Translate

اتوار، 30 مئی، 2021

جنرل ‏رانی ‏پاکستانی ‏فوج ‏کا ‏گھناونا ‏چہرہ

جنرل رانی کی کہانی
اقلیم اختر 1932 میں گجرات برٹش انڈیا میں قدامت پسند گھرانے میں پیدا ہوئی،جبکہ اقلیم بچپن میں لڑکوں والے کام کھیل کود کی شوقین تھی، اقلیم نے میٹرک میں ہی سکول چھوڑ دیا، اسکے گھر والوں نے اس کی شادی اس کی عمر سے دگنے بڑھے شخص غلام رضا سے کردی جو کراچی میں ایک پولیس افسر تھا، اقلیم رانی اس شادی سے خوش نہ تھی مگر خاندان کے دباو پر گزارہ کرتی رہی، برقع اوڑھتی رہی اور اس دوران اس کے چھ بچے بھی پیدا ہوئے،
پھر ایک دن مری کی سیر کے دوران ایک ہوا جھونکے نے اس کے چہرے سے برقع اڑا دیا برسوں سے دبی چنگاری بھڑک اٹھی، اس نے برقع اتار پھینکا اور پابندیوں کیخلاف بغاوت کردی، جس کے نتیجہ میں بالآخر شوہر سے اس کی علیحدگی ہو گی، اس نے گھر والوں سے مدد مانگی مگر گھر والوں نے مدد شوہر سے صلح سے مشروط کردی، اقلیم نے اب اپنی زندگی خود جینے کا فیصلہ کیا، یہیں سے اقلیم کی زندگی نئی کروٹ لی اور وہ اقلیم سے جنرل رانی بن گئی، 
گھر والوں سے مایوس ہو کر اقلیم نے امیر لوگوں سے تعلقات بڑھانے شروع کیے جن کو سیڑھی بناتے ہوئے بالآخر اقلیم رانی جنرل یحییٰ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی، اور اپنی صلاحیتوں اور جنرل کی شراب شباب کی کمزوری سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اقلیم رانی نے جنرل یحییٰ کو اپنا اس قدر گرویدہ بنا لیا کہ بڑے بڑے لوگ جنرل یحییٰ سے کام کروانے کیلیے اقلیم رانی سے رابطہ کرنے لگے (جنرل یحییٰ ذہین اور قابل آفیسر تھے وہ کم عمرترین میجر جنرل بھی تھے، سی ڈی اے کے چئیرمین رہ چکے تھے اور اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی تیاری میں اہم کردار نبھا چکے تھے، مگر پھر شراب اور شباب کی لت نے اسے پاکستان فوج کی تاریخ کا بدترین کردار بنا ڈالا اس نے پاکستان کو وہ ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کا ازالہ ناممکن ہے مگر طرفہ تماشہ ملاحظہ ہو پاکستان پھر بھی اسے 1980 میں اس کی موت تک تمام مراعات بشمول پنشن وغیرہ دیتا رہا اور اس کو تمام فوجی اعزازات کیساتھ دفن کیا گیا، پاکستان کی ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ غلطیوں کو تسلیم نہ کرنا اور ان غلطیوں کے مرتکب عناصر کا محاسبہ نہ کرنا بھی ہے جو قومیں ماضی سے نہیں سیکھتیں وہ کبھی بھی بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کرسکتی) اسی بدولت ان حلقوں میں اقلیم "جنرل رانی" کے نام سے مشہور ہوگئی، شاید یہ خطاب انھیں کسی گھاگ چرب زبان وکیل (بھٹو) نے عنایت کیا ہو، ملکہ ترنم نورجہاں کو جنرل یحییٰ سے ملوانے والے بھی جنرل رانی ہی تھی. ملکہ ترنم ایک طرف پاکستان کے محافظ سپاہیوں کے حوصلے بڑھاتی تھی تو دوسری طرف فیصلہ ساز جنرل کے اوسان خطا کیے بیٹھی تھی، جب جنرل شراب سے اپنی شکست لکھ بیٹھے تھے تو سپاہیوں بیچاروں کے حوصلے کیا خاک ملک کا دفاع کرتے؟ 
1971 میں یحییٰ کی تنزلی کے بعد جنرل رانی کو جیل میں ڈال دیا گیا (جنرل رانی کا کیس مشہور وکیل ایس ایم ظفر نے لڑا) بعد میں بھٹو سے ڈیل کے عوض رہا کردیا گیا (بھٹو سانحہ بنگلہ دیش سے جڑی ہر چیز یاد کو مٹا دینا چاہتے تھے یا پھر چھپا دینا دینا چاہتے تھے، 
اگر یہ ڈیل نہ ہوتی تو امید ہے بڑے بڑے نیک نام لیڈروں کے پول کھل جاتے؟
 حمود الرحمان کمیشن میں یحییٰ سے جب اقلیم اختر سے متعلق سوال کیا گیا تو یحییٰ نے کہا وہ میری بہن جیسی ہے. 
بھٹو دور میں جنرل رانی کا ابتلا کا دور تھا جنرل رانی کے راز نئی تازہ ریاست کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے تھے اس لیے جنرل رانی کو بھیگی بلی بننے پر مجبور کردیا گیا اور جنرل رانی نے بقیہ زندگی تقریباً خاموشی سے پردہ نشینی سے گزاری، نوے کی دہائی میں جنرل رانی پر مادام رانی نامی فلم بھی بن چکی ہے. 
جنرل رانی 2002 میں کینسر سے لاہور میں وفات پاگئیں، ان کے بچوں میں قابل ذکر عروسہ عالم دفاعی جرنلسٹ ہیں جو معروف پاپ سنگر فخر عالم کی ماں بھی ہیں 
اور بھارتی پنجاب کے کانگریس کے وزیراعلیٰ اور مہاراجہ پٹیالہ کے صاحبزادہ کیپٹن امریندر سے خاص دوستی کے سبب ہندو پاک میں خاصی مشہور ہیں، ہندوستان میں عرسہ عالم کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے،
یاد رہے یہی وہ عروسہ عالم ہیں جن کے بارے معروف صحافی حامد میر نے خاصا تلخ اور ذومعنی ذکر کیا ہے،



جب جب 16 دسمبر سقوط ڈھاکہ کا دن آئیگا تب تب ایسے کردار ضرور یاد آئیں گے، جنہوں نے پاکستان کی شکست کا پروانہ لکھا،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں