مجھے انقلاب نہیں امن چاہیے
یہ کہانی ہے
ایک شامی نوجوان
حسن علی کی۔
جس کی عمر
ابھی بمشکل پندرہ
سال ہے اور
اس کے ملک
شام میں عالمی
طاقتوں نے جنگ
چھیڑ دی ہے۔
اس کو جنگ
زدہ شام میں
اپنا مستقبل تاریک
لگنے لگا ہے۔
وہ اور بہت
سے شامی نوجوانوں
کی طرح نئے
بہتر مستقبل کی
تلاش میں یورپ
ہجرت کرتا ہے۔ مگر شومَی
قسمت وہ بمشکل
یونان پہنچ پاتا ہے۔ پھر بھی وہ یہاں
پہنچ کر بہت
پر جوش ہے
وہ یونان کی زبان سیکھنا
چاہتا ہے اور
اچھی نوکری تلاش
کرنا چاہتا ہے۔ وہ سفارت
خانے گھر کے لیے بھی
اپلائی کرتا ہے
مگر ایتھنز ان
نے آنیوالے نوجوانوں
کو کچھ نہیں
دینے والا۔ وہ
رات کو پارکوں
میں سوتا ہے۔
مگر بھوکا۔ اس
کو کھانا چاہیے،
ایسے میں یورپ
سے آیا کچھ
بڑی عمر کا
سیاح اس کو
کھانے اور نئے کپڑوں
کی آفر کرتا
ہے۔ وہ خوشی
خوشی اس کے
ساتھ چل دیتا
ہے۔ سیاح اس
سے جسم مانگتا
ہے۔ وہ انکار
کر دیتا ہے
مگر اس کو
بتایا جاتا ہے
کہ انکار کی
صورت میں اس
کو کچھ نہیں
ملنے والا۔ اس
کو بھوک لگی ہے وہ
زندہ رہنا چاہتا
ہے۔ پھر ہر
دوسرے چوتھے روز یہ
اس کی روٹین
بن جاتی ہے ۔
اس کے کچھ
دوست منشیات کے
دھندے میں ملوث
ہو جاتے ہیں
مگر یہ اس کو بہ
نسبت منشیات کے
کم خطرناک لگتا
ہے۔
اس کو یہ
کچھ کرتے ہوئے ایک
سال کا عرصہ
بیت چکا ہے۔
وہ پیچھے مڑ
کر دیکھتا ہے
وہ کیا سوچ
کر یورپ آیا
تھا کیا اسکے
یہی سپنے تھے۔ کیا وہ
یہ کچھ کرنے
یورپ آیا تھا وہ
رونے لگتا ہے۔
مگر یہاں اس
کے آنسو پونچھنے
والا کوئی
نہیں ہے سب
کو اسکی مسکراہٹ
چاہیے بس۔ اس
کو اپنا ملک
شام یاد آتا
ہے جو اسکا
اپنا تھا۔ وہ
واپس جانا چاہتا
ہے مگر شاید اب نہیں جا سکے
گا کیونکہ وہ اب تک اپنا بہت کچھ
کھو چکا ہے
اور ساتھ واپس جانے کی
ہمت بھی ۔
وہ اپنی زندگی
سے تنگ آ
جاتا ہے اور
کسی دن مر
جانا چاہتا ہے۔
وہ شامی نوجوانوں
کو اپنا ملک
چھوڑ کر یورپ
آنے سے منع
کرتا ہے۔ مگر وہ انکو
اپنے حالات بتا بھی نہیں
پاتا۔ وہ ان
کو سمجھاتا ہے
کہ جنگ کا
سامنا کرو حکومت
کا ساتھ دو
اور باغیوں کی حوصلہ شکنی کرو۔
اپنے ملک میں
امن قائم کرو
اور اپنی آنیوالی
نسلوں کو یوں
بکنے پر مجبور
نہ کرو، انقلاب
نہیں تمہیں امن
چاہیے۔
شام کے حالات
خراب کرنے میں
بڑا ہاتھ فرقہ
پرستی کا ہے
جس کو بنیاد
بنا کر عالمی
طاقتوں نے مختلف مذہبی گروپس
کی انقلاب کے نام پر
سپورٹ کی اور
حکومت کے خلاف
بغاوت کروا دی۔ ان عالمی
طاقتوں کے سامراجی
مقاصد ہیں مگر
ذلیل اور خوار
شامی باشندے ہو
رہے ہیں۔
شام میں شیعہ
بشار الاسد کی
حکومت ہے جنکی
تعدد تیرہ پرسنٹ
ہے جبکہ سنی
مسلم کی تعداد
ستر پرسنٹ کے
قریب ہے ۔
ایران شیعہ حکومت
کی سپورٹ کر
رہا ہے جبکہ
سعودی عرب ترکی
اسرائیل امریکہ سنی
باغیوں کی سپورٹ
کر رہے ہیں
قریب تھا کہ
باغی جنگ جیت
جاتے مگر روس
نے بازی حکومت
کے حق میں
پلٹ دی ہے۔ اس
خانہ جنگی میں
اب تک قریب
چار لاکھ لوگ
مارے جا چکے
ہیں۔ اور امن
دور دور تک
کہیں نظر نہیں
آ رہا۔ یہی
کچھ عراق لیبیا
میں بھی ہو
چکا ہے۔
اس لیے ہم
کو اپنے
ملک میں فرقہ
پرستی اور کسی
بھی قسم کی
قوم پرست جماعتوں
کی حمایت نہیں کرنی
چاہیے، حکومت جیسی
بھی ہے شام
عراق یمن لیبیا
فلسطین سے پھر
بھی ہمارے حالات بہت
بہتر ہیں۔ عالمی
حالات کے مدنظر
پاکستانیو اپنی حکومت
اور آرمی کو سپورٹ کرو اور
فرقہ پرست اور
قوم پرست جاعتوں
کا بالکل بائیکاٹ
کرو۔ امن ہے
تو ملک ہے
ملک ہے تو
سب کچھ ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں