Translate

پیر، 11 جنوری، 2021

Whatsapp vs Signal vs Telegram

واٹس ایپ کی نئی پالیسی

ہر عروج کو زوال ہے، وٹس ایپ کا صارفین کے ڈیٹا کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے اعلان پر لوگ تیزی سے متبادل ایپ کی طرف جارہے ہیں
وٹس ایپ 2009 میں یاہو کے دو سابق ملازمین برائن آکٹن اور جان کوم نے مل کر بنائی تھی اس کا نام انگریزی کے تلفظ واٹس اپ what's up سے اخذ کیا گیا شروع شروع میں ایپ بار بار کریش کر جاتی تھی جس سے تنگ آکر کوم نے اس پروجیکٹ کو چھوڑنے کا سوچا مگر آکٹن نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور چند ماہ اور کوشش کی ترغیب دی. 
جان کوم یوکرائن میں ایک یہیودی گھرانے میں پیدا ہوئے اور بعدازاں امریکہ منتقل ہوگئے جہاں کوم کمپیوٹر پروگرامنگ سے منسلک ہوگئے یہیں 1997 میں وہ برائن آکٹن سے ملے اور دونوں دوست بن گئے دونوں نے یاہو کو جوائن کیا اور یاہو کو چھوڑنے کے بعد 2007 میں فیس بک کو نوکری کے لیے درخواست دی. فیس بک نے دونوں کو نوکری دینے سے انکار کردیا. 2009 میں کوم نے واٹس ایپ بنائی اور برائن آکٹن کو بھی ساتھ ملا لیا.  
شروع میں ان کو کچھ خاص کامیابی نہیں ہوئی مگر بعدازاں واٹس ایپ مقبول ہوئی۔ مارک زکربرگ نے کوم کو ڈنر پر بلایا اور کوم کیساتھ ڈیجیٹل ایپ کی دنیا کی سب سے بڑی ڈیل کی۔  اور 2014 میں واٹس ایپ کو فیس بک نے بعوض 19 ارب ڈالر کے خرید لیا جو ڈیجیٹل دنیا کی تاریخ کی کسی ایپ کو دی جانے والی سب سے بڑی آفر تھی. اس وقت واٹس ایپ کے 60 کروڑ ازیوزر تھے جبکہ اب واٹس ایپ کے 2 ارب کے قریب ازیوزر ہیں. 
نئی پالیسی کیمطابق وٹس ایپ اپنا ڈیٹا نہ صرف فیس بک کیساتھ شئیر کرے گا بلکہ فیس بک سے منسلک تھرڈ پارٹی کمپنیاں بھی اسے استعمال کرسکیں گی جسے وہ کمپنیاں اپنے کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کریں گی. وٹس ایپ ڈیٹا فیس بک ڈیٹا سرورز پر سٹور ہوگا
نئی پالیسی کے مطابق وٹس ایپ موبائل کی معلومات بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات حاصل کرنے کا حقدار ہوگا
البتہ واٹس ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکریپٹڈ پیغامات کہیں اور نہیں دیکھے جا سکتے اور نہ ہی انہیں کسی کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ واٹس ایپ کے بزنس اکاؤنٹ والے اور ویب ورژن والے نمبرز پہلے ہی گوگل سرچ پر شامل ہوچکے ہیں. 
واٹس ایپ نے اس نئی پالیسی کو قبول کرنے کے لیے صارفین کو آٹھ فروری تک کا وقت دیا ہے اس کے بعد قبول نہ کرنے والے صارفین کا اکاونٹ بند کردیا جائے گا. 
لیکن اگر کوئی صارف واٹس ایپ کو چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کو پہلے اپنا واٹس ایپ اکاونٹ ڈیلیٹ کرنا ہوگا وگرنہ صرف ایپ ان انسٹال کرنے سے اس کی معلومات اور ڈیٹا واٹس ایپ کے پاس محفوظ رہے گا۔ اس لیے ایپ ڈیلیٹ کرنے سے پہلے واٹس ایپ کی سیٹنگ میں جا کر پہلے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ ضرور کیجیے. 
کیا یہ صحیح وقت ہے کہ متبادل میسج سروس ایپ پر منتقل ہوا جائے اور واٹس ایپ کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جائے؟ 
متعدد عالمی شخصیات نے بھی اپنے فالورز کو سگنل استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے جن میں ٹیسلا کار بنانے والی کمپنی کے بانی اور دنیا کے امیرترین آدمی ایلون مسک اور صحافی ایڈورڈ سنوڈن بھی شامل ہیں

متبادل میسج سروس ایپز

سگنل فی الحال بالکل مفت نان پرافٹ ایپ ہے. 


واٹس ایپ کے نئی پالیسی تنازعہ کے بعد سب سے زیادہ فائدہ سگنل ہی کو ہوا ہے اب تک سگنل دنیا میں سب سے زیادہ ڈاونلوڈ کی جانیوالی ایپ بن چکی ہے. واٹس ایپ کا خالق برائن آکٹن بھی سگنل سے منسلک ہے. 
اس میں میسج ڈیلیٹ کے لیے مختلف چیٹز کے لیے مختلف ٹائم سیٹ کرسکتے ہیں جو پانچ سیکنڈ سے ایک ہفتے تک کا ہوسکتا ہے جتنا وقت آپ اپنے پاس کنورسیشن پر سیٹ کریں گے وہی وقت آپ کے ساتھی کی ایپ پر بھی لگ جائے گا. اس کا سب سے بہترین آپشن میسج ایکسپٹ کا ہے جس کے تحت آپ اجنبی مسیجز سے بچ سکتے ہیں اور دوسرا بہترین آپشن سکرین سیکیورٹی ہے یہ دوسری ایپس کو آپ کی چیٹ کے سکرین شاٹ لینے سے روکتی ہے ایک اور اچھا آپشن ہے کہ کوئی آپ کو آپکی مرضی کے بنا کسی گروپ میں شامل نہیں کرسکتا گروپ میں شامل ہونے کے لیے ریکوئسٹ ایکسپٹ کرنا ہوگی اس میں سیکرٹ کے ذریعے کال کی سہولت ہے جس آپکی کال کوئی مانیٹر نہیں کر سکے گا. سیکیورٹی کے اعتبار سے یہ بہترین ایپ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے اسنوڈن جیسا امریکہ کو مطلوب مشہور جاسوس بھی استعمال کررہا ہے

ٹیلیگرام بھی مفت میسج سروس ایپ ہے


ٹیلیگرام میں آپ میسج کا ڈیلیٹ ٹائم ایک سیکنڈ سے ایک ہفتے تک سیٹ کرسکتے ہیں ٹیلیگرام سے آپ 1.5 جی بی تک فائلیں بھیج سکتے ہیں گروپ میں 2 لاکھ لوگ شامل کرسکتے ہیں ، فائلیں ڈاؤن لوڈ کیے بغیر آگے فارورڈ کرسکتے ہیں ، شیڈول میسیجز ، آرکائیو چیٹس کرسکتے ہیں۔  ٹیلیگرام صارف کو نام یا فون نمبر سے ڈھونڈ سکتے ہیں میسیجز کو ایڈٹ کرسکتے ہیں۔  اس کی اچھی بات یہ شئیر کیے گئے میسجز کے اصل مالک کو بھی ظاہر کرتا ہے اس کی اچھی بات اس کا اپنا ڈیٹا بیک اپ سسٹم ہے جس کے لیے تھرڈ پارٹی کی ضرورت نہیں ہے یہ اگرچہ مفت ہے مگر اتنی بڑی سروس کو چلانے کے لیے اشتہار وغیرہ چلائے جاسکتے ہیں یا لوگوں کو اچھے اور ایڈ فری پیڈ سروس کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے
ٹیلیگرام روسی ایپ ہے سیکیورٹی کے اعتبار سے یہ اتنی اچھی ایپ نہیں ہے کیونکہ اس کی چیٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ نہیں ہوتی بلکہ سرور پر کہیں بیچ میں ڈی کوڈ کرکے پڑھی جاسکتی ہے لیکن فیچرز اور آپشنز کے اعتبار سے بلاشبہ یہ بہترین ایپ ہے
اور آخر میں ایک پاکستانی میسج سروس ایپ کا ذکرِ خیر 
پاکستان کا اپنا مسینجر ٹیلو ٹاک
یہ ایپ بھی بالکل فری ہے اور گوگل پلے سٹور پر دستیاب ہے جو تقریباً سبھی اچھے فیچر رکھتی ہے جو کہ مشہور انٹرنیشنل میسج ایپ رکھتی ہیں اور اسے اب تک تقریباً دس لاکھ سے زائد پاکستانی ڈاونلوڈ بھی کرچکے ہیں اور مزید برآں واٹس ایپ پالیسی تنازعہ کے بعد اس کے ڈاونلوڈ میں دو سو فیصد تیزی بھی آئی ہے اس میں ٹیکسٹ وائس اور ویڈیو میسج کال کے آپشن موجود ہیں اس میں چیٹ رومز کی سہولت بھی موجود ہے اس کے میسج ایپ کے اندر ہی محفوظ ہوتے ہیں ٹیلو ٹاک ایک میسج ایپ ہونے کیساتھ ساتھ کئی کارپوریٹ قسم کے فیچر بھی رکھتی ہے جیسے خبریں پڑھ سکتے ہیں ٹی وی چینلز لنکس کھول سکتے ہیں ڈرامے فلمیں دیکھ سکتے ہیں آن لائن بینکنگ کھانے کا آرڈر دے سکتے ہیں ٹیلوٹاک میں انگریزی اردو پنجابی سندھی بلوچی پشتو سرائیکی کی بورڈز دستیاب ہیں البتہ ایپ میں ابھی کچھ بہتری کی گنجائش بھی موجود ہے جیسے اس کی میسج ڈلیوری فی الوقت بہ نسبت درج بالا ایپ کے سست ہے سوائپ ریپلائی دستیاب نہیں ہے اور اس کے میسج بیک اپ کلاوڈ پر بھی محفوظ نہیں ہوتے. 
یہ ایپس فی الحال تو فری ہں مگر مستقبل میں صارفین اور لوڈ بڑھنے کی صورت میں کیا روش اختیار کرتی ہیں یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں