ڈراپ آوٹ کی شرح بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر پرائمری اور سیکنڈری سطح پر۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2021-22 کے مطابق،
گریڈ 1 میں داخلہ لینے والے صرف 54فیصد طلباء گریڈ 5 تک پہنچتے ہیں،
اور صرف 22فیصد گریڈ 10 تک پہنچتے ہیں۔
جدید تعلیم کے تقاضوں کو دیکھیں تو پوری دُنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں 70سے 80کروڑ مسلمان ناخواندہ ہیں۔انٹرنیشنل اسلامک نیوز ایجینسی کے ایک سروے کے مطابق، 40فی صد مسلمان لکھنا پڑھنا نہیں جانتے، جب کہ ان میں 60سے 65 فی صد مسلمان خواتین شامل ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ اسلامی ممالک کا نظامِ تعلیم بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے اور اسے کس طرح بہتر کیا جا سکتا ہے؟
اسلامی دُنیا کو اپنے نصابِ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھی ضرورت ہے، کیوں کہ اگر بہ نظرِ غائرجائزہ لیا جائے، تو اسلامی ممالک کا نصابِ تعلیم مجموعی طور پر جمود کا شکار نظر آتا ہے۔آج مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت پیچھے نظر آتے ہیں، جب کہ اُن کا ماضی اُن کے حال کے برعکس تھا۔ اس ضمن میں جابر بن حیّان، ابن الہیثم اور ابنِ سینا وغیرہ جیسے سائنس دانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
سکھانے کی بجائے رٹا کلچر!
دینی مدارس بھی پاکستان کے نظام تعلیم کی طرح رٹا لگانے کی فیکٹریاں ہیں، جہاں بچوں کو علوم کا بس من و عن رٹا لگایا جاتا ہے۔ جبکہ جدید ترقی یافتہ ممالک میں تو سکول میں کتاب ہی نہیں ہوتی۔ فِن لینڈ میں کتاب کے ذریعے تعلیم و تربیت کا رواج ہی نہیں ہے۔قرآنِ پاک کی ’’سورۃ القمر‘‘ میں اہلِ ایمان کو غور و فکر کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن اس کے برعکس آج ہم ہر سطح پر فکری جمود کا شکار نظر آتے ہیں۔
تعلیمی بجٹ!
سال 2021۔ 22 میں مملکت خداداد میں تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کا 1.5 % تھا، پچھلے نصف صدی کے سالانہ بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بجٹ 1.5 % سے لے کر 3 % تک ہی محدود رہا ہے اور 3 % بھی صرف تین مرتبہ یعنی 1987، 1998 اور 2015 میں ہی رہا۔ اس کے مقابلے میں اگر دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی بجٹ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2021 میں ناروے 6.4 % کے ساتھ سرفہرست جب کہ نیوزی لینڈ 6.3 %، یو کے 6.2 %اور امریکہ نے 6.1 %اپنے کل بجٹ میں سے تعلیم کے لیے مختص اور خرچ کیا۔ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی تعلیمی بجٹ 3.1 %ہے۔ رواں مالی سال کی مجموعی قومی آمدن کا ایک اعشاریہ 91 فی صد مختص کیا گیا ہے جو لگ بھگ دو ہزار 32 ارب روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ یہ رقم ٹھیک طور پر خرچ نہیں کی جاتی اور اس میں بیشتر رقم تنخواہوں کی ادائیگی میں خرچ ہوتی ہے جب کہ تعلیم کے لیے انفراسٹرکچر کی فراہمی، تحقیق اور تعلیمی معیار کو بڑھانے پر بہت کم رقم بچ پاتی ہے۔بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر ملک کو اپنے جی ڈی پی (مجموعی قومی آمدن) کا چار فی صد تعلیم پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو رواں سال چار ہزار 242 ارب روپے تعلیم پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کی منتقل کردی گئی ہے لیکن صوبے تاحال اس شعبے میں بہتری دیکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس 23-2020 میں ضلعی سطح کی تعلیمی کارکردگی کی پیمائش کی گئی ہے۔ پنجاب 100 میں سے 61 نمبر حاصل کرکے سرفہرست کارکردگی دکھانے والے صوبے کے طور پر ابھرا ہے۔
تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی!
سال 2021۔ 22 میں مملکت خداداد میں تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کا 1.5 % تھا، پچھلے نصف صدی کے سالانہ بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بجٹ 1.5 % سے لے کر 3 % تک ہی محدود رہا ہے اور 3 % بھی صرف تین مرتبہ یعنی 1987، 1998 اور 2015 میں ہی رہا۔ اس کے مقابلے میں اگر دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی بجٹ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2021 میں ناروے 6.4 % کے ساتھ سرفہرست جب کہ نیوزی لینڈ 6.3 %، یو کے 6.2 %اور امریکہ نے 6.1 %اپنے کل بجٹ میں سے تعلیم کے لیے مختص اور خرچ کیا۔ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی تعلیمی بجٹ 3.1 %ہے۔ رواں مالی سال کی مجموعی قومی آمدن کا ایک اعشاریہ 91 فی صد مختص کیا گیا ہے جو لگ بھگ دو ہزار 32 ارب روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ یہ رقم ٹھیک طور پر خرچ نہیں کی جاتی اور اس میں بیشتر رقم تنخواہوں کی ادائیگی میں خرچ ہوتی ہے جب کہ تعلیم کے لیے انفراسٹرکچر کی فراہمی، تحقیق اور تعلیمی معیار کو بڑھانے پر بہت کم رقم بچ پاتی ہے۔بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر ملک کو اپنے جی ڈی پی (مجموعی قومی آمدن) کا چار فی صد تعلیم پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو رواں سال چار ہزار 242 ارب روپے تعلیم پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کی منتقل کردی گئی ہے لیکن صوبے تاحال اس شعبے میں بہتری دیکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس 23-2020 میں ضلعی سطح کی تعلیمی کارکردگی کی پیمائش کی گئی ہے۔ پنجاب 100 میں سے 61 نمبر حاصل کرکے سرفہرست کارکردگی دکھانے والے صوبے کے طور پر ابھرا ہے۔
اس فہرست میں خیبر پختنوخوا 55 نمبر حاصل کرکے دوسرے نمبر پر ہے۔
سندھ 51 نمبر جب کہ بلوچستان 100 میں سے 46 نمبر حاصل کرکے بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر رہے ہیں۔
رپورٹ کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی بھی صوبہ اعلیٰ یا بہت اعلیٰ کارکردگی دکھانے کے زمرے میں نہیں آسکا۔
کونسا ضلع کس نمبر پر رہا؟
ملک کے 134 اضلاع کی رینکنگ میں پہلے 10 نمبروں میں شمار ہونے والے اضلاع میں اسلام آباد کے بعد پنجاب کے سات اور خیبر پختونخوا کے دو اضلاع شامل ہیں۔
سندھ اور بلوچستان کا کوئی ضلع پہلے 10 اضلاع میں جگہ نہیں بنا سکا۔
اسی طرح سب سے پست اسکور کے حامل 10 اضلاع میں بلوچستان کے چھ، سندھ اور خیبر پختونخوا کے دو دو اضلاع شامل کیے گئے ہیں۔
ملک کے 134 اضلاع میں سب سے بڑے شہر کراچی کا پہلا ضلع جو تعلیمی پرفارمنس میں آگے رہا وہ ضلع شرقی ہے جس نے 134 میں سے 14 واں نمبر حاصل کیا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رواں سال جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دو کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں سے سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں ہے جہاں ایک کروڑ 17 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچے اسکول جانے کی عمر میں پہنچنے کے باوجود کسی اسکول میں داخل نہیں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی سندھ میں تعداد 76 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 36 لاکھ، بلوچستان میں 31 لاکھ اور اسلام آباد میں 80 ہزار ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چلڈرن ایمرجنسی فنڈ کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی عالمی فہرست میں پاکستان سب سے اوپر ہے۔
تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی!
ایک رپورٹ کیمطابق ملک میں اس وقت 39 فی صد گھوسٹ ٹیچرز ہیں۔ یعنی وہ سرکار سے تنخواہ تو لے رہے ہیں۔ لیکن کسی سرکاری اسکول میں پڑھانے کے بجائے کوئی اور کام کر رہے ہیں۔جو سندھ اور بلوچستان میں بڑا مسئلہ ہے۔
تجزیہ: درج بالا حقائق کے پیش نظر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پاکستان میں دونوں طرز علم پاکستان کو کچھ نہیں دے سکے؟ دینی مدارس پاکستان کے معاشرے کو مثالی نہیں بنا سکے، مثالی تو دور کی بات، پاکستانیوں میں بنیادی اخلاقی رجحانات ہی موجود نہیں ہیں، مدارس بس اپنے فرقے کی تعلیم اور دوسرے فرقوں سے نفرت پیدا کرنے کی فیکٹریاں بن چکے ہیں، جب تک مدارس میں بچوں کو دینی اخلاقی تربیت کیساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم نہیں دی جاتی تب تک معاشرہ اخلاقی و معاشی طور پر جمود کا شکار ہی رہے گا،
دوسری جانب ریاست بھی تعلیمی میدان میں اپنی ذمہ داری نبھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، اور آج تک معاشرے کو بنیادی تعلیم دینے میں بھی ناکام رہی ہے، کجا بہتر نصاب اور پھر اعلی تعلیم.
حوالہ جات
حوالہ جات


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں