Translate

جمعرات، 27 فروری، 2020

کرونا وائرس کیا ہے؟

کرونا وائرس سے متعلق معلومات
وائرس کیا ہوتا ہے؟
وائرس خوردبینی جاندار ہوتے ہیں یہ بھی باقی جانداروں کی طرح کھاتے پیتے اور اپنی افزائش نسل بھی کرتے ہیں صرف ان کو رہنے کے لیے کسی دوسرے جاندار کا جسم درکار ہوتا ہے جہاں یہ اس کے اندر گھس کر چھپ جاتے ہیں اور اس جاندار کے اندر سے اپنی خوراک وغیرہ حاصل کرتے رہتے ہیں البتہ اس کے اس طریقہ کار سے بعض اوقات میزبان جاندار کو نقصان بھی ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کے پیش نظر میزبان جاندار کا مدافعتی نظام اس وائرس کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کو جسم سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے 
انسان عام طور پر پائے جانے والے وائرسز سے بخوبی نپٹ لیتا ہے لیکن بعض اوقات کچھ ایسے وائرسز جو کسی اور جاندار سے انسانوں میں منتقل ہو ان سے انسان کا مدافعتی نظام نپٹ نہیں سکتا کیونکہ دوسرے جانداروں کے مدافعتی نظام میں اور انسان کے مدافعتی نظام میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ چمگادڑ کا مدافعتی نظام سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور وہ طاقتور سے طاقتور جراثیموں کو بھی پنپنے نہیں دیتا اب اگر کوئی جراثیم چمگادڑ سے کسی دوسرے جاندار میں منتقل ہو گا تو وہ جاندار اس جراثیم سے نپٹ نہیں پائے گا اور جراثیم اس کے جسم میں تیزی سے اپنی افزائش نسل کرتا چلا جائیگا اور پھر دوسرے جانداروں میں پھیلتا چلا جائیگا اور کرونا وائرس سے متعلق بھی خیال یہی ہے کہ یہ بھی چمگادڑ سے کسی جانور میں منتقل ہوا اور پھر اس جاندار سے کسی انسان میں منتقل ہوا اور پھر پھیلتا چلا گیا  
بیکٹیریا سے مختلف ہوتا ہے اس پر اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر نہیں ہوتا
انسان پر جب وائرل اٹیک ہوتا ہے تو دوائیاں اس وائرس پر اثر نہیں کرتیں اور انسان اپنی قوت مدافعت کے ذریعے ہی ٹھیک ہوتا ہے

کرونا وائرس کیا ہے؟
کرونا وائرس کی دو سو کے قریب قسمیں ہیں جو مختلف جانداروں میں پائی جاتی ہیں اس وائرس کی شکل کراون (تاج) کے جیسی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کو کرونا کا نام دیا گیا ہے جو کہ دراصل اطالوی سے ماخوذ شدہ ہے کرونا وائرس سانس کی بیماریوں کے جراثیموں کے خاندان میں سے ایک وائرس  ہے۔ جو سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتا ہے اور نظام تنفس کو خراب کرتا ہے اور شدید نمونیا یا زکام موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس میں عام بخار سے لے کر شدید سردی جیسے اثرات ظاہر ہوتے ہیں کرونا وائرس سے متاثر کچھ افراد میں معدے اور انٹریوں کے مسائل متلی اور اسہال وغیرہ بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

کرونا وائرس کہاں سے آیا؟
گو ابھی تک کنفرم نہیں ہوا کہ کرونا وائرس کہاں سے انسانوں میں منتقل ہوا مگر خدشات ہیں کہ چمگادڑ کی بیٹھ سے یہ بیگنولین (سلہہ) میں منتقل ہوا پھر دوسرے جانوروں سے ہوتا ہوا کسی جانور سے انسان میں منتقل ہوگیا۔ اس سے قبل چھ قسم کے کرونا وائرس انسانوں کو متاثر کر چکے ہیں اس سے پہلے سارس وائرس 2003 جنگلی بلیوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا جس سے دس ہزار کے قریب لوگ مارے گئے تھے جبکہ مڈل ایسٹ میں م ای آر ایس  وائرس اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا جس سے سینکڑوں لوگ جان سے گئے تھے۔



سلہہ پینگولین کی چائنہ میں غیر قانونی سمگلنگ بھی ہورہی ہے جس کی وجہ سے یہ جانور پاکستان میں معدومیت کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں بیس ہزار میں ملنے والا سلہہ چائنہ میں پہنچ کردس لاکھ کا ہو جاتا ہے جہاں اس کے کھپرے الگ اور جلد الگ بکتی ہے چائنہ میں پینگولین سلہہ کی جلد کو دوائیاں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے

کرونا وائرس چائنہ میں  امریکہ نے پھیلایا؟
سازشی مفروضوں پر یقین رکھنے والے لوگ مصر ہیں کہ ہونہ ہو یہ وائرس چائنہ میں امریکہ نے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے پھیلایا ہے اس طرح کی خبریں سب سے پہلے روسی سوشل میڈیا پے نظر آئیں پھر چائنہ کی وزارت نے بھی بہت محتاط انداز میں بیان دیا کہ یہ وائرس چائنہ میں ٹریننگ پر آنے والے امریکی لے کر آئے مگر چائنہ اس بارے کسی قسم کے شواہد نہیں دے سکا البتہ جوابا" امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کو چائنی وائرس کہا اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس کو ووہان وائرس کہا۔ کچھ لوگ اس کو امریکن حیاتیاتی جنگ قرار دے رہے ہیں جس کے فی الوقت کوئی ثبوت نہیں ہیں یہ امریکہ کی پھیلائی حیاتیاتی جنگ ہے یا نہیں مگر ایک حیاتیاتی جنگ انسانیت کے لیے مکمل تباہ کن ثابت ہوگی اس لیے اس طرح کے مفروضات پر یقین نہ کرنا ہی انسانوں کے لیے بہتر رہے گا
دوسری طرف اس وائرس کے جینوم پر کی گئی سائنسدانوں کی اب تک کی تحقیق کیمطابق یہ وائرس کسی لیبارٹری میں نہیں بنایا گیا بلکہ یہ وائرس ازخود نیچرل ارتقا شدہ ہے اور اس کا جینیاتی پیٹرن بے ترتیب ہے جو پہلے سے موجود کسی وائرس سے نہیں ملتا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس وائرس کو کسی لیبارٹری میں مصنوعی طریقہ سے نہیں بنایا گیا
معاشی طور پر اگر چائنہ اس سے متاثر ہوتا ہے تو یورپ بھی اس سے یقینی طور پر متاثر ہو گا اور بالآخر جس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو گی۔ اس لیے اس وائرس کا شکار محض چین کو نہیں کہا جاسکتا    

کرونا وائرس کتنا خطرناک ہے؟
کرونا وائرس سے شرحِ موت محض دو سے تین فیصد ہے جبکہ موسمیاتی زکام سے شرحِ موت ایک فیصد ہے جس سے سالانہ چار لاکھ اموات ہوجاتی ہیں اور سارز وائرس دو ہزار تین کی شرح موت دس فیصد تھی.
کرونا وائرس سے اب تک چائنہ میں اٹھہتر ہزار مریض سامنے آچکے ہیں جن میں سے صرف دو ہزار سات سو کے لگ بھگ مریض موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ بارہ ہزار مریض صحتیاب ہوچکے اور باقیوں کا علاج چل رہا ہے.
کرونا وائرس کی خطرناک بات اس کا تیزی سے پھیلاو اور ویکسین کی تیاری میں تاخیر ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے ایک اندازے کیمطابق کرونا وائرس روزانہ کئی ہزار سے زیادہ افراد تک پھیل جاتا ہے آج ستائیس فروری تک کرونا وائرس پوری دنیا میں بیاسی ہزار افراد تک پہنچ چکا ہے جن میں سےتینتس ہزار افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ اٹھائیس سو افراد کو نہیں بچایا جا سکا  



کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے
کورونا وائرس ہوا اور اس سے آلودہ ہونے والی کسی شے کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک انسان سے دوسرے کو بھی منتقل ہوتا ہے۔ہوا میں یہ وائرس تین گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔ جب کہ کہ تانبے پر یہ 4 گھنٹے، گتے پر 24 گھنٹے اور پلاسٹک اور اسٹین لیس اسٹیل پر دو سے تین دن تک باقی رہتا ہے

کرونا وائرس کی علامات
کرونا وائرس کی علامات دو دن سے لے کر چودہ دنوں تک ظاہر ہو سکتی ہیں جبکہ کچھ کیسز میں پچیس دنوں تک بھی علامات ظاہر ہوئی ہیں اور کچھ بہت ہی کم کیسز میں یہ علامات بالکل آخری سٹیج میں ظاہر ہوئیں
کرونا وائرس میں شروع میں ہلکا بخار ہوتا ہے پھر خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر سانس لینے میں تکلیف ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ 



اس کی عام علامات میں:
ہلکا بخار
کھانسی
سانس لینے میں دشواری
نمونیا یا سردی لگنا
جبکہ زیادہ سنگین صورتحال میں ، انفیکشن نمونیہ ، شدید شدید سانس لینے کا سنڈروم ، گردے کی خرابی اور یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

کرونا وائرس سے بچاو کی احتیاطی تدابیر
وقتا" فوقتا" صابن وغیرہ سے ہاتھ دھوتے رہیں اس سے کرونا وائرس کے جراثیم مر جاتے ہیں
منہ اور ناک کو ڈھانپ کر رکھیں کھانستے وقت ٹشو پیپر وغیرہ استعمال کریں اور کھانسنے کے بعد ہاتھ اور منہ کو صابن سے دھو لیں
بلاوجہ اپنے ناک منہ یا آنکھوں کو چھونے سے پرہیز کریں اس سے ہاتھوں سے لگے وائرس جسم کے اندر داخل ہوسکتے ہیں
کھانستے یا بخار میں مبتلا لوگوں کے چھ فٹ سے زیادہ قریب نہ جایں۔
لوگوں سے گلے ملنے سے پرہیز کریں
جانوروں اور پرندوں کو چھونے سے پرہیز کریں
گوشت اور انڈے پکاتے وقت منہ اور ناک وغیرہ اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں
پبلک میں یا گھر سے باہر جاتے وقت چہرے پر ماسک کا استعمال کریں گو شروع دن سے یہ بحث چل رہی ہے کہ عام لوگوں کو بھی ماسک استعمال کرنا چاہئے کہ نہیں کیونکہ اکثر ممالک کے حکام نے اپنے عوام کی ماسک خریدنے کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن ماہرین کی اکثریت ماسک لگانے کے حق میں ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسا ماسک کرونا وائرس سے بچاو کے لیے مفید رہے گا کیونکہ کرونا وائرس کے پھیلنے کا حتمی طریقہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ کرونا وائرس منہ سے نکلنے والے پانی کے قطرات سے پھیلتا ہے یا پھر ہوا کے ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے؟
انسانوں کی گفتگو کے دوران منہ سے پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرات بھی نکلتے ہیں جو منہ سے آگے ہوا میں تین فٹ تک جاتے ہیں جس کے بعد یہ نیچے زمین پر گر جاتے ہیں جبکہ کھانسنے کی صورت میں یہ قطرات چھ فٹ تک چلے جاتے ہیں ان قطرات کا سائز پانچ مائیکران سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ پانی کے قطرات سرجیکل ماسک میں سے کراس نہیں کرسکتے تو ایسی صورت میں سرجیکل ماسک مفید ثابت ہوسکتا ہے

  لیکن دوسری طرف اگر یہ وائرس ہوا کے باریک ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے تو پھر سرجیکل ماسک وغیرہ سب بیکار ہیں کیونکہ یہ ذرات بہت چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان ماسکوں میں سے گزر جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پھر طبی ماسک این نائنٹی فائیو N95 ہی کارآمد رہے گا

کرونا وائرس کا علاج کیا ہے؟
کرونا وائرس نہ تو عذاب ہے نہ آزمائش بلکہ ایک وبا ہے
وائرس دنیا میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں مگر پھر وہ کبھی کبھی زیادہ طاقتور ہوکر انسانوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں جن سے پھر نمٹنے کے لیے انسان ویکسین بناتا ہے ماضی میں اس طرح کی کئی وبائیں آئیں اور لاکھوں کروڑوں جانوں کو کھا گئیں بالآخر انسان نے ان کی ویکسینز بنا کران سے چھٹکارا پایا جلد یا بدیر اس وائرس کی بھی ویکسین دستیاب ہو ہی جائیگی
 
انسان کی بنائی جانیوالی ویکسین کا کوئی مذہب گروہ فرقہ نہیں ہوتا بلکہ سب انسان اس سے مستفید ہوتے ہیں اسی طرح یاد رکھیے وائرسز کا بھی کوئی مذہب فرقہ حلال حرام نہیں ہوتا بلکہ یہ بلا تفریق تمام انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں. اس لیے لوگوں کی من گھڑت باتوں میں آکر کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہ ہوں بلکہ بالکل پرسکون رہیں پرسکون رہنے سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا اور اس وائرس کا بہترین علاج آپ کی اپنی قوت مدافعت ہی ہے
فی الحال کرونا وائرس کی ویکسین تیار نہیں ہو سکی جو اس سال کے آخر تک امید ہے ڈاکٹرز بنا لیں گے اور مریضوں کو میسر آ جائیگی۔ 
دنیا میں فی الوقت گرچہ کرونا کا کوئی علاج موجود نہیں ہے مگر پھر بھی ستانوے فیصد مریض اپنی قوت مدافعت کے ذریعے ٹھیک ہو رہے ہیں یہ لوگ خود کو دوسروں سے الگ کرلیتے ہیں آرام کرتے ہیں اچھی خوراک کھاتے ہیں اور بالکل ٹینشن فری رہتے ہیں اور بالآخر ایک دو ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں
لیکن اگر آپکی قوت مدافعت کمزور ہواور سانس لینا مشکل تر ہوتا چلا جائے تو پھر آپکو ہسپتال منتقل ہوجانا چاہئیے جہاں وینٹی لینٹر کی مدد سے آپ کی سانس بحال رکھی جائیگی تآنکہ آپ ریکوری کر لیں
یاد رکھئیے سب سے اہم چیز آپ کی اپنی قوت مدافعت ہے اور بہترین قوت مدافعت کیلیے وائرس کا خوف ذہن سے بالکل نکال دیں اور یقین رکھیں کہ یہ ٹھیک ہو جائیگا

انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عالمی وبا
انسانی تاریخ کی بدترین طاعون کی وبا جس کو بلیک ڈیتھ بھی کہا جاتا ہے وسطی ایشیا میں تقریباً تیرہ سو تینتالیس میں پھوٹی اور یورپ پہنچ کر آدھا یورپ کھا گئی بلیک ڈیتھ سے دنیا بھر میں اندازاً دس سے بیس کروڑ لوگ مارے گے
عیسائیوں اور یہودیوں نے اس کو خدا کی ناراضگی اور عذاب سے تعبیر کیا اور شہروں شہروں قصبوں قصبوں پھر کر دن میں تین مرتبہ لوگوں کو خدائی سزا کی طور پر کوڑے مارے جاتے تاکہ ان کے گناہ جھڑ جایں اور خدا کی ناراضگی ختم ہو لیکن یہ وبا بدستور کئی سالوں تک مسلط رہی اور بالآخر لوگ یا تو مرگئے یا اپنے گھروں میں چھپ گئے یا پھر دور دراز سنسان علاقوں میں چلے گے اور اس طرح اس وبا نے ان کا پیچھا چھوڑا
اس کرونا وبا کا بھی یہی حل ہے کہ اس کو پھیلنے سے روکو جس جسم میں یہ موجود ہے وہ جسم یا اس کو مار دے یا پھر وہ جسم مرے تو ساتھ کرونا وائرس بھی مرجائے اور سب اس وقت تک چھپے رہو جب تک یہ وائرس اپنی موت آپ نہ مرجائے


Corona Virus 2019 in Pakistan in Urdu

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں