Translate

جمعرات، 20 جون، 2019

Moon Sighting Dispute in Urdu

آو چاند دیکھیں

دنیا چاند کو قدموں تلے روند رہی ہے اور ہم اس کی دید  کو معمہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اس بات پر جھگڑا کر رہے ہیں کہ عید چاند دیکھ کر کرنی چاہیے یا جب عید کرنے کا وقت ہو جائے توعید کرلینی چاہیے۔
 مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
 پہلے ہم نماز کے اوقات کے طریقہ کار سے چاند کے کے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن اور احادیث میں نماز کے اوقات کا تعین زمین کی موومنٹ کے حساب سے رکھا گیا ہے جیسا کہ قرآن میں سورۃ ہود آیت 114 میں ذکر ہے "اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجیے۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے"۔
 سورۃ الاسراء آیت ۷۸ میں ذکر ہے "آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک نماز قائم فرمایا کریں"
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بادل چھائے ہوں اور سورج کی روشنی کا پتہ نہ لگ رہا ہو تو پھر کیا آپ نماز نہیں پڑھو گے؟ بلکہ آپ گھڑی سے وقت دیکھ کر مطلوبہ وقت پر نماز ادا کر لو گے۔ کیونکہ آپ پہلے ہی سورج کی روشنی اور زمین کی موومنٹ کے حساب سے اپنی گھڑی میں نماز کے اوقات کا تعین کرچکے ہو لہذا آپ بنا سورج کی روشنی کو دیکھے مقررہ وقت پر نماز ادا کر لو گے۔ اسی طرح اگر انتیس اور تیس رمضان کو بھی بادل ہوں چاند نظر نہ آئے تو کیا عید نہیں کرو گے؟ بلکہ تیس کے بعد عید کر لو گے کیونکہ آپ کو مطلق علم ہے کہ چاند تیس کے بعد ہر صورت نکل آیا ہو گا، تو آپ نے اس مطلق قیاس کے مطابق عید کر لی،
بات صرف وقت کے تعین کی ہے نا کہ چاند ہمارا کوئی ماما ہے کہ جس کے بنا عید نہیں ہو سکتی، اگر کوئی انسان چاند پر چلا جائے تو کیا وہ روز عید ہی کرتا رہے گا؟
قرآن میں سورہ بقرہ آیت 189 میں ذکر ہے ترجمہ:
لوگ تم (پیغمبرصلعم) سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ وہ لوگوں کے اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے
اس سے ایک بات کلیئر ہو گئی کہ اصل اہمیت وقت کی ہے اور چاند اس کی پیمائش اور تعین کے لیئے ایک حوالہ ہے۔ بالکل ایسے جیسے گھڑیاں۔ 
چاند کا نظر آنے کا مطلب ہے کہ مہینہ پورا ہو گیا بس، کیونکہ قرآن میں ذکر ہے کہ پورے مہینے کے روزے رکھو۔۔۔۔۔۔۔
اب آتے ہیں سائنس کی طرف:
چاند کسی سیٹلائٹ کی طرح زمین کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے چاند زمین کے گرد چکر 27.321 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔ اس دوران اس پر مختلف اوقات میں مختلف زاویوں سے سورج کی روشنی پڑتی ہے اور اسکی ہم کو مختلف اشکال نظر آتی ہیں۔

ان اشکال کے ایک مکمل چکر کا ہم 29.53 دنوں میں مشاہدہ کر پاتے ہیں۔ چونکہ زمین بھی حرکت کر رہی ہے اس لیے ہمارا چاند کودیکھنے کا فریم اور اینگل بھی بدل جاتا ہے۔ چاند کی جس شکل سے ہم اس کے مشاہدہ کا آغاز کرتے ہیں اس کو واپس اس ہی شکل تک پہنچنے کے لیے 2.2 دن زیادہ لگ جاتے ہیں۔ کیونکہ جس فریم سے ہم نے چاند کا مشاہدہ شروع کیا تھا اس تک واپس پہنچنے تک زمین بھی 2.2 دن اپنی جگہ سے آگے جا چکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا اینگل اور فریم آف سائٹ بدل جاتا ہے۔ لہذا پہلے والے فریم آف سائٹ پر ہم 29.53 دن کے بعد موجود ہوتے ہے۔ 
چاندہ کا مشاہدہ انتیس دن تک تو کلیئر رہتا ہے لیکن اوپر والا آدھے دن کیوجہ سے ہم یہ مشاہدہ کبھی تیس دن میں پورا کر پاتے ہیں اور کبھی انتیس میں۔ 
تو کنفیوزن یہاں ہے۔ جس کا فائدہ کچھ لوگ اٹھانا چاہ رہے ہیں۔


جیسا کہ مفتی صاحب سائنس کو بالکل بھی نہیں مانتے، نہ مانیں، مگر وہ پاکستانی سائنسدان ماہر فلکیات پروفیسر شاہد کے زون B کو اپنی دلیل پر منطبق کرنا بالکل حلال سمجھتے ہیں جبکہ زون A کو حرام سمجھتے ہیں. ساتھ ہی یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ مفتی صاحب کی رویت سائنس کی رو سے کبھی غلط نہیں ہوئی۔ اگر یہی بات درست ہے تو پھرتو سائنس کی اہمیت اور بھی دوچند ہو جاتی ہے۔ 
پھر کیا ہم جان بوجھ کر جاہل بننے کی کوشش کر ریے ہیں یا واقعی جاہل ہیں؟ نہیں ہم ایک ذہین قوم ہیں جو سوچی سمجھی منصوبہ بندی کیساتھ جاہل بنی ہوئی ہے۔

 ایک سوال کہ چاند اگر زمین کے گرد گھومتا ہے اور زمین سورج کے گرد تو پھر ہر ماہ چاند سورج اور زمین کے بیچ میں کیوں نہیں آجاتا اور ہر ماہ سورج گرہن کیوں نہیں ہوتا؟
دراصل چاند کا مدار زمین اور سورج کے بالکل بیچ میں نہیں بلکہ 5 ڈگری کے زاویے پر ہے 

جیسا کہ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے.
اس سے چاند یا تو زمین اور سورج کے ڈائریکٹ مدار سے تھوڑا اوپر رہتا ہے یا پھر نیچے۔ البتہ اپنی گردش کے دوران چاند دو دفعہ زمین اور سورج کی پلین کو کراس کرتا ہے- اگر یہ کراسنگ چاند کی پہلی یا چاند کی چودھویں کو ہو تو بالترتیب سورج یا چاند گرہن ہوتا ہے کیونکہ صرف اسی صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے جسے ہم سورج گرہن کہتے ہیں یا پھر زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے جسے ہم چاند گرہن کہتے ہیں۔ عام طور پر چاند کی پہلی یا چاند کہ چودھویں تاریخ کو چاند زمین اور سورج کی پلین کو کراس نہیں کر رہا ہوتا اس لیے گرہن ہر ماہ نہیں ہوتا.

 سماجی مسئلہ!

عید ایک مذہبی تہوار ہونے کیساتھ ایک سماجی تہوار بھی ہے۔ سماج یا معاشرے کی ایکتا اس میں ہے کہ انکے غم اور خوشیاں سانجھی ہوں۔ پشاور اور اسلام آباد کے باسی ایک وقت میں ایک ہی خوشی منا رہے ہوں، خوشی کی ایک ہی کڑی میں پروے ہوں تو خوشی دوچند ہو جائے گی۔ نا کہ مکہ میں عید ہو اور مدینہ میں روزہ ہو؟ پچیس دسمبر کو یورپ اور پورا براعظم امریکہ ایک وقت میں ایک ہی خوشی منا رہے ہوتے ہیں اور یہ احساس انکو ایک قوم، ایک سماج، ایک کمیونٹی بنا دیتا ہے، ایسے جیسے سٹیڈیم میں بیٹھے شخص کی جیت کا جشن باقی جشن مناتے لوگوں کیساتھ مل کر دوبالا ہو جاتا ہے جبکہ ٹی وی پردیکھنے والا شخص جیت کے جشن کے اس لیول کو نہیں پہنچ پاتا۔
یورپ کے برعکس ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے پوپلزئی شمالی انٹارکٹکا کے رہائشی ہیں اور مفتی جی جنوبی قطب کہ۔ حالانکہ اگر کبھی چند لمحے وہاں پر چاند اور سورج کی نوعیت کا جائزہ لیں تو شاید ان کی عقل ٹھکانے آ جائے؟ ہم پہلے ہی کراچی سے لیکر خیبر تک ہر شعبے میں ایک منقسم قوم ہیں آجا کہ ایک کرکٹ یا عید ہم کو ایک قوم بننے کا موقع فراہم کرتی ہے جس کو ہم کچھ کم فہموں کی نظر کر دیتے ہیں۔
مسئلے کا نہایت اعلیٰ حل ہے کہ معاملہ سائنس کے سپرد کر دیا جائے۔ جو پورے ملک کے لیئے ایک عید کو سائنسی بنیادوں پر یقینی بنائے۔ اور غیر یقینی اور ضیعف رویت کو اہمیت نہ دی جائے بلکہ ایک واضع اور کلیئر فیصلہ ہو جو اکثریتی بنیاد پر قبول عام ہو۔ اور اگر فرض محال ایسا علما کو قبول نہیں تو پھر مرکزی کمیٹی ختم کر دی جائے کیونکہ پھر آپ کی اپنی ہی دلیلیں آپ کی مرکزیت کی اہمیت پر پوری نہیں اترتیں۔ پھر جس کو جہاں چاند نظر آئے وہ بس وہیں روزہ رکھے اور عید منائے۔ اپنی مرضی اپنا نصاب۔ اپنی مسجد اپنا مسلک۔
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں