Translate

جمعہ، 31 جنوری، 2020

لبرل تحریک کے متلاشی

نئی سوچیں نئی تحریکیں

میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لبرل سوچ (یہاں لبرل سوچ سے مراد کوئی بھی مثبت نئی سوچ جو ماضی کی غلطیوں کو سدھار کر معاشرے کو نئی راہ دے. ہر معاشرے کو ہر دور میں آگے بڑھنے کے لیے نئی سوچیں درکار ہوتی ہیں) کے متلاشی لوگ بھی بہ امرِمجبوری قوم پرست جماعتوں کو فالو کرنا شروع کردیتے ہیں کیونکہ ایک تو پاکستان میں لبرل سوچ کی صحیح معنوں میں کوئی تحریک نہ اٹھی اور نہ اس کا کوئی حقیقی پلیٹ فارم اسٹیبلش ہوسکا دوم لبرلزم متین حلقوں سے جذباتی حلقوں تک بھی منتقل نہ ہو پایا جس کی وجہ سے یوتھ اس تک رسائی نہیں پا سک رہی سوم ہمارے معاشرے کا مزاج قدرے متشددانہ اور لاوڈ ہے کہ جب تک میت رکھ کر سڑک بلاک نہ کی جائے کسی کو بات سنائی ہی نہیں دیتی چہارم قدامت پسند لبرلزم کو اینٹی اسلام اور پاکستان ثابت کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں جبکہ دوسری طرف لبرلز کی طرف سے کوئی ایسی رول ماڈل شخصیت سامنے نہ آسکی اور ان مغالطوں کا صحیح طرح ازالہ نہ کرسکی. اس کا شدید ترین نقصان پاکستان کی سلامتی بقا اور فلاح کو ہورہا ہے پاکستانی نوجوان بھٹک رہا ہے کہیں وہ قوم پرستوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے تو کہیں مذہب پرست قدامت پرست اس کو غلط استعمال کررہے ہیں. پچھلے سال پاکستان نے انٹرنیٹ فری لانسنگ میں زبردست ترقی کی ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ نوجوان نسل کو نئی راہیں درکار ہیں نئے پلیٹ فارم درکار ہیں. اس کو نئی راہیں دکھانی ہوں گی اور اس کی سوچ کو مثبت لگام دینی ہوگی وگرنہ پھر ایسے ہی  آئے روز نت نئی متشددانہ منفی تحریکیں جنم لیتی رہیں گی ریاست ڈنڈا اٹھاتی رہے گی یا مرنے کے شوقین اپنی گردنیں کٹواتے رہیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں