Translate

پیر، 16 ستمبر، 2019

Pink Salt Pakistan in Urdu

گلابی نمک

کھیوڑہ نمک کی کان میں دنیا کے دوسرے بڑے نمک کے ذخائر ہیں جن کا تخمینہ نو کروڑ ٹن سے ساٹھ کروڑ ٹن کے درمیان ہے۔ نمک کی موجودگی کی دریافت کا سہرا اندازا تین سو قبل مسیح اسکندر کی فوج کے گھوڑوں کے سر باندھا جاتا ہے جنہیں جب چگنے کے لیے کھیوڑہ کے میدانوں میں چھوڑا گیا تو انھوں نے وہاں کی زمین کو چاٹ کر نمک کی موجودگی کی نشاندہی کی. یہاں سے نمک کی باقاعدہ تجارت بعد ازاں مغل دور میں ہوئی۔انگریزوں نے اس کے مائننگ سسٹم کو سائنسی بنیادوں پر اپ گریڈ کیا اور اسمگلنگ پر بھی قابو پایا

کھدائی کے دوران ایک بہت پرانی فوسل شدہ لکڑی بھی ملی جس کو تحقیق کے لیے ادھر ہی اسی حالت میں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ 
  
پوٹھوہار رینج ہمالیہ سے بارہ سو کلو میٹر دور ہے

نمک کے تین رنگ ہوتے ہیں گلابی سفید اور لال. گلابی نمک میں میگنیشیم، لال میں آئرن جبکہ سفید سوڈیم کلورائیڈ پایا جاتا ہے. پاکستان سے نکلنے والا گلابی نمک صحت کے لیے بہت کارآمد پایا گیا ہے. 
 پاکستان اس وقت ساڑھے تین لاکھ ٹن کے قریب سالانہ نمک نکال رہا ہے جو کہ کل ذخائر کے مدنظر بہت کم پیداوار ہے۔ پاکستان دنیا کے دوسرے بڑے نمک کے ذخیرے کا مالک ہونے کے باوجود دنیا میں نمک ایکسپورٹ کرنے میں بیسویں نمبر پر ہے۔ پاکستان بھارت کو خام نمک  (امرتسر میں ایسے کارخانے کام کررہے ہیں جو پاکستانی گلابی نمک کی کوہ ہمالیہ کے نام سے پیکنگ کا کام کررہے ہیں) تین روپے کلو کے ریٹ پر ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ بھارت آگے اسی نمک کو ھمالیہ نمک کے نام سے پیکنگ کر کے ایک سو پچیس روپے کلو کے ریٹ پر عالمی منڈی کو ایکسپورٹ کردیتا ہے۔ نمک کی پھر مزید پراسسنگ کر کے عالمی منڈی میں اس کی قیمت پانچ سو سے پندرہ سو تک پہنچ جاتی ہے۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان ڈائریکٹ عالمی سرمایہ داروں کو اپنا نمک کیوں نہیں بیچتا اور کثیر زرمبادلہ کیوں نہیں کماتا؟
"جواب ایک ہی ہے "نااہلیت
سب سے پہلے تو پاکستانی حکام اپنے ذاتی فوائد کے لیے ایکسپورٹ کے نظام کو اتنا مشکل اور پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ بیرونی سرمایہ کر ان سے تجارت کی بجائے یہی چیزیں مہنگے نرخوں پر دوسرے ممالک سے خریدنا مناسب اور آسان سمجھتا ہے 
دوسرا مسئلہ پاکستان میں عالمی معیار کی پیکنگ اور پراسسنگ یونٹ بنانے ہوں گے
تیسرا مسئلہ پاکستان کو اپنے برانڈ کو عالمی سطح پر پروموٹ کرنا ہو گا اور ان ممالک کی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی جو پاکستانی نمک کو کو عالمی منڈی میں بیچ رہے ہیں
چوتھا مسئلہ جدید ٹیکنیکس کو اپنانا ہو گا اور کچھوے کی چال چلنا بند کرنا ہو گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں