Translate

ہفتہ، 10 مئی، 2025

پاکستان بھارت ڈاگ فائٹ مکمل تفصیل شواہد کیساتھ

 

ہندوستانی فضائیہ کے جدید ترین جنگی طیارے پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں تباہ: تصدیق شدہ شواہد کی روشنی میں

واشنگٹن پوسٹ کے تجزیے کے مطابق، ہندوستانی فضائیہ کو بدھ کی صبح پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے حملوں کے دوران کم از کم دو جنگی طیاروں کا نقصان ہوا ہے، جن میں سے ایک ملک کا جدید ترین ماڈل بھی شامل ہے۔

اسلام آباد نے بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانچ ہندوستانی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ نئی دہلی نے پاکستانی دعوؤں کو نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی مسترد کیا ہے۔ ہندوستانی فوج اور وزارت خارجہ نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

واشنگٹن پوسٹ نے حملوں کے بعد آن لائن پوسٹ کی گئی درجنوں تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا، جس میں کم از کم دو فرانسیسی ساختہ جنگی طیاروں کے ملبے کی تصدیق ہوئی، ایک رافیل اور ایک میراج 2000، جو ہندوستانی فضائیہ کے زیر استعمال ہیں۔

پوسٹ نے اپنے نتائج کی بنیاد امریکی فوج کے سابق میزائل تکنیشین ٹریور بال، اسٹریٹجک ریسرچ فاؤنڈیشن کے ایٹین مارکوز، اور ایک فرانسیسی فضائیہ ماہر (جو میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہ ہونے کی وجہ سے گمنام رہنا چاہتے تھے) کے تجزیوں پر رکھی۔ ماہرین یہ تعین نہیں کر سکے کہ طیارے مار گرائے گئے تھے یا دیگر وجوہات کی بنا پر گرے تھے۔ پائلٹس کے بارے میں بھی کوئی واضح معلومات نہیں مل سکیں۔

 


ہندوستانی فضائیہ کے لیے بدترین جھٹکا

اگر متعدد جنگی طیاروں کے نقصان کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ ہندوستانی فضائیہ کی حالیہ تاریخ میں جنگ کے میدان میں سب سے بڑا جھٹکا ہوگا۔ 2019 میں، جب دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان آخری جھڑپیں ہوئی تھیں، ہندوستان نے تسلیم کیا تھا کہ اس کا ایک طیارہ پاکستان نے مار گرایا تھا۔

ہندوستان نے پاکستان کے اندر جو حملے کیے، وہ گزشتہ ماہ ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر دہشت گرد حملے کے بعد تھے۔ یہ حملے نصف صدی سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ تھے۔ اس کے بعد ڈرون حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں کے باہمی الزامات نے دونوں دشمن ممالک کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں واقع سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ بجٹری اسسمنٹس کے سیمیر لالوانی کا کہنا ہے کہ "طیاروں کو بہت زیادہ سیاسی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ دونوں اطراف نے ابھی تک مکمل روایتی جنگ کی حد عبور نہیں کی ہے۔"

 

رافیل طیارے کا ملبہ: تصدیق شدہ شواہد

فرانسیسی کمپنی ڈاسالٹ ایوی ایشن کا بنایا ہوا رافیل ایک جدید ترین جنگی طیارہ ہے، جو 2019 میں ہندوستان کو فراہم کیا گیا تھا۔ چین جیسی علاقائی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستانی فضائیہ کی جدید کاری کے تحت یہ ملک کی اہم ترین خریداریوں میں سے ایک ہے۔

ملبے کی ایک تصویر میں سفید رنگ سے لکھا لفظ "رافیل" اور "BS 001" کے ساتھ ہندوستانی پرچم دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ نشانات 2021 میں آن لائن پوسٹ کی گئی ہندوستانی فضائیہ کے ایک رافیل طیارے سے مماثل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ ملبے کی تصاویر کی خود سے جیو لوکیشن نہیں کر سکی، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب کے گاؤں اکالیا خورد کے قریب لی گئی تھیں (جو ہندوستان-پاکستان سرحد سے تقریباً 45 میل دور ہے)۔ لیکن یہ تصاویر بدھ سے پہلے آن لائن نہیں دکھائی دی تھیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق، ہندوستانی فوجی حکام نے اس علاقے میں گرنے والے طیارے کا جائزہ لیا اور ملبہ اٹھا لیا۔ انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ ایک کسان، جو ملبے کے قریب پہنچنے والا پہلا شخص تھا، دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔

 


میراج 2000 کا ایندھن کا ٹینک: کشمیر میں مزید شواہد

ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کے گاؤں وویان (جو پاکستانی سرحد سے تقریباً 80 میل دور ہے) میں لی گئی دیگر تصاویر میں میراج 2000 کا ایک ایندھن کا ٹینک دکھائی دیا۔ یہ پرانا جنگی طیارہ بھی ڈاسالٹ کا بنایا ہوا ہے، جو 1980 کی دہائی سے ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔

ایندھن کے ٹینک کو مشین کی خرابی، جنگ میں نقصان، یا طیارے کو زیادہ پھرتیلا بنانے کے لیے گرایا جا سکتا ہے، اس لیے یہ تنہا ثبوت نہیں ہے کہ طیارہ تباہ ہوا۔ لیکن صرف چوتھائی میل دور، عینی شاہدین نے بتایا کہ ہندوستانی حملوں کے فوراً بعد ایک طیارہ ایک پرائمری اسکول سے ٹکرا گیا۔ حملے کی رات پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اسکول کے جلتے ہوئے ملبے میں جیٹ انجن کا ایک حصہ دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کوئی طیارہ گر کر تباہ ہوا۔

اسکول کی جانب سے جمعرات کو فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک اور ویڈیو میں اسکول کی طالبات کو گرے ہوئے درختوں کی ٹہنیاں اٹھاتے دکھایا گیا ہے، جبکہ تبصرہ نگاروں نے اسکول کی تعمیر نو کی امید ظاہر کی ہے۔

 

فرانسیسی میزائل بھی برآمد

ماہرین کے مطابق، ایک اور ویڈیو (جس کی جیو لوکیشن تو تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن متعدد اکاؤنٹس کے مطابق یہ اکالیا خورد کے قریب فلمائی گئی تھی) میں زمین پر ایک غیر پھٹا ہوا فرانسیسی ساختہ MICA میزائل دکھائی دیا، جو ابھی بھی اپنے لانچر کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ میزائل اور لانچر رافیل یا میراج دونوں طیاروں کے ساتھ استعمال ہو سکتے ہیں۔

ٹریور بال کا کہنا ہے کہ "یہ میزائل لانچرز طیارے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، اور زمین پر اس کا موجود ہونا، نیز پس منظر میں دکھائی دینے والی بڑی آگ، یہ ظاہر کرتی ہے کہ شاید کوئی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے۔"

واشنگٹن پوسٹ نے ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کے ایک اور مقام اخنور میں تیسرے کریش سائٹ کی نشاندہی کی ہے، لیکن دستیاب ویڈیوز سے یہ تعین کرنا ممکن نہیں تھا کہ ملبے میں کس قسم کا طیارہ تھا۔

 

پاکستان کا موقف اور ہندوستان کی خاموشی

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی طیاروں نے ہندوستانی علاقے میں داخلہ نہیں کیا اور صرف ان ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا جو "اپنا بوجھ گرانے کے بعد" واپس جا رہے تھے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ہندوستانی فوجی حکمت عملی پر تحقیق کرنے والے ارزان تاراپور نے کہا کہ ہندوستان کا طیاروں کے نقصان پر خاموش رہنا غیر متوقع نہیں ہے۔ "ہندوستانی حکومت بحران کے دوران عموماً آپریشنل تفصیلات کو چھپاتی ہے۔ اگر آپ بڑے نقصانات تسلیم کر لیں، تو بحران کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔"

ییل یونیورسٹی کے لیکچرر اور سابق ہندوستانی فوجی افسر سشانت سنگھ نے کہا کہ نئی دہلی کی خاموشی نے پاکستان کو "فتح کا دعویٰ کرنے کا موقع دے دیا ہے، اور شاید یہ تنازعے کو بڑھنے سے روکنے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔"

 

چین نے پاکستان کو ہندوستانی جنگی طیارے رفال گرانے میں کیسے مدد کی؟

چینی جنگی طیاروں کا مغربی ساختہ رافیل طیارے کو گرانا دفاعی حلقوں میں ایک دھماکہ خیز خبر ہے۔

بدھ کی صبح 4 بجے، پاکستان میں چینی سفیر نے غیر معمولی فوجی کامیابی پر خوشی منانے کے لیے وزارت خارجہ کا رخ کیا۔ کیونکہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے اب سے چند گھنٹے قبل چینی J-10C طیاروں کے ذریعے متعدد ہندوستانی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ جن میں فرانسیسی طیارہ رافیل بھی شامل تھا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ 7 مئی کو پارلیمنٹ میں بتایا، "ہمارے J-10C جنگی طیاروں نے تین ہندوستانی رافیل طیاروں کو مار گرایا۔انہوں نے مزید کہا کہ چینی وفد، جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کی خبر سن کر نیند سے بیدار ہوا تھا، پاکستانی دفاعی کامیابی پر بہت خوش تھا۔ "ایک دوست ملک ہونے کے ناطے، انہوں نے بے پناہ مسرت کا اظہار کیا۔"

ہندوستان نے اب تک سرکاری طور پر اس بات کی تردید نہیں کی کہ اس کے پانچ جنگی طیارے تباہ ہوئے ہیں۔ لیکن چینی طیاروں کی رافیل کو گرانے کی خبروں نے دفاعی تجزیہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن کے شیئرز میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا۔

مغربی ٹیکنالوجی کے خلاف چینی ہتھیاروں کی پہلی آزمائش

اب تک، چینی اسلحہ کو کبھی رافیل جیسی مغربی ٹیکنالوجی کے خلاف میدان جنگ میں آزمائش کا موقع نہیں ملا تھا۔ ہندوستانی فضائیہ کے پاس 36 رافیل F3R طیارے ہیں، جو اس طیارے کی جدید ترین شکل ہیں۔

بدھ کو سی این این نے ایک فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار کے ذریعے تصدیق کی بھارت پاکستان جنگ میں کم از کم ایک رافیل طیارہ مارا گیا ہے، جو جنگ کے دوران دنیا بھر میں اس طیارے کی پہلی تباہی ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے سےلاعلم  ہے کہ آیا چینی طیارے اس جھڑپ میں شامل تھے۔ تاہم، جمعرات کی شام کو ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ J-10C طیارے نے ہوا سے ہوا میزائل کے ذریعے کم از کم دو ہندوستانی طیارے مار گرائے۔

یہ اس طیارے کی پہلی "کِل" (جنگی تباہی) کی تصدیق ہے، جو 2003 سے سروس میں ہے۔ اسے "4.5 جنریشن فائٹر" قرار دیا جاتا ہے، جو برطانوی یوروفائٹر ٹائیفون جیسا ہے اور امریکی F-35 جیسے پانچویں جنریشن کے طیارے کے قریب ترین ہے۔

چینی سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ہو جی زن نے کہا کہ یہ جنگ ثابت کرتی ہے کہ "چین کی فوجی تیاری کی سطح مکمل طور پر روس اور فرانس سے آگے نکل چکی ہے"، اور انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان کو "اور زیادہ خوفزدہ ہونا چاہیے"۔

PL-15 میزائل: ایک مہلک ہتھیار

دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صرف ٹیکنالوجی کو ہی واحد فیکٹر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ پائلٹ کی غلطی یا جنگی حکمت عملی کا بھی ہندوستانی رافیل کی تباہی میں کردار ہو سکتا ہے۔



اوپن سورس انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے ہندوستانی ٹی وی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چینی ساختہ PL-15 میزائل کی باقیات کی تصاویر کا بغور جائزہ لیا ہے۔ یہ میزائل، جو J-10C طیارے کے ذریعے چلایا جاتا ہے، پہلے کبھی جنگ میں استعمال نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس کی یہ صلاحیت کہ یہ پائلٹ کی نظر سے بھی دور ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، بدھ کی صبح کی ڈاگ فائٹ کے حالات اور نتائج سے میل کھاتی ہے۔ اس فضائی جھڑپ میں پاکستانی اور ہندوستانی دونوں طیاروں نے سرحد پار نہیں کی، بلکہ 100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر "اسٹینڈ آف" جھڑپ میں مصروف رہے۔ ایک رافیل کا ملبہ بھارت کے شہر بٹھنڈہ کے قریب ملا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تصادم سرحد سے کافی دور ہوا۔

PL-15 کی ترقی نے امریکی فوج کو مجبور کیا کہ اب وہ ایک ایسا میزائل تیار کرے جو اس سے بھی زیادہ دور تک مار کر سکے۔ پاکستانی افواج کو برآمد کی جانے والی PL-15E قسم 145 کلومیٹر تک مار کر سکتی ہے، جو چین کے اپنے استعمال والے میزائل سے تھوڑی کم ہے۔

یورپی پالیسی تجزیہ مرکز کے غیر مقامی فیلو فیبین ہوفمین کے مطابق، چینی فوجی مبصرین اس میزائل کو "انتہائی قابل" سمجھتے ہیں۔ "اب اگر اس کی کامیابی کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ چینی فضائی ٹیکنالوجی کی مہارت کا ایک عوامی مظاہرہ ہوگا جو دنیا بھر میں اثر رکھے گا۔"

انہوں نے کہا، "یہ ایک اور اشارہ بھی ہے کہ اگر تائیوان پر کوئی تنازعہ کھڑا ہوا، تو یہ نہ سمجھا جائے کہ چینی ٹیکنالوجی یوکرین میں روس کی طرح ناکام ہو جائے گی۔"

 

پاکستان اور چین کا فوجی تعاون:

29 اپریل کو، سرحدی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی، پاکستانی فوج نے ایک یوٹیوب ویڈیو جاری کی جس میں اس کی فوجی طاقت کو دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں، چینی ساختہ JF-17 بلاک 3 طیارے، جو J-10C سے کم جدید ہیں، PL-15 میزائلز سے لیس دکھائے گئے۔ اور ویڈیو کے کیپشن میں لکھا "طاقتور مکا"۔

پاک فضائیہ کے پائلٹس کے لیے، PL-15 میزائل کے کئی فوائد ہیں۔ فائر ہونے کے بعد، اس کا راکٹ بوسٹر اسے مختصر وقت کے لیے "ہائپرسونک" (Mach 5 سے بھی زیادہ) رفتار تک پہنچا دیتا ہے۔ پرواز کے دوران، یہ ایک AESA ریڈار سے ہدف تک رہنمائی حاصل کرتا ہے، جو لانچ سسٹم یا کسی دوسرے طیارے پر نصب ہو سکتا ہے۔ ہدف کے قریب پہنچ کر، یہ اپنا ریڈار آن کرتا ہے، ہدف کو لاک کرتا ہے، اور انتہائی درستگی سے نشانہ بناتا ہے۔

ایک ڈوئل پلس موٹر کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی دھماکے کے بعد، ہدف سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر دوسری رفتار کی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ ہوفمین کے مطابق، "یہ میزائل اتنی تیز رفتار سے سفر کرتے ہیں کہ ان کا 'نو-ایسکیپ زون' ہوتا ہے.، یعنی ان سے بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔"

یہ طیارے سے فائر ہونے کے بعد اپنا ریڈار سسٹم آن کر لیتا ہے، اس سے طیارہ آزاد ہو جاتا ہے اور وہ اس جگہ سے دور نکل جاتا ہے تاکہ اسے نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

 "یہ نہ صرف طیارے کی حفاظت کرتا ہے، بلکہ میزائل کی مہلک صلاحیت کو بھی یقینی بناتا ہے۔"

ہندوستان اور پاکستان: ہتھیاروں کی دوڑ میں تبدیلی

جب ہندوستان اور پاکستان آمنے سامنے ہوتے ہیں، تو دراصل ان کے فوجی اتحادی بھی ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں، دونوں ممالک نے اپنے ہتھیاروں کے ذرائع تبدیل کیے ہیں۔

اب اسلام آباد اپنے ہتھیاروں کی بڑی تعداد چین سے خریدتا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق، 2019 سے 2023 تک پاکستان کے 82 فیصد فوجی درآمدات اس کے "آئرن برادر" (چین) سے آئی ہیں۔ دوسری طرف، امریکہ سے درآمدات میں شدید کمی آئی ہے۔

اسی دوران، ہندوستان نے مغربی اتحادیوں سے ہتھیار خریدنے میں اضافہ کیا ہے اور روس پر انحصار کم کیا ہے۔ SIPRI کے اعداد و شمار کے مطابق، 2006 کے بعد سے فرانس، اسرائیل اور امریکہ سے خریداری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ماسکو سے درآمدات 75 فیصد سے گر کر 36 فیصد رہ گئی ہیں۔

لندن کی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر والٹر لڈوِگ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا دفاعی بجٹ کاغذی طور پر زیادہ ہے، جدید سازی کا بجٹ بھی بڑا ہے، لیکن "پاکستان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کا بنیادی ہتھیار فراہم کنندہ چین ہے۔ کیونکہ بیجنگ 'ڈیلیور' کرتا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ چین نے پاکستان کو تیزی سے ٹینک،

مشترکہ طور پر تیار کردہ JF-17 بلاک 3 طیارے،

اور میزائل سسٹمز فراہم کیے ہیں۔

جبکہ ہندوستان کے اہم سپلائرز روس اور فرانس (جو بالترتیب 36 فیصد اور 33 فیصد درآمدات فراہم کرتے ہیں) اپنے آرڈرز پورے کرنے میں سست روی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر لڈوِگ نے کہا، "ہندوستانی فضائیہ اب بھی پرانے مگ طیارے استعمال کر رہی ہے۔"

گو چینی وزارت خارجہ نے دونوں فریقین سے تحمل سے کام لینے اور مکمل جنگ سے بچنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن بیجنگ میں کچھ لوگ شاید ابھی اپنی ٹیکنالوجی کے مزید "عملی تجربات" کے منتظر ہوں گے۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں