Translate

ہفتہ، 17 اگست، 2019

United Nations and Kashmir Issue

کشمیر کا مسئلہ اور اقوام متحدہ 

یوں تو سیکیورٹی کونسل کے ارکان کی تعداد پندرہ ہے مگر مستقل اور ویٹو رکھنے والے ارکان پانچ ہیں. کسی قراداد کو اگر کوئی مستقل ممبر ویٹو نہ کرے تو پاس کروانے کے لیے کم از کم نو ووٹ درکار ہوتے ہیں. کشمیر مسئلہ پر آج سیکورٹی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس ہو رہا ہے. جس طرح جلدی میں سیکیورٹی کونسل نے کشمیر کے مسئلہ پر اجلاس بلایا ہے اس سے معاملے کی اہمیت اور نزاکت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے.اجلاس سے کوئی بڑا بریک تھرو بھلے نہ ہو مگر اتنی پیش رفت ضرور ہوگی جو دو ایٹمی طاقتوں کو مستقبل قریب میں جنگ سے دور رکھ پائے گی. اگر زیادہ گہرائی میں دیکھیں تو اصل معاملہ اور اس کا منطقی حل صرف دو مستقل ارکان امریکہ اور روس کے رویے پر منحصر ہے. گو برطانیہ اور فرانس بھی مستقل ارکان ہیں مگر ان دونوں کا فیصلہ بھی امریکہ کے رویے پر ہی منحصر ہے کیونکہ نیٹو اتحادی ہونے کے سبب ان دونوں ممالک کے مفادات امریکہ کے مفادات سے منسلک ہیں. جبکہ چائنہ کی پوزیشن اس تنازعہ میں اس وقت فریق کی سی بن چکی ہے

امریکہ کی جنوبی ایشیا کی پالیسی اور چین سے چپقلش؟ 

امریکہ نے جنوبی ایشیا میں چائنہ کے بڑھتے اثرورسوخ کے پیش نظر اپنی پرانی پالیسی پر یوٹرن لیتے ہوئے انڈیا کو اپنا سٹریٹجک پارٹنر بنانے کی پالیسی بنائی. اور پاکستان کیساتھ پچاس سالہ تعلقات کو پس پشت ڈالتے ہوئے انڈیا کو علاقے کا تھانیدار بنانے کی کوششیں شروع کردیں. جس کے پیش نظر زمینی حقائق کے برعکس جاکر امریکہ نے انڈیا کو افغانستان میں فیصلہ کن کردار دیا تاکہ انڈیا اپنا اثر رسوخ وسطی ریاستوں تک پہنچائے اور چائنہ روس کا کنٹرول کم سے کم سطح تک لایا جاسکے امریکہ کو چائنہ کے سی پیک اور ون بیلٹ روٹ پر شدید تحفظات ہیں اس کی نظر میں چائنہ کے اس کے پیچھے تجارتی اجارہ داری اور علاقائی اثر رسوخ بڑھانا بھی ہے


چائنہ کا سی پیک روٹ اور ون بیلٹ اینڈ روڈ کا نقشہ


امریکہ انڈیا کو چائنہ کے آگے ڈھال بنا کر اس کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے خاص کر  امریکہ نے انڈیا کو افغانستان میں کلیدی کردار دینے کی کوشش کی مگر انڈیا افغانستان میں امریکہ کے عزائم کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہوا. جس کی وجہ بالآخر امریکہ کو ایک بار پھر یوٹرن لیتے ہوئے افغانستان میں دوبارہ پاکستان کو کردار دینا پڑا اور افغان جنگ سے نکلنے کے لیے پاکستان سے مدد مانگ لی. جس پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید ہوئی اور یہاں تک کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر پاکستان کے ہاتھوں بیوقوف بننے جارہے ہیں اور انڈیا پر کی گئی ساری محنت کو رائیگاں کرنے جارہے ہیں. دوسری طرف ٹرمپ کے کشمیر سے متعلق بیان نے انڈیا کے ایوانوں میں تھرتھلی مچادی اور مودی کی سیٹی گم ہوگی مودی کو اپنے عوام اور اپوزیشن کو جواب دینا مشکل میں پڑ گیا اور حالیہ پیش رفت (370) کو مودی کا جواب ہی کہا جاسکتا ہے. کچھ ماہرین کیمطابق یہ سب پری پلانڈ تھا. انڈیا افغانستان سے کشمیر کی قیمت پر نکلا جبکہ پاکستان کو افغانستان میں کردار بھی کشمیر کی قیمت پر ہی دیا گیا ہے. ایل او سی کی بنیاد پر شاید ایک ڈپلومیٹک حل پہلے سے پلانڈ ہے کوئی بڑا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ سب کچھ اس کی ریہرسل کی جارہی ہے پاکستانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو اس کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے. اس طرح امریکہ پاکستان انڈیا کو بیک وقت راضی رکھتے ہوئے خطے میں اپنے مفادات کی جانب ایک حتمی قدم اٹھانا چاہتا ہے. جہاں عربی خطہ پر پہلے ہی اپنی گرفت مضبوط کرچکا ہے. اب وہ افغانستان سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک اپنی گرفت مضبوط بنانا چاہتا ہے. باوجودیکہ امریکہ فی الوقت افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کو اہمیت دے رہا ہے مگر امریکن تھنک ٹینک بہت پہلے اپنی پالیسی میں انڈیا کو خطے میں اہم اتحادی کا کردار دینے کا فیصلہ کرچکا ہے اس لیے اخیر کار امریکہ کا جھکاو انڈیا کی طرف ہی ہو گا

روس کا جنوبی ایشیا میں بدلتا کردار 

روس انڈیا کا سب سے بڑا اسلحہ کا سپلائر ہے اور روس اور انڈیا کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے. اکہتر کی پاک بھارت جنگ میں جب ساری دنیا پاکستان کیساتھ کھڑی تھی تب روس انڈیا کی پشت پر جنگ کے لیے سٹینڈ بائی کھڑا تھا. جس کی وجہ سے چائنہ سمیت کسی ملک کو مداخلت کی جرات نہ ہوئی تھی. انڈیا کو روس سے کونسل کا اجلاس روکنے کی بڑی امید تھی مگر روس خطے میں بدلتی ہوئی پوزیشنوں کی بدولت اپنی پالیسیوں کو بھی اپڈیٹ کرتا نظر آرہا ہے ویسے بھی روس کی پالیسیاں امریکہ کی پالیسیوں کو دیکھ کر ہی طے کی جاتی ہیں. اس لیے فی الوقت روس ماضی کی برعکس اپنا پلڑا بغیر کسی حیل و حجت  انڈیا کی جھولی نہیں ڈالنے جارہا. لیکن روس انڈیا کو مکمل ناراض کبھی بھی نہیں کرے گا

چین کا سی پیک منصوبہ اور جنوبی ایشیا کی سیاست 

چائنہ جہاں خطے میں پاکستان کا سٹریٹجک پارٹنر بن چکا ہے.اور اس کے کئی مفادات پاکستان سے وابستہ ہوچکے ہیں وہیں وہ انڈیا کو اپنے لیے مستقل خطرہ سمجھتا ہے. اور انڈیا کی حالیہ حرکت کو جارحانہ سرحدی پھیلاو کے طور پر دیکھ رہا ہے. اور وہ انڈیا کو کسی بھی قیمت پر کم از کم پرانی پوزیشن پر دھکیلنے کی ضرور کوشش کرے گا اور سیکیورٹی کونسل کے اس اجلاس کے انعقاد میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا ہے. مسلم امہ اور عالمی برادری سے مایوسی کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ نے چائنہ کا رخ کیا تھا. چائنہ نے جارحیت کی بجائے تنازعہ کو سلامتی کونسل لے جانے کا کہا. گو چائنہ تنازعہ پر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کرتا نظر آتا ہے مگر چائنہ خطے میں جنگ نہیں چاہے گا اور ایٹمی جنگ تو بالکل بھی نہیں. کیونکہ اس سے چائنہ کی سی پیک سمیت علاقے میں کی گئی ساری منصوبہ بندی ون بیلٹ ون روٹ کھٹائی میں پڑ جائے گی. اس لیے چائنہ عالمی رائے عامہ سے آگے جاکر کسی بھی قسم کے ایڈوینچر کی حمایت نہیں کرے گا. اور ممکنہ حد تک پاکستان کو بھی روک کر رکھے گا. تآنکہ انڈیا خود ہی کوئی جلد بازی نہ کردے

بھارت کی جنوبی ایشیا میں پوزیشن 

انڈیا ایک بڑا ملک ہے دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹ ہے اور ایک معاشی اور عسکری طاقت بننے جارہا ہے . وہ پانچ سو ارب ڈالرز کی امپورٹز کرتا ہے اور گزشتہ برس اس نے سو ارب ڈالرز کا اسلحہ خریدا ہے. بڑے بڑے ممالک کے اس کیساتھ گہرے مفادات وابستہ ہیں اس لیے حتمی طور پر وہ اسی کا ساتھ دیں گے. یہاں سے اندازہ لگائیں روس اور اسرائیل ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں مگر انڈین سپورٹ میں ایک پیج پر ہیں انڈیا دونوں سے اربوں ڈالرز کا اسلحہ خریدتا ہے اور دونوں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ملک ہیں. روس اکہتر میں اپنی سپورٹ کا حق ادا کرچکا جبکہ اب اسرائیل یہ حق ادا کرنے کےلیے بڑی شدت سے پاک بھارت جنگ کا انتظار کررہا ہے. ایران سعودی عرب ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں مگر انڈیا کیساتھ دونوں کے مفادات ایک جیسے ہیں. انڈیا دونوں سے تیل خریدتا ہے. دو ہزار تیس کے بعد  سے تیل کی عالمی منڈی میں بیکری گھٹنا شروع ہوجائے گی اس لیے ہر تیل بیچنے والا ملک چاہتا ہے کہ وہ جلد از جلد تیل سے کمائی کرلے ایسے ایمرجنسی حالات میں یہ ممالک کبھی بھی اپنے بڑے گاہک کو ناراض نہیں کریں گے. اس کے علاوہ انڈیا عرب امارات عراق اور انڈونیشیا سے بھی بہت امپورٹز کرتا ہے وہ بھی اپنے گاہک کو ناراض نہیں کریں گے. آجاکہ مسلم ممالک میں سے ایک ترکی پاکستان کی اخلاقی حمایت کرے گا

بھارت کا کشمیر پر موقف 

انڈیا پچھلے پانچ سال سے کشمیر کو اپنی یونین بنانے کی پلاننگ کررہا تھا. اور اس کے لیے وہ سیر حاصل سفارت کاری بھی کرچکا تھا جس کی عمدہ مثال اس کے اس جارحانہ عمل پر مسلم ممالک کا ردعمل تھا. انڈیا میں درجنوں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں. کشمیر میں پسپائی کو انڈیا ان درجنوں تحریکوں کی پسپائی تصور کرے گا. انڈیا ایک بڑا ملک ہے دنیا کی بڑی طاقتوں کے اس کیساتھ مفادات وابستہ ہیں اس لیے انڈیا اس چیز کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا اور اس کے برعکس پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین معاشی بدحالی سے گزر رہا ہے اور ملک ملک سے گھوم گھوم کر مانگی جانیوالی امداد نے اس کی رہی سہی عزت کا دیوالیہ بھی نکال کر رکھ دیا ہے. ان تمام باتوں کے مدنظر انڈیا ایل او سی سے پیچھے بمشکل ہی جائے گا بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ مزید جارحانہ رویہ اپنائے اور پاکستان پر مزید دباو بڑھائے تاکہ اصل مسئلہ سے توجہ ہٹائی جا سکے. کیونکہ مودی سرکار کو ووٹ اکھنڈ بھارت اور نیشنلزم کے نام پر ملا ہے

پاکستان کشمیر پر کہاں کھڑا ہے؟

پاکستان نے بہتر سال کشمیر کاز پر اپنے ملک کی پالیسیوں کو چلایا ہے عوام کو بھوکا رکھ کر کشمیر کاز کو زندہ رکھا ہے. کشمیر کی قیمت پر اپنا آدھا ملک (بنگلہ دیش) گنوا دیا.انڈیا سے کشمیر پر تین بڑی جنگیں کرچکا اور ایل او سی اور سیاچین کو لے کر تو ہمیشہ سے ہی بارڈر پر حالت جنگ میں ہے. جب تک شیخ عبداللہ (قیدو بند) زندہ تھے پاکستان کشمیر پر اپنا کیس کمزور سمجھتا رہا. مگر بعدازاں عسکری جدوجہد وغیرہ کے بعد پاکستان انڈیا پر بتدریج دباو بڑھانے میں کامیاب رہا ہے اور حال ہی میں پلوامہ واقعہ کے بعد تو ہوائی جنگ کا ٹریلر بھی ہو چکا ہے جس میں بہرکیف پاکستان ائیر فورس انڈیا ائیر فورس پر قوی طور پر غالب رہی اور انڈیا کو اپنی دفاعی صلاحیت اور خاص کر ہوائی طاقت میں کمی کا نہ صرف شدید احساس ہوا بلکہ اعلیٰ سطح پر اس کا اعتراف بھی کیا گیا اور مزید جدید جنگی جہاز خریدنے کے لیے حکومتی مہم بھی چلائی گئی. اب جبکہ انڈیا نے ایک انتہائی قدم اٹھا لیا ہے تو پاکستان کے پاس اب کچھ زیادہ آپشن نہیں بچے. اس وقت پاکستان مسئلہ کے حل کے لیے اپنی سی کوششیں کرتا ضرور نظر آتا ہے مگر وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ عالمی برادری اس کی خاطر انڈیا پر بھرپور دباو ڈالے اور اسے کسی متوازن حل کے لیے راضی کرپائے. اور نہ ہی موجودہ حالات میں پاکستان روایتی جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے. جبکہ ایٹمی جنگ دونوں ممالک کے لیے خود کشی سے کم نہیں ہے. اسی لیے شاید کسی نے خدا کی لاٹھی کی بات کی ہے. اور معاملہ خدا پر چھوڑنے کی طرف اشارہ کیا ہے

اقوام متحدہ اور کشمیرکی قرار دادیں 

اقوام متحدہ کی اس مسئلہ پر اپنی قراردادیں موجود ہیں جن کو یکسر نظر انداز کرنا بذات خود اس کی کریڈیبیلیٹی کے لیے چیلنج ہو گا. جبکہ موجودہ حالات میں ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے انڈیا کو راضی کرنا اس سے بھی بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے. اس لیے درون خانہ امید ہے کہ پاکستان کو ہی قربانی دینے کے لیے راضی کیا جائے گا جس طرح ماضی میں پاکستان کو اپنے دریاوں سے دستبردار ہونے کے لیے راضی کیا گیا تھا. اور ساتھ ہلکی پھلکی مالی امداد بھی کی جاسکتی ہے

آخر کشمیر کا حل کیا نکلے گا؟

کشمیر کے مسئلے کے زمینی حقائق 

زمینی حقائق کے مدنظر کشمیر کی آزادی کسی معجزے سے کم نظر نہیں آتی. مگر دونوں ملکوں کا بیک وقت ایٹمی طاقت ہونا پاکستان کی فیور میں جاتا ہے کیونکہ بہرکیف اقوام عالم کبھی بھی نہیں چاہیں گئی کہ کوئی ایٹمی ایڈوانچر ہو.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں