معدہ اور نظام انہضام کے مسائل
نظام انہضمام میں معدہ سے جڑی آنتوں کو دوسرا دماغ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آنتیں لاکھوں کروڑوں نیورون سے جڑی ہوتی ہیں اور مرکزی اعصابی نظام سے لنک ہوتی ہیں اسی بنا پر آنتیں دماغ سے پوچھے بنا اپنے فیصلے خود کر لیتی ہیں
بدہضمی؟
عمعما" خیال کیا جاتا ہے کہ ذہنی دباو یا بے چینی سے معدہ ڈسٹرب ہوجاتا ہے، لیکن نئی تحقیقات اس بیماڑٰ کا جینز کی طرف اشارہ کررہی ہیں، ہاں البتہ تحقیق میں یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ ایک جیسے جینز والے افراد میں جب معدے کی شکایت ہوئی تو ساتھ ہی ان کو سر درد کی شکایت بھی لاحق ہوگی۔ شاید اسی وجہ کی بدولت انسان معدے کی تکلیف کو ذہنی دباو یا پریشانی سے جوڑتا آیا ہے
تیزابیت کیا ہے؟
ہم جو کھانا کھاتے ہیں وہ غذائی نالی کے ذریعہ ہمارے پیٹ میں جاتا ہے۔ کھانے کو ہضم کرنے کے لیے معدے میں موجود گیسٹرک غدود تیزاب پیدا کرتے ہیں ، جو خوراک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں گھال دیتا ہے۔ وقت بے وقت یا ضرورت سے زیادہ کھانے سے معدہ زیادہ مقدار میں تیزاب بنانا شروع کردیتا ہے ۔ جب گیسٹرک غدود عمل انہضام کے عمل کے لئے ضرورت سے زیادہ تیزاب پیدا کرتے ہیں تو ، آپ کو چھاتی کے ہڈی کے نیچے ایک جلتی ہوا احساس محسوس ہوتا ہے۔ اس حالت کو عام طور پر تیزابیت کہا جاتا ہے۔
جب معدہ میں تیزاب کی سطح بڑھ جاتی ہے تو ، اس سے ہائپرسیڈیٹی ہوجاتی ہے۔ اکثر اوقات ، تیزاب معدہ سے خوراک نالی میں داخل ہو جاتا ہے ، جس سے دل کی جلن اور شدید تیزابیت کی شکایت ہونے لگتی ہے۔
کھانے کے بعد دل پر بوجھ بننے سے بچاو کے لیئے:
کھانا تھوڑا کھائیں اور وقفے وقفے سے کھائیں
سونے سے پہلے کھانے سے پرہیز کریں
الکحل ، اسپرین ، آئبوپروفین ، اور کیفین سے پرہیز کریں
تمباکو نوشی نہ کریں
بستر کو سرہانے کی طرف سے تھوڑا اونچا کرلیں (یا دو یا تین تکیے استعمال کریں) تاکہ معدہ کا تیزاب اوپر کی طرف خوراک کی نالی میں نہ آ سکے
سونے کی درست پوزیشن
کھڑے ہونے کی درست پوزیشن اختیار کریں
بیٹھنے کی درست پوزیشن اختیار کریں
یوگا کی ورزشوں سے تیزابیت کا تدارک:
یوگا ورزش معدہ اور آنتوں میں حرکت بڑھانے اور عمل انہضام کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
یوگا آنتوں کی حرکت کو تیز کرتا ہے اور گیس کو خارج کرتا ہے۔
یہ جسم اور نظام انہضام کے تناؤ کو کم کرتا ہے تناو تیزابیت کا سبب بنتا ہے۔
مستقل یوگا ورزش نظام ہاضمہ کو مضبوط بناتا ہے۔
پوناامکتاسنہ
یہ پیٹ سےہوا کو خارج کرنے کا پوز ہے۔ ہاضمہ اور گیس کی خراب پریشانیوں کا علاج کرنے میں یہ بہت فائدہ مند ہے۔ تیزابیت کے لیے تو یہ بہترین یوگا ہے۔
یہ ورزش قبض اور تیزاب کی بد ہضمی کے علاج کے لیے بہترین ہے۔
یہ پیٹ میں موجود تمام اعضاء کے لئے اچھی ہے۔
اس کی باقاعدہ مشق معدے کی بیماریوں کو ختم کرتی ہے۔
گیس کے مسائل ، گٹھیا میں درد ، تیزابیت ، کمر میں درد ، اور دل کی دشواریوں میں مبتلا لوگوں کے لئے یہ مددگار ہے۔
کمر کے پٹھوں کو مضبوط بنانے اور کمر کے درد کو ٹھیک کرنے کے لیے اچھی ہے۔
یہ ورزش تولیدی اعضاء اور حیض کی خرابی کے لیے بہت اچھی ہے۔
کپلبھٹی پرانایام
یہ آسن موٹاپا ، پیٹ کی خرابی ، ہاضمہ عارضہ اور پیٹ سے متعلق بہت ساری دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے اچھا ہے۔
پندرہ سے تیس منٹ تک پرسکون اس پوزیشن پر بیٹھے رہیں گہری سانس لیں جو پیٹ کے اند تک جائے
یہ سانس کے نظام خصوصا پھیپھڑوں کے افعال کو بہتر بنائے گا۔
اس سے عضو تناسل کے تناو کے مسائل کا حل ہوں گئے اور تولیدی نظام کے افعال میں بہتری آئے گی۔
یہ قدرتی طور پر ہارمون انسولین تیار کرنے میں مدد کرکے لبلبے کے کام کو بہتر بنائے گا۔
یہ اندرونی نظام کو صاف کرتا ہے اور جسم سے ٹاکسن نکال دیتا ہے۔
یہ آپ کے دماغ میں استحکام لاتا ہے اور آپ کو پرسکون کرتا ہے۔
یہ وزن کم کرنے کے لئے موثر ہے۔
ہل سانہ
اس یوگا مشق کو ہل سانہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پوز کی شکل ہل کے جیسی بنتی ہے سنسکرت میں "ہالہ" کا مطلب "ہل" اور "آسن" کے معنی "پوز" ہیں۔
کچھ دیر اس پوزیشن میں رہیں اور ہلکے ہلکے سانس لیں یہ مشق دو سے تین دفعہ دہرایں
یہ آسن عمل انہضام کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
یہ وزن کم کرنے کے لئے بہت موثر ہے۔
یہ پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط کرنے کے لیے بہت اچھا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔
یہ ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط بنانے اور مزید لچکدار بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔
عشتراسنا
اونٹ کے پوز سے مشابہت کی وجہ سے اس کو عشتراسنا کہتے ہیں کیونکہ "عشرہ" کا مطلب ہے "اونٹ"۔ یہ کمر کی تکالیف ، خون کی گردش اور اعصابی نظام کے بہت اچھا ہے۔
اس سے پھیپھڑوں اور سینے کے سائز کی گنجائش بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔
پیٹ ، سینہ اور گردن زیادہ لچکدار محسوس ہوں گئے۔
اس سے پیٹ کے اعضاء کو تحریک دینے میں مدد ملے گی۔
دمہ کے مریضوں کے لیے یہ بہت فائدہ مند ہے کیونکہ یہ تنفس کے نظام کی افادیت کو بہتر بناتا ہے۔
اس سے گردن ، کندھوں اور کمر کے مسائل ٹھیک ہوں گے۔
تھائرائڈ غدود کے افعال کو تحریک ملتی ہے۔
دماغ میں خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے۔
معدے کی پریشانی اور سر درد
کچھ تحقیقات کیمطابق معدے کی بیماریوں کا سر درد سے تعلق ہو سکتا ہے
ہل کی شکل والی ورزش
یہ ورزش گردن، کندھے اور کمر کو کھولتی ہے. پیٹ پر دباو ڈالنے سے نظام ہضم کے اعضاء کا مساج ہوتا ہے اور ان میں کچھاو سے لچک بھی پیدا ہوتی ہے جس سے ان میں موجود زہریلے مواد وغیرہ بھی نکل جاتے ہیں.
تیزابیت کو کم کرنے میں معاون غذائیں
ناریل کا پانی آپ کے پیٹ اور نظام انہضام کو آرام بخشتا ہے۔ دن میں کم سے کم دو گلاس لیں۔
سیب اور کیلا تیزابیت کے آگے دیوار کی طرح کام کرتا ہے۔اس کے علاوہ تازہ پھل تیزابیت کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں
چاول تیزابیت کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں
تربوز کا جوس: تیزابیت کا مقابلہ کرتاہے۔ روزانہ ناشتہ کے ساتھ ایک گلاس تربوز کا جوس لے سکتے ہیں۔
مسالہ دار کھانے کے بعد ایک گلاس چھاچھ تیزابیت کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے کیونکہ چھاچھ لییکٹک ایسڈ پر مشتمل ہوتا ہے
جو پیٹ میں تیزابیت کو معمول پر لاتا ہے
آلو تیزابیت کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں مگر آلو ابلے ہوں فرائی نہ ہوں
تلسی کے پتوں کو پانی میں ابال کر پینے سے تیزاب کم ہوتا ہے۔تلسی کیساتھ پودینے کے پتے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
ہر کھانے کے بعد ان دونوں کا ہلکا گرم ایک گلاس پانی پئیں
اپنی غذا میں کیلے ، ککڑی اور دہی شامل کریں۔ یہ تیزابیت سے فوری نجات دیتے ہیں۔
تیزابیت کے دوران لونگ کے ٹکڑے چوسنے سے تیزابیت میں افاقہ ہوتا ہے۔
ادرک ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔ اپنے کھانے میں ادرک کا استعمال کریں یا اسے ایک گلاس پانی میں ابالیں جب پانی آدھا گلاس تک رہ جائے تو اسے پی لیں۔روزانہ ایک کپ پانی میں ادرک کا ٹکڑا ڈال کر ابالنے کے بعد اس میں لیمو کے چند قطرے اور شہد ملا کر پینے سے معدے کی تیزابیت، بد ہضمی اور سینے میں جلن بھی ٹھیک ہوجاتی ہے۔
ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ جتنا زیرہ ملا کر ابالتے جائیں جب تک پانی آدھا نہ ہو جائے جو پانی بچ جائے اسے خالی پیٹ پی لیں تیزابیت میں کمی ہو گی
روزانہ ایک گلاس دودھ کا پئیں یہ تیزابیت کم کرتا ہے
چیونگم تھوک پیدا کرتا ہے جو کھانے کو آنتوں میں منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے۔
ایک چمچ سیب سائڈر سرکہ ایک گلاس پانی کے ساتھ ہر صبح خالی پیٹ پر لیں۔
ہر دن کم از کم دو لیٹر پانی پئیں۔
کھانے کے درمیان زیادہ طویل وقفہ نہ کریں کم کھایں مگر تھوڑے تھوڑے وقفے سے کھاتے رہیں
تیزابیت اور معدہ کے لیے نقصان دہ کھانے اور عادات
سگریٹ نوشی اور الکوحل شراب تیزابیت میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں
سونے سے کم از کم دو گھنٹے قبل کھانا کھایں
کچے پیاز کھانے سے پرہیز کریں یہ تیزاب کو متحرک کرتا ہے
کیفین اور کاربونیٹیڈ مشروبات سے پرہیز کریں
چائے اور کافی سے پرہیز کریں
اومیپرازول معدے کو زیادہ تیزاب بنانے سے روکتی ہے۔ یہ ان مریضوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو ریفلکس، حلق کی سوزش یا معدے میں خون کے بہنے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کو اینٹی باوٹک کے ساتھ السر کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اومیپرازول گولی، کیپسول اور مائع کی شکل میں آتی ہے۔
https://youtu.be/9KsCvONfwS8










کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں