Translate

ہفتہ، 24 اپریل، 2021

A brief history of humankind Review

بنی نوع انسان کی مختصر تاریخ
انسان کی تاریخ تب شروع ہوئی جب انسان نے خدا بنائے
اور انسان کا تاریخ تب ختم ہو گی جب انسان خود خدا بن بیٹھے گا؛ یووال نوح ہراری
کچھ عرصہ قبل نہایت پیارے دوست نے ایک کتاب گفٹ کی، شاید زندگی میں پہلی بار کسی نے مجھے کتاب دی تھی، تہہ دل سے فہد عبداللہ کا شکریہ
بہت ہی مزیدار کتاب ہے ایسے کہہ لیں معلومات کا ذخیرہ ہے، کتاب کی خاص بات مصنف کا انداز فکر اور انداز تحریر ہے،
(ٹو دی پوائنٹ جو اکثر مغربی مصنفین کا خاصہ ہے جو ان کو باقی دنیا کے مصنفین سے منفرد بناتا ہے شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغربی مصنفین کے موضوع مغرب کے علم کے آگے پیچھے ہی گھومتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے حوالہ جات علم کے مرکز سے بہت دور محسوس ہوتے ہیں جس سے وہ اہمیت کھو بیٹھتے ہیں؟) مصنف قاری کو ہر لمحہ ہر لحظہ نئی نئ معلومات دیتا ہے اور اس کو ورطہ حیرت میں ڈالے رکھتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور قاری کسی اور دنیا میں سیر کرنے پہنچ جاتا ہے،
کتاب کا مختصر تعارف؛ 
اصل کتاب یووال نوح ہراری نے عبرانی زبان میں لکھی ہے جو اسرئیل میں 2011 میں شائع ہوئی،2014 میں کتاب انگریزی میں چھپی، جبکہ اردو میں سعید نقوی، عمر بنگش اور عقیل سومرو نے ترجمہ کیا ہے، اس کے علاوہ کتاب کا 60 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، گو کتاب میں دیئے گئے اعداد و شمار و معلومات کچھ نئے نہیں (مصنف سائنسدان نہیں بلکہ تاریخ کے پروفیسر ہیں) مگر پھر بھی کتاب دلچسپی کا سامان سمیٹے ہوئے ہے اور ہم جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے قارئین کے لیے سنسنی خیزی لیے ہوئے ہے، کتاب میں کی گئی پیشن گوئیاں کسی حد فکشن کو چھو رہی ہیں، بہرکیف کتاب بیسٹ سیلر رہی ہے، بل گیٹس کی ٹاپ ٹین فیورٹ میں ہے اور مارک زکربرگ کی پسندیدہ لسٹ پر ہے، 

کتاب کا خلاصہ:

کتاب انسانی تاریخ کا احاطہ کیے ہوئے ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کتاب حال اور مستقبل کو بھی بیان کرتی ہے (مستقبل بینی ایسی چیز ہے جس کو مصنف خیال سے مسحورکن بنا سکتا ہے اور قاری کو متاثر کرسکتا ہے، (ویسے مصنف نے مستقبل بینی پر مبنی کتاب "مستقبل کی مختصر تاریخ" بھی لکھ رکھی ہے)، زیر نظر کتاب کو محض تاریخ کی کتاب کہنا بجا نہ ہوگا. 

اگرچہ انسان اس دنیا میں لگ بھگ پچھلے 25 لاکھ سال سے موجود ہے لیکن اس نے قابل ذکر ترقی اس کے آخری ستر سالوں میں ہی کی ہے، اس عرصہ کو ہم انسان کے بیداری شعور و اہلیت کا عرصہ بھی کہہ سکتے ہیں، اور اسی حساب سے گزشتہ 24 لاکھ سالوں کو انسان کی گمنامی کا دورانیہ بھی کہہ سکتے ہیں،



سائنسی علم کسی ایک نہج پر نہیں رکتا بلکہ روز بروز نت نئی معلومات سے خود کو اپڈیٹ کرتا رہتا ہے۔ کتاب کے بیان کردہ اعدادوشمار 2011 تک کے ہیں جو بعد کی تحقیقات سے قدرے بدل بھی رہے ہیں

تقریباً 70 ہزار سال قبل انسان کے شعوری ارتقاء نے پہلی کروٹ لی، جب انسان نے اشاروں کنایوں کی بجائے لفظوں میں آپس میں بات کرنا شروع کی. اس سے ان کی آپس میں کمیونیکیشن نہ صرف بہتر ہوئی بلکہ بہت بڑھ بھی گئی جس سے انھوں نے آپس میں مسائل پر ڈسکشن کرنا شروع کی، 

انسان کی زندگی میں اہم موڑ 11 ہزار سال قبل آیا جب زمین پر بڑے جانوروں کی کمی واقع ہوئی جس سے انسان کو کھانے کے لیے گوشت کی کمی ہوئی تو اس نے سبزیوں اور گندم کو متبادل خوراک کے طور پر کھانا شروع کیا، 



اس سے زرعی انقلاب آیا، جو شکار کے جوکھم سے آزاد تھا اور جس میں کامیابی اور ناکامی کا رسک بھی کم تھا پہلے کبھی شکار ملتا تھا تو کبھی اکثر بھوکا رہنا پڑتا تھا خوراک کا حصول انسان کا مستقل درد سر تھا، زراعت سے انسان کسی طور اپنی خوراک میں خود کفیل اور آسودہ ذہن بھی ہوگیا،

جب انسان خوراک کی فکر سے آزاد ہوا تو پھر اس نے سماجی ارتقا شروع کیا، اس نے جنگلوں سے کھلے میدانوں کی طرف نقل مکانی کی، اب انسان کا دماغ تکنیک کی طرف بڑھ رہا تھا، اس نے پانی کے ذرائع ڈھونڈے اور کھیتی باڑی کے لیے زرخیز زمینیں، ان زمینوں کے اردگرد گھر بنائے، زبانیں بنائیں اور پھر سلطنتیں بنائیں، 
زراعت کے انقلاب کے بعد پھر اچانک 500 سال قبل سائنسی انقلاب آیا جس سے پندرہویں صدی کے بعد یورپ حیرت انگیز طور پر ترقی کرگیا، مگر چینی اور مسلمان اس ارتقاء کو سمجھنے سے قاصر رہے. اسی سائنسی انقلاب نے 250 سال قبل انڈسٹریل انقلاب کو جنم دیا جس نے انسانوں کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا اور انسانی ترقی کو تیزرفتار پہیے اور پر لگا دیے، یورپ میں علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے سفید فاموں کے تعصب، جبر، سپرمیسی اور اجارہ داری کو جنم دیا، 
تین عظیم دریافتوں نے ہماری دنیا بدل کر رکھ دی، 
ڈی این اے جینیات 
اور بائنری کوڈ (الگورتھم) سسٹم کمپیوٹر،
ڈارون کا نظریہ حیات اور قدرتی انتخاب کا طریقہ کار ہی غالب تھا مگر جنیٹک انجنیئرنگ نے انٹلیکچوئل ڈیزائن کی دریافت سے ڈارون کے قدرت کے فطری چناو کو مات دے دی اب انسان قدرتی چناو کی بجائے خود میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرنے کے قابل ہوگیا،

ترقی پذیر ممالک شاید نہیں جانتے کہ جنیٹک انجنیئرنگ اور سپر کمپیوٹر کا ملاپ کیا کرنے جارہا ہے، ایک دعویٰ بہت سرگرم ہے کہ شاید 2050 کے بعد ہم اپنی موت پر قادر آجائیں کہ جب چاہیں تب مریں، حادثاتی موت کو چھوڑ کر، مثال کے طور پر کیچوے کی عمر میں چھ گنا اضافہ کیا جاچکا ہے، نینو ٹیکنالوجی سے خون کے ایسے ذرات بناے جارہے ہیں جو جراثیم کے خاتمے اور کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ سکتے ہیں، مصنوعی دل گردے پھیپھڑے تک بناے جارہے ہیں، جنیٹک انجنیئرنگ سے چوہے کی پشت پر انسانی کان اگانے کا تجربہ کیا جاچکا ہے، اور معدوم شدہ میمتھ کے ڈی این اے کو ہتھنی کی بچہ دانی سے دوبارہ جنم دینے کا تجربہ ہونے جارہا ہے،
انسانوں کی بھی مختلف نسلی اقسام تھیں نینڈرتھال ہومو ایرکٹس ہوموسیپئن وغیرہ جس طرح کہ مثال کے طور پر کتوں کی اقسام ہیں ایلسیشن بل ڈاگ یا جرمن شیفرڈ، مگر باقی سب کی معدومیت کے بعد اس نوع کی واحد قسم ہم یعنی ہوموسیپئن ہی بچے ہیں، اب اگر ہم بھی خود میں مزید جینیاتی تبدیلیاں کرتے ہیں تو پھر شاید سپرمین ہماری جگہ لے لیں گے وہی سپرمین جن پر ہالی ووڈ میں فکشن فلمیں بن رہی ہیں "ایوینجرز" اور جن کا خواب دیکھتے دیکھتے نطشے مر گیا،



کتاب میں ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل ہوتے وقت ہیگل کے تھیسس اینٹی تھیسس اور سینتھیسس کا دھیان بھی ملحوظ خاطر رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں