کتاب انسانی تاریخ کا احاطہ کیے ہوئے ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کتاب حال اور مستقبل کو بھی بیان کرتی ہے (مستقبل بینی ایسی چیز ہے جس کو مصنف خیال سے مسحورکن بنا سکتا ہے اور قاری کو متاثر کرسکتا ہے، (ویسے مصنف نے مستقبل بینی پر مبنی کتاب "مستقبل کی مختصر تاریخ" بھی لکھ رکھی ہے)، زیر نظر کتاب کو محض تاریخ کی کتاب کہنا بجا نہ ہوگا.
اگرچہ انسان اس دنیا میں لگ بھگ پچھلے 25 لاکھ سال سے موجود ہے لیکن اس نے قابل ذکر ترقی اس کے آخری ستر سالوں میں ہی کی ہے، اس عرصہ کو ہم انسان کے بیداری شعور و اہلیت کا عرصہ بھی کہہ سکتے ہیں، اور اسی حساب سے گزشتہ 24 لاکھ سالوں کو انسان کی گمنامی کا دورانیہ بھی کہہ سکتے ہیں،
سائنسی علم کسی ایک نہج پر نہیں رکتا بلکہ روز بروز نت نئی معلومات سے خود کو اپڈیٹ کرتا رہتا ہے۔ کتاب کے بیان کردہ اعدادوشمار 2011 تک کے ہیں جو بعد کی تحقیقات سے قدرے بدل بھی رہے ہیں
تقریباً 70 ہزار سال قبل انسان کے شعوری ارتقاء نے پہلی کروٹ لی، جب انسان نے اشاروں کنایوں کی بجائے لفظوں میں آپس میں بات کرنا شروع کی. اس سے ان کی آپس میں کمیونیکیشن نہ صرف بہتر ہوئی بلکہ بہت بڑھ بھی گئی جس سے انھوں نے آپس میں مسائل پر ڈسکشن کرنا شروع کی،
انسان کی زندگی میں اہم موڑ 11 ہزار سال قبل آیا جب زمین پر بڑے جانوروں کی کمی واقع ہوئی جس سے انسان کو کھانے کے لیے گوشت کی کمی ہوئی تو اس نے سبزیوں اور گندم کو متبادل خوراک کے طور پر کھانا شروع کیا،
تین عظیم دریافتوں نے ہماری دنیا بدل کر رکھ دی،
ڈارون کا نظریہ حیات اور قدرتی انتخاب کا طریقہ کار ہی غالب تھا مگر جنیٹک انجنیئرنگ نے انٹلیکچوئل ڈیزائن کی دریافت سے ڈارون کے قدرت کے فطری چناو کو مات دے دی اب انسان قدرتی چناو کی بجائے خود میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرنے کے قابل ہوگیا،

ترقی پذیر ممالک شاید نہیں جانتے کہ جنیٹک انجنیئرنگ اور سپر کمپیوٹر کا ملاپ کیا کرنے جارہا ہے، ایک دعویٰ بہت سرگرم ہے کہ شاید 2050 کے بعد ہم اپنی موت پر قادر آجائیں کہ جب چاہیں تب مریں، حادثاتی موت کو چھوڑ کر، مثال کے طور پر کیچوے کی عمر میں چھ گنا اضافہ کیا جاچکا ہے، نینو ٹیکنالوجی سے خون کے ایسے ذرات بناے جارہے ہیں جو جراثیم کے خاتمے اور کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ سکتے ہیں، مصنوعی دل گردے پھیپھڑے تک بناے جارہے ہیں، جنیٹک انجنیئرنگ سے چوہے کی پشت پر انسانی کان اگانے کا تجربہ کیا جاچکا ہے، اور معدوم شدہ میمتھ کے ڈی این اے کو ہتھنی کی بچہ دانی سے دوبارہ جنم دینے کا تجربہ ہونے جارہا ہے،
انسانوں کی بھی مختلف نسلی اقسام تھیں نینڈرتھال ہومو ایرکٹس ہوموسیپئن وغیرہ جس طرح کہ مثال کے طور پر کتوں کی اقسام ہیں ایلسیشن بل ڈاگ یا جرمن شیفرڈ، مگر باقی سب کی معدومیت کے بعد اس نوع کی واحد قسم ہم یعنی ہوموسیپئن ہی بچے ہیں، اب اگر ہم بھی خود میں مزید جینیاتی تبدیلیاں کرتے ہیں تو پھر شاید سپرمین ہماری جگہ لے لیں گے وہی سپرمین جن پر ہالی ووڈ میں فکشن فلمیں بن رہی ہیں "ایوینجرز" اور جن کا خواب دیکھتے دیکھتے نطشے مر گیا،
کتاب میں ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل ہوتے وقت ہیگل کے تھیسس اینٹی تھیسس اور سینتھیسس کا دھیان بھی ملحوظ خاطر رہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں