پاکستان معاشی بیمار!
کم علم شخص کے لکھنے کا ایک فائدہ تو کم از کم ضرور ہوتا ہے کہ اس کا انداز بیاں سادہ اور سلیس ہوتا ہے، بہت زیادہ اصطلاحات کی کمی سے عبارت اور مضمون کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی تحریر عام لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔
پاکستان کی مختصر معاشی تاریخ:
سب سے پہلے متحدہ ہندوستان! برٹش انڈیا میں ہندو سکھ مسلمانوں کی بہ نسبت معاشی طور پر کافی بہتر اور آگے تھے۔ بنگال اور پنجاب جو مسلم اکثریتی علاقے تھے وہاں پر بھی معاشی اور سماجی طور پر ہندو اور سکھ چھائے ہوئے تھے، پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے سے ہی سکھ اشرافیہ کا روپ اختیار کرچکے تھے، لاہور ہی کو دیکھ لیں۔
جو کہنے کو تو مسلم اکثریتی شہر تھا، مگر تقسیم کے وقت اس پر اثر رسوخ کی حالت کا اندازہ ریڈ کلف کے اس بیان سے لگایں جو اس نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم سے کافی عرصہ بعد ایک انٹرویو میں دیا۔
جب کلدیپ نئیر نے 1976 میں ان کا انٹرویو کیا تھا، ریڈ کلف سے سوال کیا کہ پنجاب کی تقسیم کو لے کر اس پر خاصی تنقید کی جاتی ہے، تو ریڈ کلف نے جواب دیا کہ پاکستانی شکر کریں کہ میں نے ان کو لاہور شہر دے دیا، ورنہ میں لاہور ہندوستان کو دینے والا تھا۔ مگر عین وقت پر میں نے سوچا کہ کلکتہ کے ہندوستان میں چلے جانے کے بعد پاکستان کے پاس لاہور شہر تو ہونا ہی چایئے، تو ازراہ کرم میں نے لاہور پاکستان کو دے دیا۔
آزادی کے وقت، پاکستان کو برطانوی ہندوستان میں کل 921 صنعتی یونٹس میں سے صرف 34 صنعتی یونٹ وراثت میں ملے تھے۔اس میں شامل اہم صنعتیں کپاس، ٹیکسٹائل، چینی، سگریٹ، چاول کی بھوسی اور آٹے کی گھسائی کرنے والی صنعتیں تھیں جن کا مجموعی جی ڈی پی میں صرف 7 فیصد حصہ تھا۔ اس طرح ہندوستان کو چلا چلایا ملک ورثے میں ملا جبکہ پاکستان بالکل زیرو پے کھڑا تھا اور اوپر سے مہاجرین کا بڑھتا دباو. لا محالہ پاکستان روز اول سے ہی بیرونی امداد اور قرضوں کی تگ و دو میں جت گیا.
آزادی کے وقت یہ ملک بنیادی طور پر زرعی معیشت پر مشتمل تھا۔ سال 1950 میں، زراعت کا کل جی ڈی پی کا تقریباً 60 فیصد حصہ تھا۔ پاکستان نے 1959 میں اپنی نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا جس میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور زراعت پر مبنی صنعتوں کو فروغ دیا گیا جس کے نتیجے میں ملک میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی۔ 1960 کی دہائی میں پاکستان کی تیار کردہ برآمدات ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے زیادہ تھیں۔پہلی پانچ دہائیوں (1947-1997) میں پاکستان کی اوسط اقتصادی ترقی کی شرح اسی عرصے کے دوران عالمی معیشت کی شرح نمو سے زیادہ رہی ہے۔ 1960 کی دہائی میں اوسط سالانہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.8 فیصد، 1970 کی دہائی میں 4.8 فیصد اور 1980 کی دہائی میں 6.5 فیصد تھی۔ اس دہائی کے دوسرے نصف میں نمایاں طور پر کم ترقی کے ساتھ 1990 کی دہائی میں اوسط سالانہ نمو 4.6 فیصد تک گر گئی۔
پاکستان دنیا کے ان چند ترقی پذیر ممالک میں سے تھا جنہوں نے 1950 سے 1990 تک کی 4 دہائیوں میں لگاتار 5٪ سے زائد سے ترقی کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان میں غربت 40٪ سے کم ہو کر 18٪ ہو گئی۔
معیشت کا موضوع وسیع اور پیچیدہ ہے، لیکن نتیجے پر پہنچنے کے لیے ہم چند بڑے اور واضح عوامل کا ہی جائزہ لیں گے، جیسا کہ امپورٹ، ایکسپورٹ، ٹریڈ بیلنس، ترسیلات زر اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ۔
کرنٹ اکاونٹ:
کرنٹ اکاونٹ ملک کی نیٹ معاشی صورتحال کو واضح کرتا ہے، اس سے پتہ لگتا ہے کہ ملک کی آمدنی کتنی ہے اور خرچہ کتنا ہے، اگر آمدنی کم اور خرچہ زیادہ ہوگا تو ظاہر سی بات ہے ملک قرض لینے پر مجبور ہو گا،
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا خرچہ کیا ہے یعنی درآمدات کیا ہیں،
امپورٹ:
معیشت کا بہت ہی سادہ اور بنیادی اصول ہے
اگر آپ بیج خریدتے ہو تو پھر پھل آپکو بیچنے چاہیں
مگر پاکستان میں خریداری (امپورٹ) بڑھتی ہی جاتی ہے مگر ایکسپورٹ ندارد! اس کا مطب ہے مسئلہ پاکستان کی پالیسیوں میں ہے.
پاکستان کی درآمدات ارب ڈالرز:
( Source: Pakistan Bureau of Statistics ):
جون 1971 : 1.187
جون 1977 : 2.418
جون 1988 : 6.917
جون 1990 : 7.414
جون 1993 : 10.049
جون 1996 : 12.015
جون 1999 : 9.613
جون 2002 : 9.434
جون 2008 : 35.283
جون 2013 : 40.157
جون 2018 : 55.671
جون 2022 : 71.543
جون 2023 : 51.834
ایکسپورٹ کا الٹ امپورٹ ہیں، پاکستان اپنی ضرورت کی اکثر اشیا باہر سے امپورٹ کرتا ہے، جس سے امپورٹ بل ایکسپورٹ سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے، پاکستان تیل گیس سے لے کر کھانے کی اشیا تک باہر سے امپورٹ کرتا ہے، مزید کئی قسم کے خام مال بھی امپورٹ کرتا ہے جو ایکسپورٹ کی جانے والی چیزوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس طرح امپورٹ ایکسپورٹ کا بھی آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، اکثر ماہرین کیمطابق پاکستان 5٪ سے زائد گروتھ ریٹ سے ترقی کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کے لیے پھر اس کو زیادہ خام مال اور انرجی امپورٹ کرنا پڑے گی، جس سے پاکستان کا ٹریڈ بیلنس ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گا۔
پاکستان بیلنس آف پیمنٹ
ساٹھ ستر کی دہائی تک پاکستان کا تجارتی خسارہ نہ ہونے کے برابر تھا، نوے کی دہائی میں یہ بڑھنا شروع ہوا، مشرف دور میں ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہوا، پیپلز پارٹی کے دور میں یہ کنٹرول رہا مگر پھر ن لیگ اور تحریک انصاف کے ادوار میں یہ تاریخی بلندیوں پر پہنچ گیا،سیاسی ادوار کے اعتبار سے ٹریڈ ڈیٹا (تجارتی خسارہ ارب ڈالرز)
جون 1971 : 0.50
جون 1977 : 1.29
جون 1988 : 2.56
جون 1990 : 2.49
جون 1993 : 3.27
جون 1996 : 3.70
جون 1999 : 2.09
جون 2002 : 0.29
جون 2008 : 14.84
جون 2013 : 15.35
جون 2018 : 30.90
جون 2022 : 39.05
جون 2023 : 23.96
اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی آمدنی کتنی ہے
ملک کے آمدنی کے ذرائع میں ایکسپورٹ، ریمٹینس، فارن انویسٹمنٹ اور امداد یا قرض ہوسکتے ہیں۔
برآمدات (ایکسپورٹ):
کسی ملک کی کل پیداوار اور برآمدات کی شرح اس ملک کی ترقی کو جانچنے کا مستند ترین پیمانہ ہے. برآمدات کی شرح جتنی کم ہوگی اس ملک کی ترقی اسی قدر ناپائیدار اور غیرپیداواری ہوگی. اور بدقسمتی سے پاکستان کی برآمدات کی شرح 1980 کے بعد سے گرتی ہی چلی جارہی ہے. ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی ایکسپورٹ ٹو جی ڈی پی کا تناسب 1986 میں 12.3 فیصد سے کم ہو کر 2020 میں 10 فیصد رہ گیا. جبکہ اسی دوران بھارت کی برآمدات کی شرح 1986 میں 5.2 سے 2020 میں 18.66 فیصد تک بڑھ گئی اور بنگلہ دیش کی 5.18 سے 12 فیصد تک بڑھ گئی. شاید یہ سن کر آپ کی آنکھیں کھلی رہ جایں کہ اسی دوران ویت نام کی برآمدات کی شرح 6.62 سے 105 فیصد تک بڑھی.
دنیا میں ان ہی ممالک نے ترقی کی ہے جنہوں نے اپنی ایکسپورٹ بڑھائی ہیں، ایکسپورٹ سے ملک میں پروڈکشن کا عمل بڑھتا ہے جس سے عوام کو روزگار ملتا ہے ان کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے، اورایکسپورٹ کے بدلے بیرونی سرمایہ ڈالرز کی شکل میں ملک میں لوٹ کر آتا ہے ملک کے پاس ذخائر اکٹھے ہوتے ہیں جس سے اس کی کریڈیبیلٹی اور کرنسی مستحکم ہوتی ہے، آنیوالے ڈالرز سے شعبے میں مزید سرمایہ کاری ہوتی ہے جو انوویشن کو جنم دیتی ہے،
پاکستان اپنی برآمدات بڑھانے میں شدید ناکام نظر آرہا ہے،
پاکستان کی برآمدات ارب ڈالرز:
( Source: Pakistan Bureau of Statistics ):
جون 1971: 0.683
جون 1977 : 1.132
جون 1988 : 4.361
جون 1990 : 4.924
جون 1993 : 6.782
جون 1996 : 8.311
جون 1999 : 7.528
جون 2002 : 9.140
جون 2008: 19.052
جون 2013: 24.460
جون 2018: 23.212
جون 2022: 31.782
جون 2023: 27.735
حالیہ عرصہ کا ریکارڈ دیکھیں تو پاکستان کی برآمدات درآمدات سے گروتھ ریٹ تو بڑھتا ہے لیکن پھر تجارتی خسارہ بڑھنے سے ملک کو کرنٹ اکانٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے پھر آئی ایم ایف پیکجز، اسی عرصہ میں ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش نے اپنی برآمدات ازحد بڑھا لیں، بھارت اب 1000 ارب ڈالرز ایکسپورٹ پر کام کررہا ہے اور ساتھ خود کفالت کے لیے ملک کے اندر پیداوار کو فروغ دے رہا ہے، بنگلہ دیش کی برآمدات بھی پاکستان سے دوگنا ہو چکی ہیں اور بنگلہ دیش سالانہ 7٪ کی شرح سے ترقی کررہا ہے جبکہ پاکستان برآمدات نہ بڑھا پانے کی وجہ سے ترقی کو 2٪ سے اوپر نہیں لے جا پا رہا، تاہم آئی ایم ایف نے حوصلہ افزا رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی برآمدات مالی سال 2024ء کے دوران 30 ارب 84 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ مالی سال 2028ء تک یہ بتدریج بڑھ کر 39 ارب 46 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
دنیا کے زیادہ ایکسپورٹ والے ممالک
دنیا میں 2022 میں سب سے زیادہ ایکسپورٹ کرنے والے 11 ممالک میں پہلے نمبر پر چین 3600 ارب ڈالر،
دوسرا امریکہ 2100
تیسرا جرمنی 1700
چوتھا نیدر لینڈ 965
پانچواں جاپان 747
چھٹا جنوبی کوریا 683
ساتواں اٹلی 657
آٹھواں بلجیم 633
نواں فرانس 618
دسواں ہانگ کانگ 609 اور
گیارہواں یو اے ای 598 ارب ڈالر شامل ہیں۔
ان 11 ممالک کی مجموعی ایکسپورٹ 12000 ارب ڈالر دنیا کے باقی تمام ممالک کی ایکسپورٹ سے زیادہ ہے۔
ترسیلات زر یعنی ریمٹینس Remittance
بیرون ملک مقیم لوگوں کے بھیجے گئ ترسیلات زر سے۔
سال 2022 کے اختتام تک پاکستان کی ایکسپورٹ 31 ارب ڈالر رہی، اسی طرح ترسیلات زر بھی 31 ارب ڈالرز رہیں، جبکہ پاکستان کی امپورٹ 80 ارب ڈالرز کے قریب رہیں، اس طرح پاکستان کا لگ بھگ 18 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ ٹھہرا۔ اب اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے مجبورا پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے قرض لینے پڑتے ہیں،
فارن انویسٹمنٹ (غیر ملکی سرمایہ کاری)؛
ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں جی ڈی پی کے تناسب سے صرف 15 فیصد فارن انویسٹمنٹ ہوئی، جبکہ اسی دوران بھارت میں 33 اور بنگلہ دیش میں 30 فیصد غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی.
اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات کہ فارن انویسٹمنٹ کس شعبے میں کی گئی، پاکستان میں فارن انویسٹمنٹ کا رجحان مٹھی بھر کھپت پر مبنی شعبوں کی طرف رہا۔ ٹیلی کام سیکٹر نے کل ایف ڈی آئی کا سب سے بڑا حصہ حاصل کیا، اس کے بعد کان کنی، تیل اور گیس کی تلاش، مالیاتی کاروبار، بجلی اور خوراک۔
قرضہ:
قرضے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک اندرونی دوسرا بیرونی؛
بیرونی قرضے:
یہ ایک حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے وسیع اقتصادی استحکام اور ملکی ترقی کے اہداف کو برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا۔ جو دوسرے ملک یا بین الاقوامی تنظیموں جیسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اور بین امریکی ترقیاتی بینک وغیرہ سے لیتا ہے۔ غیر ملکی قرض طویل مدتی یا قلیل مدتی ہو سکتا ہے۔ قرض لینا بری بات نہیں لیکن اگر لیے گئے سے قرض سے حاصل کردہ منافع زیادہ ہو، لیا گیا قرض صحیح جگہ پر لگے، لیکن اگر قرض غلط پروجیکٹز میں استعمال ہو یا کرپشن کی نذر ہو جائے تو پھر ایسے قرضے ملکی آمدنی اور زرمبادلہ پر بوجھ بن جاتے ہیں، جیسا کہ پاکستان نے اکثر قرضے سیاسی شوباز پروجیکٹز میں لگا کر ضائع کردیے اور اب ان کی واپسی پاکستان کی سالمیت پر سوال بن چکی ہے۔
اندرونی قرضے:
حکومت کے کل قرضے:
اندرونی اور بیرونی قرض وغیرہ ملا کر حکومت کے زمے کل واجب الادا رقم:
Debt Limitation Act – 2005
جو کہ حکومت کو پابند کرتا ہے کہ اس کے قرضے اس کی 60% مجموعی پیداواری صلاحیت (GDP) سے تجاوز نہ کرے۔
مالی سال 2013 کے اختتام تک پاکستان کا کل قرض 60٪ تک پہنچ چکا تھا۔
لیکن اس کے بعد نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی حکومت بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد سے اس شق کی خلاف ورزی کی ہے۔پاکستان کے قرضوں کی تاریخ
سنہ 1947 سے لے کر 2008 تک ملک کے ذمے واجب الادا قرضے کا حجم صرف 6،127 ارب تھا،
جو جون 2013 میں 14،007 ارب روپے ہو گیا.
جو جون 2018 میں 24،212 ارب ہو گیا۔
جو جون 2022 میں 47،832 ارب ہو گیا،
جو جون 2023 کو 60،840 ارب روپےتک پہنچ گیا۔
بیرونی قرضہ
سنہ 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت پاکستان کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے ذمے واجب الادا غیر ملکی قرضہ 45 ارب ڈالر تھا۔ پی پی پی حکومت کے خاتمے تک یہ قرضہ 61 ارب ڈالر تک جا پہنچا اور پانچ سال بعد نواز لیگ کی حکومت کے اختتام کے وقت جون 2018 میں یہ حجم 95 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
ان اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو پی پی پی کے پانچ برسوں میں غیر ملکی قرضے میں 16 ارب ڈالر جبکہ نواز لیگ کے پانچ برسوں میں 34 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
وزارت معاشی امور کے مطابق مئی 2024 ءتک پاکستان کے 130ارب ڈالر کے مجموعی قرضوں میں
ایکسٹرنل پبلک ڈیٹ 86.286 ارب ڈالر ہیں
جس میں ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اور UADP کے 38.4ارب ڈالر ملٹی لیٹرل،
چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے 16.4 ارب ڈالر بائی لیٹرل،
آئی ایم ایف 8.6 ارب ڈالر،
حکومتی بانڈز 6.8 ارب ڈالر ،
کمرشل لون 5.6 ارب ڈالر ،
چین کے سیف ڈپازٹ 4 ارب ڈالر
اور ٹائم ڈپازٹ 5ارب ڈالر کے شامل ہیں
جبکہ 44ارب ڈالر کی حکومت کی گارنٹیز ہیں۔
ڈالر ایکسچینج ریٹ:
مئی 1999 سے، پاکستان مارکیٹ پر مبنی لچکدار شرح مبادلہ کے نظام پر عمل پیرا ہے۔ انٹر بینک ریٹ کا اطلاق تمام زرمبادلہ کی وصولیوں اور سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ادائیگیوں پر ہوتا ہے۔ زر مبادلہ کی شرح کا تعین ملکی انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں طلب اور رسد کے حالات سے ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کی کرنسی بھی پاکستان سے تین گنا زیادہ ہے،
فارن ایکسچینج ریزرو، ڈالر کے ذخائر:
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیر انتظام ہیں،
قومی بجٹ:
اٹھارویں ترمیم این ایف سی ایوارڈ کے بعد ریونیو کا 57٪ صوبوں کو چلا جاتا ہے۔
جس کے بعد فیڈرل حکومت پاکستان کو اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے پھر قرض لینے پڑتے ہیں۔
بجٹ خسارہ 2023-24
مہنگائی
جب مہنگائی بڑھتی ہے تو مرکزی بینک شرح سود بڑھاتا ہے، شرح سود کو نکالنے کا ٹیلر فارمولہ
قوت خرید:
دنیا بھر میں اوسط ماہانہ خالص تنخواہ:
1. سوئٹزرلینڈ 🇨🇭: $6,096
2. لکسمبرگ 🇱🇺: $5,015
3. سنگاپور 🇸🇬: $4,989
4. امریکہ 🇺🇸: $4,245
5. آئس لینڈ 🇮🇸: $4,007
6. قطر 🇶🇦: $3,982
7. ڈنمارک 🇩🇰: $3,538
8. UAE 🇦🇪: $3,498
9. نیدرلینڈز 🇳🇱: $3,494
10. آسٹریلیا 🇦🇺: $3,391
11. ناروے 🇳🇴: $3,289
12. جرمنی 🇩🇪: $3,054
15. کینیڈا 🇨🇦: $2,997
16. برطانیہ 🇬🇧: $2,924
18. فن لینڈ 🇫🇮: $2,860
20. آسٹریا 🇦🇹: $2,724
21. سویڈن 🇸🇪: $2,721
23. فرانس 🇫🇷: $2,542
25. جاپان 🇯🇵: $2,427
26. جنوبی کوریا 🇰🇷: $2,243
28. سعودی عرب 🇸🇦: $2,002
29. سپین 🇪🇸: $1,940
31. اٹلی 🇮🇹: $1,728
38. جنوبی افریقہ 🇿🇦: $1,221
44. چین 🇨🇳: $1,069
48. یونان 🇬🇷: $914
56. میکسیکو 🇲🇽: $708
59. روس 🇷🇺: $645
65. انڈیا 🇮🇳: $573
74. ترکی 🇹🇷: $486
82. برازیل 🇧🇷: $418
83۔ ارجنٹائن 🇦🇷: $415
89۔ انڈونیشیا 🇮🇩: $339
93. کولمبیا 🇨🇴: $302
97. بنگلہ دیش 🇧🇩: $255
101. وینزویلا 🇻🇪: $179
102. نائجیریا 🇳🇬: $160
103. مصر 🇪🇬: $145
104. پاکستان 🇵🇰: $145
کرپشن انڈیکس:
1995: 39
1997: 48
1999: 87
2002: 77
2008: 134
2013: 127
2018: 117
2021: 140
2022: 140
2023: 133
سالانہ معاشی ترقی (GDP GROWTH)
پاکستان کی بلند ترین زیادہ شرح نمو10.22 سنہ 1953 میں تھی جب امریکہ نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی امداد دی تھی۔
1969 میں صدر ایوب کے دور میں یہ شرح 9.79 فیصد،
1984 میں ضیا کے دور میں 8.71 فیصد اور
2004 میں مشرف کے دور میں 8.96 تک بلند شرح رہی اور ان ادوار میں پاکستان کو بیرونی امداد کثرت سے مل رہی تھی،
عالمی معیشت میں رجحانات
پاکستان کی گروتھ 2008 تا 2022
پاکستان کی رینکنگز
کارکردگی بلحاظ حکومتی ادوار:
اگست 1947 : گورنر جنرل قائد اعظم
ستمبر 1948 : لیاقت علی خان
اکتوبر 1951 : خواجہ ناظم الدین
اپریل 1953 : محمد علی بوگرہ
اگست 1955 : چوہدری محمد علی
ستمبر 1956 : حسین شہید
اکتوبر 1957 : ابراہیم چندریگر
دسمبر 1957 : فیروز خان
اکتوبر 1958 : جنرل ایوب
مارچ 1969 : جنرل یحییٰ
دسمبر 1971 : ذوالفقار بھٹو
جولائی 1977 : جنرل ضیا الحق
دسمبر 1988 : بینظیر بھٹو
اکتوبر 1990 : نواز شریف
اکتوبر 1993 : بینظیر بھٹو
فروری 1997 : نواز شریف
اکتوبر 1999 : جنرل مشرف
اکتوبر 2002 : جنرل مشرف
فروری 2008 : پیپلز پارٹی
مئی 2013 : نواز شریف
اگست 2017 : شاہد خاقان عباسی
اگست 2018 : عمران خان
اپریل 2022 : شہباز شریف
اگست 2023 : انوار الحق کاکڑ
8 فروری 2024: شہاز شریف

مسلم لیگ نون 2013 سے 2018 کا دور:
جب 2013 میں مسلم لیگ نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 63 ارب ڈالر تھا، جو 2013 سے 2014 تک گھٹ کر 60 ارب ڈالر رہ گیا۔ مگر پھر 2014 سے 2017 تک پاکستان کا بیرونی قرض 60 سے بڑھ کر 92 ارب ڈالر تک جا پہنچا، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض کا جمپ تھا۔
شروع میں مسلم لیگ کو بھی پی پی جیسے معاشی مسائل کا سامنا تھا، لیکن پھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 50 ڈالر فی بیرل تک گر گیئں۔ یہ مسلم لیگ کے لیے قدرت کی طرف سے بہت بڑا تحفہ اور معیشت بہتر کرنے کا نادر موقع تھا،
پاکستان کی بدحالی کا راز؛
پاکستان کی اگر 20 بڑی کمپنیوں کا جائزہ لیں تو ان میں اکثریت غیرپیداواری قسم کی کمپنیاں جیسا کہ بینکس وغیرہ ہیں، پاکستانیوں کے سود بارے خیالات وغیرہ سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں بینکس خوب چاندی لپیٹ لے ہیں، اس کے بعد رئیل اسٹیٹ سیکٹر ہے، پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی بھی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی بحریہ ٹاون ہے.
پاکستان آج ڈیفالٹ کے دہانے کھڑا ہے، اس کی بڑی وجہ قرضے لے کر غیر پیداواری سیاسی سکورنگ جیسے پروجیکٹس لگائے جاتے رہے، نتیجہ سامنے ہے، ملکی پیداوار نہ بڑھی جبکہ قرضوں کا حجم بڑھتا رہا، امپورٹ بڑھتی رہی ایکسپورٹ جمود کا شکار رہی، اس پر ستم پاکستان اندرونی عدم استحکام کا شکار ہو گیا ساتھ عالمی سیاست میں بھی توازن کھو بیٹھا، اور آج پاکستان آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر کھڑا ہے.
اس کے علاوہ کلائیمٹ چینج کے شکار 10 خطرناک ممالک میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے، جس سے 2050 تک پاکستان کی اکانومی 20٪ کے لگ بھگ سکڑنے کے چانسز ہیں، ابھی پچھلے سال 2022 میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے اندازہ 30 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا اور خوراک کی قیمتیں 48٪ تک بڑھ گئیں.
پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے نتائج نہایت مایوس کن ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ نے اس سال ٹریڈ اور گڈز ایگریمنٹ (TIGA) سائن کیا لیکن اس میں ٹیکسٹائل مصنوعات کو شامل نہیں کیا گیا۔ 2011 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ڈینم فیبرک پر ترکیہ نے مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو تحفظ دینے کیلئےکسٹم ڈیوٹی بڑھاکر 24 فیصد کردی جس سے پاکستان کی ترکیہ کو ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر سالانہ رہ گئی۔
پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ فیز 1 جو 2007 میں سائن ہوا تھا، پاکستان کے مایوس کن مذاکرات کے باعث یکطرفہ ثابت ہوا جس سے چین کی پاکستان کو ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا۔ چین کی پاکستان ایکسپورٹ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ پاکستان کی چین کوایکسپورٹ بمشکل 2 ارب ڈالر رہی اور اس طرح 16 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس چین کے حق میں تھا ۔ FPCCI اور وزارت تجارت نے 2019 میں پاک چین آزاد تجارتی معاہدہ فیز 2 سائن کیا جس میں ٹیکسٹائل سمیت 363 مصنوعات کو چین نے ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی اجازت دی جس سے 2021ء میں پاکستان کی چین کو ایکسپورٹ 3.5ارب ڈالر اور چین کی پاکستان کو ایکسپورٹ 23ارب ڈالر ہوگئی ۔
باہمی تجارت بڑھانے کیلئے پاکستان نے سری لنکا، ملائیشیا، انڈونیشیا، ازبکستان اور ماریشس کے ساتھ آزاد تجارتی اور ترجیحی معاہدے کئے لیکن سری لنکا کے سوا تجارت کا سرپلس دیگر ممالک کے حق میں رہا اور پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے باعث صرف ٹیکسٹائل مصنوعات سری لنکا ایکسپورٹ کرسکا۔
پاکستان کے FTA اور RTA تجارتی معاہدوں میں سب سے کامیاب یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کا GSP پلس معاہدہ ہے جس کی رو سے پاکستان 27 یورپین ممالک کو 6300 ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات بغیر کسٹم ڈیوٹی ایکسپورٹ کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں پہلے 5سال میں پاکستان کی یورپی یونین ایکسپورٹ میں 15 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پاکستان کی یورپی یونین موجودہ ایکسپورٹ 6.8ارب ڈالر اور امپورٹ 5.3 ارب ڈالر ہے جس سے باہمی تجارت 12.1 ارب ڈالر ہوگئی ہے ۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری فریم ورک (TIFA) سائن ہوا لیکن FTA سائن نہیں ہوسکا کیونکہ اس کیلئے باہمی سرمایہ کاری معاہدہ (BIT) ضروری ہے جو دنیا میں امریکی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ 2022 میں پاکستان اور امریکہ کے مابین باہمی تجارت 9.2 ارب ڈالر رہی جس میں پاکستان کی امریکہ کو ایکسپورٹ 6 ارب ڈالر اور امپورٹ 3.2 ارب ڈالر شامل ہے۔
تجزیئے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم نے مختلف ممالک کے ساتھ آزاد اور ترجیحی تجارتی معاہدے جلدی میں بغیر ہوم ورک کئے جس کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو اپنے تجارتی پارٹنرز کے ساتھ بارٹر ایگریمنٹ بھی کرنے چاہئیں تاکہ فارن ایکسچینج کی ادائیگی کے بغیر لین دین کے ذریعے بارٹر تجارت کی جاسکے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان تمام آزاد تجارتی معاہدوں کا نئے سرے سے جائزہ لے۔
مگر اس سب کے بیچ کچھ اچھی خبریں بھی ہیں، جیسا کہ ای کامرس انڈسٹری، جس میں بہتری کا رحجان ہے اور تھوڑی سے محنت سے پاکستان بآسانی 6 ارب ڈالر تک کا زرمبادلہ کما سکتا ہے، ابھی حال ہی میں پاکستان میں لانچ ہونیوالی Amazon میں پاکستانی 3 سال سے بھی کم عرصے میں نئے سیلرز کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں، جو بہت قابل ستائش ہے۔
اسی ترقی کے رحجان کو دیکھتے ہوئے Mastercard Inc (NYSE:MA) نے بھی کراچی میں اپنا دفتر کھولا ہے۔ جو آن لائن ادائیگیوں کی جدید سہولیات مہیا کرتا ہے۔
پاکستان کے ڈیجیٹل برآمدات کے زبردست پوٹینشل کے مدنظرامریکہ کی Turing جیسی کمپنیاں پاکستانی سافٹ ویئر ڈویلپرز کو ہائیر کرنا اپنے لیے منافع بخش سمجھتی ہیں۔ مزید، ٹیک کمپنیوں جیسے Alphabet Inc اور Microsoft Corporation نے طلباء کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے ہیں۔ Alphabet Inc نے پاکستانی صوبے بلوچستان میں 1000 نوجوانوں کے لیے $500,000 مالیت کے ٹیکنیکل وظائف کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ TikTok اور Alphabet Inc جیسی بڑی کمپنیاں صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب اور ضروریات کی وجہ سے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کر رہی ہیں، لیکن سیاسی عدم استحکام اور حکومت کی ناقابل اعتماد پالیسیوں کی وجہ سے کمپنیاں اب بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
حوالہ جات:
معاشی بحران کے اسباب اور حل
بھٹو نے جو نیشنلائزیشن کی تھی اس میں کیا غلط تھا؟
سیاسی صورتحال، معاشی کارکردگی اور شوگر برآمدات
معیشت: مفروضے اور ناکامیاں
معیشت: مفروضے اور ناکامیاں 2
’سیاسی مفادات‘ پر مبنی فیصلے یا ناقص حکمت عملی: پاکستانی معیشت اس نہج تک کیسے پہنچی؟
معیشت کی درستی : حسین حقانی
بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان: مختلف سمتوں میں سفر، حقیقت یا نظر کا دھوکہ ہے؟
کس حکومت نے سب سے زیادہ قرضہ لیا؟
پاکستان نے انڈیا اور بنگلہ دیش پر ٹیکسٹائل برآمدات میں برتری حاصل کرنے کا سنہری موقع کیسے گنوایا
52 برس بعد پاکستان اور بنگلہ دیش معیشت کے شعبے میں کس مقام پر کھڑے ہیں؟
پاکستان قرضوں کے چنگل میں : ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
References:
Outlook of Pakistan’s Economy Yahoo Finance
Country-wise Workers' Remittances State Bank of Pakistan
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں