پائی نیٹ ورک کرپٹو کرنسی ڈیجیٹل کرنسی
آجکل ہر کوئی اس نئی پائی نیٹ ورک کے بارے میں بات کررہا ہے، جیسے بٹ کوائن سے لوگ دولتمند ہوگئے تو شاید یہی صحیح وقت ہے کہ اس ایپ پے پائنیر بننے کا، یہ عام سی روش ہے جب کوئی چیز مشہور یا کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے ملتے جلتے پھر کئی آئیڈیاز آزمائے جاتے ہیں.
آجکل ہر کوئی اس نئی پائی نیٹ ورک کے بارے میں بات کررہا ہے، جیسے بٹ کوائن سے لوگ دولتمند ہوگئے تو شاید یہی صحیح وقت ہے کہ اس ایپ پے پائنیر بننے کا، یہ عام سی روش ہے جب کوئی چیز مشہور یا کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے ملتے جلتے پھر کئی آئیڈیاز آزمائے جاتے ہیں.

پہلی ترغیب یہی ہوتی ہے کہ آزمانے میں کیا حرج ہے اور وہ بھی بالکل مفت، جیسے کچھ عامل شروع میں عملیات اور پھونکوں کے کچھ پیسے نہیں لیتے مگر پھر وسانے کے بعد ایک ہی جھٹکے میں اگلی پچھلی کسر نکال لیتے ہیں، یہ تو نفسیاتی شکاریات کی شغلی سی مثال ہے لیکن ہر کوئی اندر سے امید لگائے بیٹھا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں دنیا ڈیجیٹل ہوجانیوالی ہے اور پھر جلد انکی بھی چاندی ہوجانی ہے، یہ انسان کی ابدی سائیکی ہے کہ وہ ہر لحظہ اس انتظار میں ریتا ہے کہ کب چھپر پھٹے گا، کوئی ایک چیز اس کی زندگی بدل کر رکھ دے گی وہ چیز چاہے سانڈے کا تیل ہی کیوں نہ ہو گیڈر سنگھی ہو یا پھر کوئی جیک پاٹ🤔
پائی نیٹ ورک کے دنیا بھر میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد صارفین ہو چکے ہیں۔ فی الوقت پائی نیٹ ورک کچھ بھی نہیں ہے ماسوائے اڈے بھی کھڑی بس جس کا کنڈیکٹر لاہور لاہور کی آوازیں لگائے جارہا ہے مگر نہ ابھی گاڑی کے جانے کا ٹائم معلوم ہے اور نہ منزل پر پہنچنے کی شورٹی ہے، اسی طرح پائی نیٹ ورک کی مالیت بھی ابھی صفر ہے (کچھ لوگ بیک ڈور دس ڈالر تک میں اس کا لین دین کررہے ہیں) مگر اس کے بڑھتی مقبولیت کے انوسار مستقبل میں اس کی قیمت ایک ڈالر سے دس ڈالر تک جانے کا امکان لگ ریا ہے لیکن یہ محض امکانات ہیں کیونکہ نیٹ ورک کا کرپٹو کرنسی یا بلاک چین سے ابھی دور دور تک کچھ رابطہ نہیں ہے۔
پائی نیٹ ورک کو 14 مارچ 2019 میں لانچ کیا گیا تھا اور یہ لانچ ہوتے ہی مقبول ہونا شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس کے بنانے والے بڑی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہولڈر تھے. اس کا بنیادی آئیڈیا ڈیجیٹل کرنسی کو موبائل فون ایپ کے ذریعے ممکن بنانا ہے کیونکہ کریپٹو کرنسی کی مائننگ ایک پیچیدہ کمپیوٹنگ عمل ہے جس میں خصوصی آلات پاودفل ویڈیو کارڈ وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔ جبکہ بٹ کوائن کی مائننگ اور بھی مہنگی ہے جس کے لیے بہت زیادہ مقدار میں بجلی بھی درکار ہوتی ہے۔
فی الحال فری پائی ڈیجیٹل کرنسی (جس کو ابھی کرنسی کہنا بالکل غلط ہے) کے انوسار صارفین خوشی خوشی دھڑا دھڑ ایپ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت پائی نیٹ ورک پر چار قسم کے صارفین ہیں
پائنیر یعنی حقیقی استعمال کنندہ (نان روبوٹ)
دوسرا کنٹری بیٹور جو اچھے بااعتماد صارفین کی لسٹ مہیا کرتا ہے
تیسرا جو نئے لوگوں کو پائی نیٹ ورک پر انوائٹ کرتا ہے جبکہ چوتھا صارف نوڈ جو بیک وقت پائنیر اور کنٹری بیوٹر بھی ہوتا ہے اور جو پائی نوڈ سافٹ وئیر اپنے کمپیوٹر پر چلاتا ہے. مائننگ پاور اور بڑھوتری کی شرح ریفرلز پر انحصار کرتی ہے، یعنی جتنے زیادہ لوگ آپ نے ریفر کیے ہوں گے اسی قدر آپکی مائننگ کی سپیڈ بھی تیز ہوگی، مائننگ کی سپیڈ کا فارمولا یہ ہے
(X * 25% * (0.39Pi/Hr + 0.39
یہاں x سے مراد ریفر کیے گئے لوگوں کی تعداد ہے
مثال کے طور پر اگر آپ نے دس لوگ ریفر کیے ہیں تو آپکی سپیڈ درج ذیل ہوگی
10 * 25% * (0.39Pi/Hr + 0.39) = 1.975 Pi/Hr (1.975 Pi coins per hour)
اگر درحقیقت میں اس نیٹ ورک کو کرپٹو گرافی سے لنک کیا جاتا ہے تو جلد یہ فری پائی ارننگ روکی جا
سکتی ہے (بلاک چین کرنسی کا نیٹ ورک جو کرپٹو گرافی کیساتھ
لنک اور محفوظ ہوتا ہے)،
کرپٹو کرنسی دراصل کرپٹو گرافی سے تیار کی گئی کرنسی ہے اور ڈیجیٹل کرنسی ہونے کے باوجود ڈیجیٹل کرنسی سے خود کو اس طرح جدا کرتی ہے کہ اس پر کسی کا ڈائریکٹ اختیار نہیں ہوتا ہے اس تک رسائی محض خفیہ کوڈ کے ذریعہ سے ہی ممکن ہوتی ہے رقم کی ترسیل ان کوڈز کے ذریعے ہی ہوتی ہے ترسیل کے ریکارڈ کو بلاک چین میں دیکھا جاسکتا ہے مگر بھیجنے اور وصول کرنے والے کی شناخت پوشیدہ ہوتی ہے،مگر بلاک چین کے ریکارڈ میں کوئی ہیرا پھیری تبدیلی نہیں کرسکتا،
بٹ کوئن 2009 میں لانچ کیا گیا تھا (اس کو کسی نامعلوم شخص یا کسی گروپ نے تشکیل دیا تھا۔ اس فرد یا گروپ کو 'ساٹوش ناکاموٹو‘ کا نام ضرور دیا گیا لیکن حقیقت اب تک معلوم نہیں) اور اس کو حقیقت سمجھنے میں لوگوں کو سال لگے مگر بٹ کوائن کی کامیابی کے بعد اب لوگ ڈیجیٹل کرنسی کو کم از کم حقیقت تصور کرنے لگے ہیں اور ایلون مسک کی 1.5 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کے بعد تو بٹ کوائن کو جیسے سپر سونک پر لگ گئے ہیں اس وقت ایک بٹ کوائن کی قیمت 49 ہزار ڈالر تک جا پہنچی ہے جو پاکستانی روپوں میں 78 لاکھ روپے بنتی ہے، اس وقت دنیا میں پونے دو کروڑ سے زیادہ بٹ کوائن گردش کررہے ہیں بقول اس کے موجد کے دو کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن مائن کیے جاسکیں گے اور جوں جوں ان کی تعداد بڑھتی جائے گی مزید مائننگ مشکل ہوتی جائے گی،
کرپٹو کرنسی دراصل کرپٹو گرافی سے تیار کی گئی کرنسی ہے اور ڈیجیٹل کرنسی ہونے کے باوجود ڈیجیٹل کرنسی سے خود کو اس طرح جدا کرتی ہے کہ اس پر کسی کا ڈائریکٹ اختیار نہیں ہوتا ہے اس تک رسائی محض خفیہ کوڈ کے ذریعہ سے ہی ممکن ہوتی ہے رقم کی ترسیل ان کوڈز کے ذریعے ہی ہوتی ہے ترسیل کے ریکارڈ کو بلاک چین میں دیکھا جاسکتا ہے مگر بھیجنے اور وصول کرنے والے کی شناخت پوشیدہ ہوتی ہے،مگر بلاک چین کے ریکارڈ میں کوئی ہیرا پھیری تبدیلی نہیں کرسکتا،
بٹ کوئن 2009 میں لانچ کیا گیا تھا (اس کو کسی نامعلوم شخص یا کسی گروپ نے تشکیل دیا تھا۔ اس فرد یا گروپ کو 'ساٹوش ناکاموٹو‘ کا نام ضرور دیا گیا لیکن حقیقت اب تک معلوم نہیں) اور اس کو حقیقت سمجھنے میں لوگوں کو سال لگے مگر بٹ کوائن کی کامیابی کے بعد اب لوگ ڈیجیٹل کرنسی کو کم از کم حقیقت تصور کرنے لگے ہیں اور ایلون مسک کی 1.5 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کے بعد تو بٹ کوائن کو جیسے سپر سونک پر لگ گئے ہیں اس وقت ایک بٹ کوائن کی قیمت 49 ہزار ڈالر تک جا پہنچی ہے جو پاکستانی روپوں میں 78 لاکھ روپے بنتی ہے، اس وقت دنیا میں پونے دو کروڑ سے زیادہ بٹ کوائن گردش کررہے ہیں بقول اس کے موجد کے دو کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن مائن کیے جاسکیں گے اور جوں جوں ان کی تعداد بڑھتی جائے گی مزید مائننگ مشکل ہوتی جائے گی،
بٹ کوائن کے پائینر بٹ کوائن وہیل بن چکے ہیں جو ٹوٹل کوائنز کے چالیس فیصد شئیر کو کنٹرول کرتے ہیں بٹ کوائن کے لین دین کے درست اندراج اور ریکارڈ مہیا کرنے کے نتیجہ میں بٹ کوائن جنم لیتا ہے نیا بٹ کوائن دریافت کرنے والے کو مائنر کہتے ہیں ایک بلاک چین کا درست ریکارڈ مہیا کرنے والے مائنر کو سسٹم چھ بٹ کوائن دیتا ہے اور مائنر اس طرح طاقتور کمپیوٹرز کیساتھ اس دوڑ میں جتے رہتے ہیں جس کے لیے بہت زیادہ پروسیسنگ اور بہت زیادہ بجلی بھی لگ رہی ہوتی ہے اس سب کے باوجود مائنر کو بٹ کوائن جیتنے کے لیے قسمت بھی چائیے ہوتی ہے
ٹیسلا کے علاوہ ماسٹر کارڈ جیسی کمپنیاں بھی اب بٹ کوائن سے خرید و فروخت کررہی ہیں مزید بینک آف نیویارک، بینک آف انگلینڈ میلون کارپوریشن اور ٹویٹر بھی بٹ کوائن ادائیگی سپورٹ کرنے پر غور کررہے ہیں

اس سے پہلے 2017 میں بٹ کوائن کی قیمت بہت زیادہ بڑھ کر بہت ہی کم (چین کی پابندی کے نتیجہ میں) بھی ہوچکی ہے، اس لیے اس کی قیمت کے استحکام کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے، (لین دین کے لیئے بیس کوائن ایپ استعمال کی جاسکتی ہے)۔

بٹ کوائن کے علاوہ بھی کافی کرپٹو کرنسیز مارکیٹ میں موجود ہیں، کرپٹو کرنسی کو مستقبل کی کرنسی قرار دیا جا رہا ہے، جو ایک طرف ہارڈ کیش کی پرنٹنگ اور ہینڈلنگ سے جان چھڑوائے گی تو دوسری طرف منی لانڈرنگ، پیسے کی چوری اور کرپشن کو مانیٹر کرنے کا موثر ذریعہ سمجھی جارہی ہے۔ کرپٹو کرنسی بینکس کے ریکارڈ بلڈنگز وغیرہ سے بھی آزاد ہو گی اور اس پر کسی کی انتظامی وغیرہ ملکیت بھی نہ ہو گی مستقبل میں دنیا بہت تیز رفتار ترقی کرنے جارہی ہے تو جس کو چلانے کے لیئے پھر تیز رفتار کرنسی کی بھی ضرورت ہو گی جو بلاشبہ کرپٹو کرنسی کی صورت میں ہی نظر آرہی ہے۔
یہ کائنات جب سے وجود میں آئی ہے مسلسل سفر میں ہے اس کائنات میں دوام فقط ارتقا کو ہی ہے، مستقبل میں کامیاب وہی قومیں رہتی ہیں جو مستقبل کے فیصلے آج کرلیتی ہیں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کررہی ہے کہ مستقبل میں کرنسی کا تصور بدل سکتا ہے اسی لیئے بڑے بڑے ممالک مستقبل کی پیش آئندہ کرنسی پر سبقت لینے جانا چاہتے ہیں امریکن ڈالر پچھلے سو برس سے اس دنیا پر حکمرانی کررہا ہے اور اس حساب سے سب سے زیادہ فکر بھی امریکہ ہی کو ہے اور امریکہ پہلے ہی میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مل کر اس نئی ڈیجیٹل کرنسی پر کام کربھی رہا ہے، مغرب اور امریکہ کا مستقبل کا ٹیکنالوجی حریف چین بھی ڈیجیٹل یوآن پر کام کر رہا ہے اور چین 2022 تک اس ڈیجیٹل کرنسی کو لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ جلد سے جلد امریکن ڈالر اور اجارہ داری کو چیلنج کر سکے، اسی طرح تجارتی دنیا کا تیسرا بڑا پلئیر یورپی یونین بھی اپنی ڈیجیٹل کرنسی لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ڈالر کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ریزرو یورو کے ہیں فیس بک بھی 2019 میں اپنی لبرا کرنسی لانچ کرنے کا اعلان کرچکا ہے
دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں بٹ کوائن سکے پروڈیوس کیے جارہے ہیں اور محتاط اندازے کیمطابق دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ ویلیو 400 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، پاکستان میں گو ڈیجیٹل کرنسی پر پابندی نہیں ہے مگر اس کو بنانے بیچنے اور کاروبار کرنے والوں کو نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تیاری بھی نہیں کی جارہی اس سال کے شروع میں خیبر پختونخواہ حکومت نے دو کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن مائننگ) پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈیجیٹل کرنسی بنانے کے لیے نجی کاروباری افراد کو این او سی بھی جاری کیے جائیں گئے پاکستان کریپٹو ایکسچینج اردو بٹ پر بھی پابندی عائد کرچکا ہے حالانکہ ڈالر کی گھٹتی بڑھتی قیمت کے پیش نظر پاکستانی کرپٹو کرنسی کو متبادل کے طور پر لے رہے تھے،ڈیجیٹل کرنسی سٹیٹ بینک کی 2025 تک کی پالیسی اہداف میں شامل ہے، پاکستان کے پاس بٹ کوائن تیار کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے ، ہمارے پاس بہترین ماہرین ہیں جو صرف تین سے چار ہزار ڈالر میں بٹ کوائن تیار کرسکتے ہیں جس کی قیمت عالمی سطح پر اس وقت بارہ ہزار امریکی ڈالر ہے یعنی ایک بٹ کوائن پر آٹھ ہزار ڈالر کا نفع حاصل کیا جاسکتا ہے پاکستان کے پاس اس وقت اضافی بجلی بھی موجود ہے حتی کہ پاکستان پہلے سے کیے گئے معاہدوں کی وجہ سے خود اس بجلی کو استعمال بھی نہیں کرسکتا تو پھر اس اضافی بجلی سے پاکستان اربوں ڈالر مالیت کے بٹ کوائن پروڈیوس کرسکتا ہے لیکن وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور بھارت میں نہ صرف بٹ کوائن کی تیاری کا کام شروع ہوچکا ہے بلکہ بٹ کوائن سمیت دیگر کرنسیوں کی ٹریڈنگ پر بھی کام جاری ہے
کرپٹو ڈیجیٹل کرنسی مستقبل کی کرنسیاں ہیں اور ان کی بہت زیادہ خصوصیات ہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سب اچھا ہی ہے، ڈیجیٹل کرنسیز کے اپنے کئی مسائل ہیں، حتیٰ کہ یہ ابھی عام المستعمل بھی نہیں ہوئی پھر بھی اس کے کچھ مضمرات عیاں ہورہے ہیں، اس کرنسی کو تیار کرنے پر بہت توانائی صرف ہوتی ہے، کرنسی کسی غلط لنک سے ہیک کی جاسکتی ہے یاپھر پاس ورڈ بھولنے کی صورت میں اپنی جمع پونجی سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھونے پڑسکتے ہیں، آن لائن لین دین کی بدولت یہ کرنسی بلیک مارکیٹ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے حال ہی میں بھارت میں اغوا کاروں نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیئے تاوان میں 100 بٹ کوائن کا مطالبہ کردیا تھا،
ڈیجیٹل کرنسی کن ممالک میں رائج العمل ہو چکی ہے
ایل سلواڈور پہلا ملک تھا جس نے ستمبر 2021 میں ڈیجیٹل کرنسی کو نافذالعمل کرنسی بنایا تھا،
امریکہ 2013 سے بٹ کوائن کرنسی کو مانیٹر کررہا ہے اور اپنے لوگوں کو اس سے متعلق گائیڈ کر رہا ہے۔ وزارت خزانہ کیمطابق ڈیجیٹل کرنسی کو موجودہ کرنسی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
یورپی یونین ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کو غیر قانونی نہیں قرار دیتی لیکن بوجوہ وہ اس پر کسی قسم کا کنٹرول نہیں رکھتی اس لیے وہ اپنے شہریوں کو اس کے ممکنہ رسک سے خبردار ضرور کرتی ہے. جنوری 2022 یوروپی سیکورٹیز اینڈ مارکیٹس اتھارٹی کے وائس چیئر نے موسمیاتی خطرات اور اثاثہ جات کے عدم ثبوت کے طور پر ڈیجیٹل کرنسی پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔
کینیڈا نے گو اس کو اپنایا نہیں لیکن پھر بھی ڈیجیٹل کرنسی سے دوستانہ برتاو اختیار کیا ہوا ہے.کینیڈا کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو منی سروس بزنس سمجھتا ہے۔
کینیڈا کی طرح، آسٹریلیا بھی بٹ کوائن کو مالیاتی اثاثہ سمجھتا ہے۔ اگر آپ اس میں تجارت کرتے ہیں، لین دین کرتے ہیں، فروخت کرتے ہیں، تحفہ دیتے ہیں، اسے کرنسی میں تبدیل کرتے ہیں، یا خریداری کے لیے بٹ کوائن استعمال کرتے ہیں، تو آپ پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کو بٹ کوائن میں لین دین کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ہے۔
کئی دوسرے ممالک Bitcoin کو لین دین میں استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور انہوں نے اس کے لیے کچھ قانین بنا رکھے ہیں۔:
ڈنمارک
فرانس
جرمنی
آئس لینڈ
جاپان
سپین
برطانیہ
میکسیکو
میکسیکو نے بٹ کوائن کی مقبولیت کے مدنظر سینیٹ میں بٹ کوائن اے ٹی ایم مشین علامتی طور پر نصب کی ہے اس سے پہلے ملک میں 13 اے ٹی ایم مشینیں لگ چکی ہیں. بٹ کوائن اے ٹی ایم بھی عام اے ٹی ایم کی طرح ہی کام کرتی ہے جہاں سے لوگ بٹ کوائن کے بدلے مقامی کرنسی کے نوٹ نکالے جاتے ہیں. میکسیکو بٹ کوائن کو تیزی سے اپنانے کی طرف گامزن ممالک میں سے ہے
دنیا کی تقریبا" سبھی ممالک ڈیجیٹل کرنسی کی اہمیت سمجھتے ہیں اور اسے مستقبل کی کرنسی قرار دیتے ہیں اس کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں لیکن کچھ قانونی پیچیدگیاں جیسا کہ اس پر کنٹرول اور اس کی نقل حرکت اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کے ڈر سے اس کو اپنانے سے کتراتے ہیں۔ 42 کے قریب ممالک ایسے ہیں جنہوں نے بٹ کوائن پر جزوی پابندیاں لگا رکھی ہیں جبکہ 9 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل کرنسی پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں ان میں چین قطر بنگلہ دیش مصر عراق جیسے اہم ممالک بھی شامل ہیں۔
پاکستان کرپٹو کرنسی کے حوالے سے گومگو کی صورتحال کا شکار ہے، بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ اس پر بات چیت ہورہی ہے، کہ باقی دنیا سے پیچھے نہ رہ جایں، کیونکہ ڈیجیٹل کرنسی مستقبل کی کرنسی اور جدید ٹیکنالوجی کی کرنسی ہے. ڈیجیٹل کرنسی کا انکار دراصل جدید ٹیکنالوجی کا انکار ہے.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں